تحریر: اظہر عباس
ایران اور اسرائیل کی جنگ صرف اسلحے اور جوہری طاقت کی جنگ نہیں، بیانیہ کی بھی جنگ ہے۔ جنگوں کے میدان میں جو جیت ہار ہوتی ہے وہ وقت کے ساتھ بدل جاتی ہے، مگر جو بیانیہ جیت جائے وہ آنے والے وقت کے ضمیر کو یرغمال بنا لیتا ہے۔ اور یہی اصل ہتھیار ہوتا ہے. صہیونیت نے اسی ہنر میں مہارت حاصل کر رکھی ہے۔ ایک ہاتھ میں جارحیت، دوسرے میں مظلومیت کا پرچم، اور لبوں پر امن کی فریب دہ مسکراہٹ۔ اسرائیل نے اپنی جوہری طاقت کو مظلومیت کی ایسی مضبوط چادر میں لپیٹ رکھا ہے اور اقوامِ عالم کو یقین دلایا ہوا ہے کہ یہ ردا اگر چھن جائے تو ان کی صدیوں پر محیط ‘مظلومیت’، ان کی تاریخ اور ان کا مستقبل سب خطرے میں پڑ سکتے ہیں۔ یہ وہ بیانیہ ہے جسے غیرمعمولی مہارت سے پروان چڑھایا گیا—ہر اسٹیج، ہر عالمی فورم، ہر میڈیا چینل پر اسے ایسا راسخ کیا گیا کہ وہ سچ معلوم ہونے لگا۔ مظلومیت کے بیانیہ کی آبیاری یہودیوں نے نہ صرف اپنے تمام تر وسائل سے کی ہے بلکہ اپنے اجتماعی جذبات اور صدیوں کے دکھوں کو بھی اس کی بنیادوں میں جذب کیا ہے تا کہ جب بھی تاریخ پڑھی جائے اسی بیانیہ کے ساتھ پڑھی جائے۔
اسی بیانیے کی بنیاد پر اسرائیل 1968 میں ہونے والے جوہری عدم پھیلاؤ کے عالمی معاہدے (NPT) پر دستخط کرنے سے انکاری رہا اور (CTBT) جیسے اقدامات سے آسانی سے دامن بچا لیا۔ اسی طرح، جب ایران نے بین الاقوامی ایٹمی توانائی ایجنسی (IAEA) کو اپنے جوہری پروگرام کی نگرانی کی باقاعدہ اجازت دی، تو اسرائیل نے اس عالمی ادارے کو کبھی تسلیم ہی نہیں کیا۔ وہ معاہدے جو ایران جیسے ممالک نے بین الاقوامی شفافیت کے تحت قبول کیے، اسرائیل نے ان کے وجود ہی سے آنکھ چُرا لی۔ مگر چونکہ اس کا نام “مظلوم” فہرست میں درج ہے، اس کا ہر قدم “تحفظ” کہلاتا ہے اور ہر حملہ “دفاع”۔
اسرائیل کا یہ دہرا معیار اب کوئی راز نہیں رہا، مگر افسوس یہ ہے کہ اسے دنیا کی جانب سے وہ گرفت کبھی محسوس نہیں ہوئی جو کسی اور ریاست کو لمحہ بھر میں عالمی پابندیوں کا شکار بنا دیتی ہے۔ اس کی وجہ یہی ہولوکاسٹ کی راکھ سے ابھرنے والا مظلومیت کا بیانیہ ہے جو اتنا مؤثر، اتنا جذباتی، اور اتنا منظم ہے کہ اس نے عالمی طاقتوں کے ضمیر کو قید کر لیا ہے۔ یہ صیہونی بیانیہ کا اثر ہے کہ دنیا غزہ کے مظلوموں کی چیخیں سننے سے پہلے حملہ آور دہشت گرد ریاست کی آہیں گننے لگتی ہے۔ مغربی طاقتیں، جو انسانی حقوق کی علمبردار بن کر عالمی افق پر ابھرتی ہیں، اس صہیونی بیانیے کی بقا کے لیے اس قدر وابستہ ہو چکی ہیں کہ انصاف کی بات کرنا بھی ان کے لیے مفاداتی توازن بگاڑنے کے مترادف بن چکا ہے، اور یہی مفاد پرستی اُن کی منافقت کا اصل سرچشمہ ہے۔
تاریخ میں یہ پہلا موقع نہیں کہ کسی زہریلے بیانیے نے دنیا کو اندھا کیا ہو۔ 1933 سے 1945 تک، ایڈولف ہٹلر کے زیرِ قیادت جرمنی میں نازی بیانیہ ابھرا، جو نسلی برتری، قوم پرستی اور آریائی نسل کی عظمت کے خمار میں ڈوبا ہوا تھا۔ اس بیانیے نے صرف ایک نسل کو نسل پرستی کے نشے میں مدہوش نہیں کیا، بلکہ پوری دنیا کو دوسری عالمی جنگ کے عذاب میں جھونک دیا۔ نازیوں نے یہودیوں کو اپنی قومی شکست، معاشی زوال اور سماجی بگاڑ کا ذمہ دار ٹھہرایا، اور اس پروپیگنڈے کے زیرِ اثر لاکھوں یہودیوں کو ان کی سرزمینوں سے بے دخل کر کے اذیت ناک انجام سے دوچار کیا گیا۔
ستم ظریفی یہ ہے کہ انہی مظالم کے متاثرین نے بعد ازاں ایک ایسا بیانیہ تراشا، جو بظاہر نازی بیانیے کے بالکل برعکس دکھائی دیتا ہے۔ نازی بیانیہ طاقت، غرور اور برتری کے نعروں پر کھڑا تھا، جبکہ صہیونی بیانیہ خود کو مظلوم، محصور اور دنیا کا ستایا ہوا ظاہر کرتا ہے۔ مگر ان دونوں بیانیوں کا باطنی جوہر ایک جیسا ہے — دونوں اپنی اپنی شناخت کی بالادستی قائم کرنے کے لیے دوسروں کی شناخت، حق اور وجود کو مٹانے پر یقین رکھتے ہیں۔ ایران جیسی ہر آواز جو اس بیانیے کی مخالفت کرتی ہے، اسے خاموش کر دیا جاتا ہے۔ یوں گویا ایک بیانیے نے ایک قوم کو مٹایا، اور دوسرے بیانیے نے اس مٹائے جانے کا بدلہ پوری دنیا سے لینے کی راہ اپنائی۔ دونوں بیانیے، اگرچہ ظاہری طور پر ایک دوسرے کے مخالف لگتے ہیں، مگر حقیقت میں ایک ہی سکہ کے دو رخ ہیں — ایک بیانیہ جو نفرت سے پیدا ہوا اور دوسرا جو نفرت سے زندہ ہے۔
ایران اس وقت مکمل طور پر اسی صہیونی بیانیے کی زد میں ہے۔ اسرائیل کی جانب سے حالیہ حملے، جن میں ایران کی جوہری تنصیبات، عسکری تنصیبات اور سفارتی مشن نشانہ بنے، عالمی ضمیر پر ہلکی سی دستک بھی نہ دے سکے۔ حملوں کے بعد اسرائیل نے اپنی مظلومیت کے پرانے بیانیے کو از سرِ نو ترتیب دیا، نیتن یاہو سمیت دیگر سیاسی شخصیات کے بیانات کو سوشل میڈیا پر اسپانسرڈ ایڈز کی صورت میں اس طرح پھیلایا ہے کہ دنیا کی نظر اصل ظلم تک پہنچنے سے پہلے ہی اسے پس منظر میں دھکیل دیا جائے، اور نگاہیں صرف صہیونی بیانیے پر ٹکی رہیں۔ ایران نے ردِعمل دکھایا، تو بین الاقوامی میڈیا میں ہنگامہ برپا ہو گیا۔ وار بھی اسرائیل کا تھا اور واویلا بھی۔ مقصد صرف ایران کی ایٹمی خودمختاری کو ختم کرنا نہیں، بلکہ اس کے انقلابی نظریے کو دبانا بھی ہے — وہ نظریہ جو اسرائیلی تسلط کے خلاف کھڑا ہے، جو مزاحمت کو جرم نہیں، فطری ردِعمل سمجھتا ہے۔ ایران کا قصور یہ نہیں کہ وہ جوہری طاقت بننا چاہتا ہے، بلکہ یہ ہے کہ وہ اسرائیلی طاقت کے سامنے سر جھکانے سے انکاری ہے۔
