ریاستی عدلیہ میں اصلاحات ضروری ہیں نا کے خواہشات اہم

38

تحریر: سہیل اقبال اعوان ایڈووکیٹ
آزاد جموں و کشمیر کی عدلیہ اس وقت ایک غیر علانیہ مگر سنگین بحران سے گزر رہی ہے, اسٹیبلشمنٹ کی تقرریاں، ترقیابیاں، ججز کی تعیناتیاں، انتظامی معاملات میں بےقاعدگی، قانون کے بجائے شخصی رجحانات کی پیروی اور انصاف میں تاخیر جیسے عوامل نے نہ صرف عدالتی وقار کو متاثر کیا ہوا ہے بلکہ ادارے کی شفافیت پر بھی گہرے سوالات اٹھ رہے ہیں، یہی وجہ ہے کہ عوام کا اعتماد بھی رفتہ رفتہ متزلزل ہو رہا ہے۔

عدلیہ ریاست کا وہ بنیادی ستون ہے جس کی اولین ذمہ داری آئین و قانون کے دائرہ کار کا تحفظ اور نظام میں توازن قائم رکھنا ہے تاکہ ہر شہری کو بر وقت اور غیر جانبدار انصاف فراہم ہو اور کسی کو انگلی اٹھانے کا موقع ہی نہ ملے، اگر کہیں سوالات ہوں تو انہیں عہدے کی طاقت سے دبانے کے بجائے ان کے جوابات دئیے جائیں مگر بدقسمتی سے ہمارے ہاں عدلیہ بھی دیگر اداروں کی طرح کتابی اصولوں کے بجائے انفرادی خواہشات اور پسِ پردہ مفادات کے تابع دکھائی دیتی ہے جس کے نتیجے میں اقربا پروری، سیاسی مداخلت، داخلی کشمکش اور شفافیت کی کمی ایک طے شدہ حقیقت بن چکی ہے جس پر وکلاء برادری اور سول سوسائٹی دونوں اضطراب میں مبتلا ہیں۔

2018 میں تیرھویں آئینی ترمیم کے تحت شریعت کورٹ کو ختم کر کے اس کے اختیارات ہائی کورٹ میں شامل کرنا، اور ججز کی تعداد چار سے بڑھا کر نو کرنا بظاہر ایک تعمیری اقدام تھا۔ لیکن اس عمل کے بعد سامنے آنے والی صورت حال نے تنازعات کو مزید گہرا کر دیا اور ججز تعیناتیوں پر جموں کشمیر پیپلز پارٹی کے سربراہ سردار خالد ابراھیم خان نے شدید اعتراضات اٹھاتے ہوئے سیاسی تحریک شروع کر دی، جنہیں بعد میں عدالتوں کی کے ذریعے ہی سبکدوش کیا گیا جس سے اعتراض کو تقویت حاصل ہوئی، جسٹس منظور گیلانی تنازعے سے لے کر چیف جسٹس ایم تبسم آفتاب علوی کی تقرری کا فیصلہ اور اس کے بعد سپریم کورٹ کے چیف جسٹس کے خلاف محاذ آرائی اس کشمکش کا حصہ رہے جو تاریخ کا حصہ ہے، نتیجتاً اعلیٰ عدالتوں کے مابین عدم ہم آہنگی نے ادارے کے اندرونی ڈھانچے کو متزلزل کر دیا۔ حتیٰ کہ ایک وقت ہائی کورٹ میں صرف ایک قائم مقام چیف جسٹس خدمات انجام دے رہے تھے۔ اس ادارہ جاتی بحران نے عدلیہ کو شدید تنازعات اور بحرانوں کا شکار بنا دیا، اور عوام کے ذہنوں میں یہ سوال ابھرا کہ اگر ان کے تنازعات کے فیصلے کرنے والا ادارہ خود تنازع میں الجھا ہوا ہے تو ان کے مقدمات میں انصاف کی امید کہاں رکھی جائے؟

اگر اس وقت ذمہ داران سنجیدگی سے اس معاملے کا ادراک کریں اور عدلیہ میں ایک ایسا مستقل، شفاف اور قابلِ اعتماد نظام متعارف کرائیں جس میں ججز کی ریٹائرمنٹ کے ساتھ ہی نئی تعیناتی بروقت، واضح اور قانون کے مطابق ہو تو مستقبل میں ان تعیناتیوں پر اٹھنے والے سوالات کا تدارک ممکن ہے لیکن ہمارے ہاں اکثر ادارہ جاتی معاملات کو بدنیتی کے تحت دانستہ التواء کا شکار بنا کر کے الجھایا جاتا ہے تا کے کچھ لوگ اپنے زاتی و سیاسی مفادات حاصل کرنے کے لیے کسی من پسند شخص کو عہدہ دلا سکیں، اس روش سے نہ صرف اداروں کا وقار مجروح ہوتا ہے بلکہ ریاستی نظام میں غیر یقینی کی فضا جنم لیتی ہے۔

