تحریر: ڈاکٹر راجہ زاہد خان(دفاعی و سیاسی تجزیہ کار ،مظفرآباد، آزاد کشمیر)
امریکہ نے بالآخر وہ انتہائی قدم اٹھا لیا جس کی بازگشت کئی ہفتوں سے عالمی میڈیا، سفارتی حلقوں اور تھنک ٹینکس میں سنائی دے رہی تھی۔ ایران کے جوہری پروگرام کی تین اہم تنصیبات پر GBU-57 بموں کی مدد سے حملہ، دراصل ایک عسکری کارروائی سے کہیں بڑھ کر ایک عالمی پیغام ہے۔ ایران کا دعویٰ ہے کہ وہ ان سائٹس کو پہلے ہی خالی کر چکا تھا، لیکن امریکی نکتۂ نظر سے یہ کارروائی محض تنصیبات کی تباہی نہیں بلکہ ایران کو سیاسی و عسکری طور پر تنہا کرنے اور دنیا پر اپنی فیصلہ کن طاقت جتانے کی ایک علامتی کوشش تھی۔
اس لمحے دنیا ایک بار پھر اس موڑ پر کھڑی ہے جہاں ایک چنگاری، پوری تہذیبوں کو خاکستر کر سکتی ہے۔ مشرقِ وسطیٰ میں جنگ کی بو واضح ہو چکی ہے، اور ایران کسی مرحلے پر اس حملے کا جواب ضرور دے گا۔ یہ جواب کہاں، کب اور کس شدت سے آئے گا، یہ وقت کے دامن میں چھپا ہے، لیکن اگر یہ جواب براہ راست امریکی مفادات یا اسرائیل کے خلاف آتا ہے تو بڑی جنگ ناگزیر ہو جائے گی۔ اس صورت حال میں پاکستان کا کردار ایک نازک توازن پر مبنی ہونا چاہیے، جیسا کہ حالیہ برسوں میں فیلڈ مارشل جنرل حافظ عاصم منیر کی قیادت میں عسکری قیادت نے اپنایا ہے۔ پاکستان کو کسی عسکری اتحاد کا حصہ بننے سے بچتے ہوئے، ایک معتدل، مگر باوقار سفارتی مؤقف اختیار کرنا ہو گا۔ ایران کے ساتھ سیاسی ہمدردی اور اسرائیلی و امریکی جارحیت کی مذمت ایک اصولی مؤقف ہے جسے دنیا کے سامنے مؤثر انداز میں پیش کرنا ہو گا۔
پاکستان کو فوری طور پر اسلامی تعاون تنظیم (OIC) کے ہنگامی اجلاس کی تجویز دینی چاہیے تاکہ مسلم دنیا کم از کم سفارتی سطح پر متفقہ مؤقف اختیار کرے۔ سعودی عرب، ترکی، قطر، انڈونیشیا اور ملائیشیا جیسے ممالک کو یہ باور کرانا ہوگا کہ اگر آج ایران تنہا رہ گیا تو کل یہی آگ شام، لبنان، پاکستان یا کسی اور مسلم ریاست کو اپنی لپیٹ میں لے سکتی ہے۔ پاکستان ایک مرتبہ پھر ایران اور سعودی عرب کے مابین ثالثی کے کردار کو بحال کر سکتا ہے تاکہ خطے میں مذہبی، سیاسی اور اسٹریٹیجک تقسیم کو کم کیا جا سکے۔
بھارت اور اسرائیل کی بڑھتی قربت، اور موساد و “را” کے مشترکہ آپریشنل نیٹ ورکس پاکستان کے لیے ایک فوری خطرہ بن چکے ہیں۔ بھارتی قیادت اس کشیدگی کا فائدہ اٹھا کر مشرقی سرحد پر محدود مہم جوئی یا سائبر حملوں کی راہ اختیار کر سکتی ہے۔ پاکستان کو اپنے جوہری، فضائی اور سائبر دفاعی نظام کا فوری جائزہ لے کر انہیں جدید خطوط پر استوار کرنا ہو گا۔ اس کے ساتھ ساتھ انٹیلی جنس اداروں کو داخلی سیکیورٹی کے پہلو سے مکمل متحرک اور مربوط رہنا ہو گا۔
