آدمی سے ہے بے خبر آدمی

30

تحریر:رابعہ حسن
معروف ادکارہ عائشہ خان انتقال فرما گئیں ۔یہ خبر نہیں بلکہ خبر تو یہ ہے کہ معروف اداکارہ عائشہ خان کی نعش کو ہفتہ بھر بعد ہمسایوں نے دریافت کیا۔یہ خبر محض خبر نہیں۔سانحہ ہے۔نوحہ ہے ۔تہذیب کے زوال کا۔تمدن کے زوال کا۔یہ سانحہ ہے
رشتوں کی بے خبری کا ۔ان کی سنگ دلی کا۔

یہ بھی ایک سانحہ ہے کہ ہم گردوپیش میں رہنے والوں سے بے خبر ہو چکے ہیں اور اس حد تک ہو چکے ہیں ہفتہ گزرنے کے باوجود دوسرے کی کمی محسوس نہیں کر سکتے۔عائشہ خان کوئی بے اولاد نہیں تھیں بلکہ وہ دو بچوں کی ماں تھیں یقینا نانی اور دادی بھی ہوئی ہوں گی۔نئی تہذیب نے ان کی اولاد کو ان سے اس حد تک بے خبر کر دیا کہ وہ اپنی ماں کی تنہائی کی اذیت کو نہ جان پائے ۔

ہم اہل مغرب تو نہیں۔پھر ہم نے ان کا چلن کیسے اپنا لیا۔ہماری تہذیب میں تو ہمسائے کی بہت قدر و تکریم کی جاتی تھی۔
واے افسوس ہم اتنے بے خبر ہو گئے کہ ایک ضعیفہ تنہا جانکنی کے کس کرب و اذیت سے گزری ہوگی نہ جان سکے۔
افسوس اس پر اس بات کا اس ضعیفہ کی نعش گلتی سڑتی رہی .

ہم بے خبر رہے۔اولاد ماں کو فراموش کر چکی تھی تو کیا معاشرتی بھی اس بوڑھی خاتون کو فراموش کر چکا تھا؟کیا اس گھر کے دروازے پر گھنٹی بجانے والا کوئی نہیں جاتا ہو گا۔دودھ والا۔صفائی والی۔۔کام والی۔۔کوئی بھی نہیں۔یہ ہفتہ پرانی نعش مشرق میں پلنے والی مغربی تہذیب پر تازیانہ ہے۔

یہ سوال پوچھنے کی قطعا کوئی ضرورت نہیں رہی کہ کیاہمارے نئے عائلی نظام میں بزرگ بوجھ ہیں؟واقعی ہمارے نئے عائلی نظام میں بزرگ بوجھ ہیں۔ ہماری دنیا اتنی۔ گلوبلائز ہو چکی ہے کہ ہمیں اپنے بے فایدہ سے ہمسائے کا خیال تک نہیں ۔۔
ہم اس حد تک materialistic ہو چکے ہیں کہ کسی سے مفاد کا تعلق نہ ہو تو ہم س کی کمی تک محسوس نہیں کرتے۔
رہی بات انسانیت کی۔۔یا انسانی درد یا تعلق کی وہ تو عائشہ خان کی ہفتہ پرانی نعش چیخ چیخ کر اس کی دہائیاں دے رہی ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں