ادراک،جسٹس (ر) سید منظور حسین گیلانی
فیلڈ مارشل عاصم منیر امریکی صدر کے سرکاری ظہرانے کی دعوت پہ حکومتی نمائندے کے طور نہیں بلکہ پاکستان کی بری افواج کے کمانڈر انچیف کے طور مدعو تھے – پریس میں آنے والی خبروں کے مطابق پاکستان کی منتخب حکومت کا کوئی نمائندہ اس ظہرانہ میں شامل نہیں تھا جبکہ امریکی صدر کے ساتھ منتخب حکومت کےمتعلقہ وزیر بھی موجود تھے .امریکی حکومت نے اس حقیقت کا انتہای دانشمندی سے ادراک کیا کہ پاکستان جیسے اہم ملک کا نظم و نسق چلانے میں فوج کا کلیدی اور ایک لحاظ سے حتمی کردار ہے جو پاکستان کی سیاست دانوں کے عدم آہنگی اور عدم برداشت کی وجہ سے نہیں ہے . اس کے زمہ دار حکومت کرنے والے اور حکومت سے باہر سارے سیاست دان شامل ہیں . اس طرح پاکستانی سیاسی حکمرانوں کو ان کی اوقات بھی دکھائی ہے .افواج پاکستان حکومت کی فوجی بیورو کریسی کا حصہ ہیں جن کو اپنے اپنے فیلڈ میں مکمل خود مختاری حاصل ہے اور سیاست سے بالا تر ہوکر فیصلے بھی کرتے ہیں .
جبکہ سول بیورو کریسی سیاسی حکومتوں میں سیاسی جماعتوں کی عدم آہنگی کی وجہ سے کمزور ترین بیورو کریسی ہے جو سیاست دانوں کے ہاتھوں پٹنے اور یرغمال ہونے کی وجہ سے مقتدر سیاسی جماعت کی یر غمال ہے اس لئے ان کی سیاست دانوں نے کوئی ساکھ نہیں چھوڑی .پاکستان کی فوج کے کمانڈر انچیف افوج پاکستان کے سارے شعبوں کے نمائندہ ہیں صرف بری فوج کے نہیں.میرے خیال میں حفظ مراتب protocol کے لحاظ ے بھی بری فوج کے سربراہ پہلے نمبر پر آتے ہیں . یہ پاکستانی فوجوں کے سارے شعبوں کا اعزاز ہے ، صرف بری فوج کے سربراہ یا فیلڈ مارشل عاصم منیر کا نہیں .
ہندوستان کے ساتھ چار پانچ دن کی محدود لیکن موثر جنگ میں افواج پاکستان نے ہندوستان جیسے بڑے ، بہ زعم خود مضبوط فوجوں کی جو دھول چٹوائی ہے یہ پاکستان کے لئے بھی ہوش رباء واقعہ تھا. بیرونی دنیا کی تو بات ہی نہیں جن کے پاس ملکوں کی طاقت کا پیمانہ قومی ذخائر ، فوج کی تعداد اور طاقت ، آمدن ، بیرونی تجارت ، ، ملکی سیاسی اتحاد ، سفارتی اثر ورسوخ وغیرہ ہوتے ہیں ، جن میں ہندوستان کا تو مقابلہ ہی نہیں لیکن جس جذبے ، لگن ، محنت ، چابک دستی ، سرعت ، بر وقت اور برابر کا ہی نہیں، اس سے کئی گنا زیادہ جواب دیا ، اس نے دنیا کی پاکستان کے بارے میں سوچ ہی بدل کے رکھ دی . اتنی ہی سرعت کے ساتھ ہندوستان کی کمزوری اور نالائقی نے دنیا کو حیران کردیا ہے .
اسی طور دنیا کے عملی طور “بے تاج “ لیکن “ نا قابل اعتماد “ بادشاہ نے بھی متاثر ہوکر اس ملک کی فوج کے سربراہ کے ساتھ ملنا اس کی میزبانی کرنا اپنے لئے اعزا قرار دیا .میرا گمان ئے صدر ٹرمپ نے ایک تیر سے دو نشانے لگائے ایک تو پاکستان کے جنرل کی پذیرائی کرکے پاکستان کا اس خطے میں اپنا ساتھی چنا ، ضروری نہیں کہ یہ دائمی عمل ہو البتہ دوسرا گمان دائمی لگتا ہے کہ ہندوستان کو ان کے نخروں اور دادا گیری دکھانے کی سزا اور تحقیر کے طور ان کی اوقات یاد دلائی ہے جس کی وجہ سے ان کے سینے پہ وقتی طو ر معنگ دل دئے ہیں .
ٹرمپ صاحب نے ہندوستان اور پاکستان میں جنگ بندی کا کریڈٹ بھی اپنے کھاتے میں ڈالا ہے جس کو نہ مودی نگل سکتا ہے نہ تھوک سکتا ہے اس وجہ سے اس پر اس کے منہ پہ تالا لگ گیا ہے . اس دوران کشمیر کے مسئلے کے حل کا ذکر کر کے ہندوستان کی زخموں پر نمک بھی چھڑک دیا. 1972 سے منجمد مسئلہ شعلہ بن کے سامنے آیا ہے . یہ بھی ہندوستان کی ہزیمت اور پاکستان کی فتح اور کشمیریوں کی تشفی ہے . بہر حال وقتی طور ان حالات میں یہ اعزاز پاکستان کا ہے اور مجھے یقین ہے کہ فیلڈ مارشل عاصم منیر بھی یہی سمجھتے ہونگے اور سمجھنا چاھئے بھی .
گوکہ یہ ملاقات اسرائیل ایران جنگ سے پہلے کی طے شدہ تھی اور وقت ملاقات “ بھی ایک گھنٹہ” طے شدہ تھا لیکن ان نازک ترین گھڑیوں میں “ صدر امریکہ اور پاکستان کے سرکاری افسر “ کی ملاقات دو گھنٹوں پہ محیط ہوگئی . چونکہ اندر کی کوئی بات سامنے نہیں آئی. اس لئے قیاس آرائیوں پر تبصرہ نہیں ہوسکتالیکن ملاقات کی افادیت ، اہمیت اور زیر بحث موضوعات کا اقرار ،اعادہ اور اعلان امریکہ کے صدر نے خود کیا اس لئے دعا ہے کہ اللہ کرے اس کے نزدیک اور دور رس اثرات اور نتائج پاکستان ، پاکستانی مفادات اور ایران کے لئے بہترین اور ہماری جائز امنگوں کے مطابق مرتب ہوں . آمین