اس صورتحال میں چین، روس اور شمالی کوریا کے ساتھ پاکستان کے اسٹریٹیجک تعلقات بھی ایک نیا رخ اختیار کر رہے ہیں۔ چین اور روس پہلے ہی امریکی حملے کی مخالفت کر چکے ہیں، اور پاکستان کے لیے ان طاقتوں کے ساتھ اپنے تزویراتی تعلقات کو مزید مضبوط کرنے کا یہ مناسب وقت ہے۔ سی پیک کی سیکیورٹی، بلوچستان میں بھارتی مداخلت، اور ایران سے منسلک سرحدی علاقوں میں استحکام، فوری توجہ کے متقاضی ہیں۔ شمالی کوریا کے ساتھ ممکنہ ٹیکنالوجیکل اشتراک کو عالمی ضوابط کے تحت وسعت دی جا سکتی ہے تاکہ پاکستان کی دفاعی خودانحصاری کو تقویت ملے۔
داخلی سطح پر پاکستان کو سیاسی انتشار، معاشی دباؤ اور نظریاتی تقسیم سے فوری طور پر نکلنے کی ضرورت ہے۔ یہ وقت کسی بھی سیاسی کشمکش کا نہیں، بلکہ قومی یکجہتی اور ہم آہنگی کا ہے۔ سیاسی قیادت، عسکری ادارے، میڈیا اور مذہبی طبقات کو ایک بیانیے پر متفق ہونا ہوگا، جو امن، خودمختاری اور باوقار قوموں کی صف میں پاکستان کی حیثیت کو اجاگر کرے۔ جنرل عاصم منیر کی قیادت میں عسکری اداروں کو عوامی اعتماد کے تسلسل کو برقرار رکھتے ہوئے، سیاسی عملداری کے ساتھ ایک مضبوط اور ہم آہنگی پر مبنی اشتراک پیدا کرنا ہو گا تاکہ ریاستی سطح پر کوئی خلا پیدا نہ ہو۔
عالمی سطح پر پاکستان کو اقوام متحدہ، او آئی سی، شنگھائی تعاون تنظیم، اور علاقائی تنظیموں کے ذریعے مؤثر سفارتکاری کرنی چاہیے، تاکہ دنیا کو باور کرایا جا سکے کہ فوجی حملے کسی مسئلے کا حل نہیں۔ پاکستان ایران اور امریکہ کے درمیان بیک چینل سفارتکاری میں بھی ایک غیر جانبدار ثالث کا کردار ادا کر سکتا ہے، جیسا کہ اس نے ماضی میں سعودی ایران کشیدگی میں کیا تھا۔
درحقیقت، ایران پر امریکی حملہ محض ایک فوجی کارروائی نہیں بلکہ ایک نظریاتی، اسٹریٹیجک اور عالمی بیانیے پر کاری ضرب ہے۔ اس ضرب کا جواب صرف میزائل یا بموں سے نہیں دیا جا سکتا، بلکہ متحرک، ذہین اور منظم قومی و عالمی پالیسیوں کے ذریعے دینا ہو گا۔ اگر پاکستان نے اب بھی خاموشی یا تذبذب کا مظاہرہ کیا، تو آنے والا نشانہ شاید خود پاکستان ہو۔
اب وقت ہے کہ پاکستان نہ صرف اپنے داخلی استحکام کو یقینی بنائے بلکہ عالمی سفارتکاری، مسلم امہ کی قیادت، اور اسٹریٹیجک دفاع کی نئی جہتوں میں قائدانہ کردار ادا کرے — ورنہ تاریخ خاموش رہنے والی اقوام کو کبھی معاف نہیں کرتی۔