افسوسناک امر یہ ہے کہ اس جنگ میں عرب دنیا کا کردار پہلے تماشائی اور پھر تائید کنندہ کا رہا۔ کئی عرب ریاستیں اسرائیلی پرچم کو تسلیم کر چکی ہیں۔ وہ فلسطینی کاز تو کب کا فراموش کر چکے، مگر اب ایران جیسے ملک کو بھی اسرائیلی مفادات کی راہ میں رکاوٹ سمجھ کر اس کے خلاف صف آرا ہو چکے ہیں۔ خلیجی اتحاد، سفارتی بیانات، اور بعض عرب چینلز کا بیانیہ، سب ایک ہی مرکز کی طرف اشارہ کرتے ہیں۔ ، چاہے شعوری طور پر ہو یا محض خوف و مصلحت کے زیرِ اثر، عرب ریاستیں جو اسرائیل کی سفارتی ہمراہی کرتی رہی ہیں، دراصل صہیونی بیانیے کو اپنے علاقوں میں تقویت دیتی رہی ہیں۔ یہی ریاستیں ایران کے جوہری حق کو شک کی نظر سے دیکھتی ہیں، مگر اسرائیل کے خفیہ ایٹمی ذخیرے پر ان کی زبان بند، آنکھیں اندھی اور ضمیر خاموش ہے۔
تاہم، تاریخ کا پہیہ اب کچھ مختلف رخ پر چلنے لگا ہے۔ عرب دنیا میں وہ ریاستیں جو کل تک اس بیانیے کی تائید کرتی دکھائی دیتی تھیں، اب مجبوری یا شعور کے تحت اس کے مخالف رخ پر کھڑی ہونے پر مجبور نظر آ رہی ہیں۔ حالیہ دنوں میں سعودی عرب کی جانب سے ایران کی جزوی حمایت اسی بدلے ہوئے منظرنامے کی ایک جھلک ہے۔ یہ ایک حوصلہ افزا قدم ضرور ہے، مگر ناکافی۔ صرف خاموش حمایت سے نہ تو ایران محفوظ ہوگا، نہ صہیونی عزائم کو روکا جا سکے گا۔ مذہبی منافرت کو ایک طرف رکھتے ہوئے عرب دنیا کو الفاظ کے پردے سے نکل کر عملی اقدام کی طرف آنا ہوگا۔ اور سب سے اہم، انہیں ایک نیا فکری اور نظریاتی بیانیہ تشکیل دینا ہوگا جو نہ صرف صہیونی بیانیے کا توڑ ہو، بلکہ مسلم دنیا کی اجتماعی شناخت کو بھی اجاگر کرے۔
یہی اصل ضرورت ہے۔ اور اس وقت حالات ایک ایسے جوابی بیانیے کی تشکیل کے لیے نہایت سازگار ہیں جو نہ صرف صہیونی دعووں کی نفی کرے بلکہ مظلوموں کی سچائی کو عالمی ضمیر کے سامنے پوری قوت سے اجاگر کر سکے۔ جو صرف ردِعمل نہ ہو، بلکہ ایک فکری اور تہذیبی پیش رفت ہو۔ ایسا بیانیہ جو امت مسلمہ کی وحدت، عزت اور خودمختاری کا مظہر ہو۔ جو دنیا کو بتا سکے کہ مزاحمت جرم نہیں، اور نہ ہی اسرائیلی مظلومیت کی جعلی قبا سچ کی جگہ لے سکتی ہے۔ ایک ایسا بیانیہ جو اسلاموفوبیا اور صہیونیت کی گٹھ جوڑ کو بے نقاب کرے، اور دنیا کو یہ باور کرا سکے کہ انصاف کسی ایک نسل، مذہب یا قوم کی جاگیر نہیں۔
یاد رہے کہ میزائل سرحدوں کی حفاظت تو کر سکتے ہیں، مگر شناخت کی نہیں — اس کے لیے بیانیہ ہی واحد ہتھیار ہے۔ اور اکیلا ایران یہ بیانیہ تشکیل نہیں دے سکتا۔ اسے اس کام کے لیے مسلم دنیا کی ضرورت ہے۔