چونکہ ماضی میں ججز کی تعیناتیاں اکثر متنازعہ رہیں، اس لیے عدلیہ کی تشکیل اور تعیناتیوں کے موجودہ طریق کار میں بنیادی آئینی اصلاحات ناگزیر ہو چکی ہیں۔ وفاق میں 26ویں آئینی ترمیم کی روشنی میں، آزاد کشمیر میں بھی ایک خودمختار، نمائندہ اور شفاف عدالتی کمیشن کا قیام وقت کی اہم ضرورت ہے۔ اس کمیشن میں اعلی عدلیہ کے چیف جسٹسز، سینئر ججز، وزیرِ قانون، بار کونسل کے نمائندے اور اپوزیشن کے ایک رکنِ اسمبلی کو شامل کیا جائے تاکہ فیصلے ادارہ جاتی ہم آہنگی، پارلیمانی شراکت، عوامی امنگوں اور آئینی میرٹ کی بنیاد پر ہوں، نہ کہ ذاتی منشا، خفیہ ملاقاتوں یا محدود حلقوں کی پسند و ناپسند کے زریعے ہوں۔

حالیہ اطلاعات کے مطابق، نئے چیف جسٹس ہائی کورٹ نے سابق چیف جسٹس کے 26 انتظامی احکامات کو ججز کونسل کے ایک اجلاس میں منسوخ کر دیا۔ یہ اقدام عدالتی فیصلوں کے تسلسل، ادارہ جاتی نظم و ضبط اور داخلی استحکام پر سنگین سوالات اٹھاتا ہے جس سے یہ تاثر گہرا ہوتا ہے کہ عدالتی تقرریاں اور ترقیابیاں میرٹ کے بجائے زاتی پسند ناپسند کی بنیاد پر ہوتی ہیں اور احکامات شخصی رجحانات کے تابع ہوتے جا رہے ہیں، جس سے انصاف کی روح متاثر ہوتی ہے اور عوام میں پائے جانے والے شکوک و شبہات کو مزید تقویت ملتی ہے اس لیے اعلی عدالتوں میں عملے کی تقرریاں ججز کا نہیں بلکہ تھرڈ پارٹی ریکروٹنگ کے زریعے کی جائیں تا کے عدلیہ کی شفافیت پر انگلیاں نہ اٹھائی جا سکیں، عوامی ایکشن کمیٹیوں کی سطح پر بھی یہ سوال ابھرا ہے کہ عدلیہ کے بھاری بجٹ کے باوجود شہریوں کو اس کا فائدہ کیوں نہیں پہنچتا جو ایک حقیقت ہے۔

آج معاشرے میں یہ تاثر تقویت پکڑ رہا ہے کہ انصاف محض اثر و رسوخ رکھنے والوں کے لیے دستیاب ہے۔ یہ سوال نہایت سنجیدہ ہے کہ کیا ججز کی تقرریاں خالصتاً میرٹ، کردار، اور اہلیت کی بنیاد پر ہو رہی ہیں یا ان میں تعلقات، سیاسی وابستگی اور بعض اوقات مالی لین دین کا عمل دخل ہے؟ اگر عدلیہ جیسے اہم ادارے کی تشکیل ہی شکوک و شبہات سے بھرپور ہو، تو اس سے انصاف کی توقع کیسے رکھی جا سکتی ہے؟

اسی لیے ضروری ہے کہ ججز کی تعیناتیاں صرف اور صرف میرٹ، غیر جانبداری، اور قابلیت کی بنیاد پر ہوں تا کے عدلیہ میں نیچے تک تقرریوں میں شفافیت نظر آئے، ماضی میں سیاسی شخصیات اور اخباری رپورٹس میں اس بات کا ذکر ہوتا رہا ہے کہ بعض تعیناتیاں خالصتاً تعلقات، لین دین اور سفارش کی بنیاد پر کی گئیں، موجودہ ماحول میں یہ تصور بھی شدت سے پھیل رہا ہے کہ عدالتوں میں فیصلے کیس نہیں فیس(چہرہ) دیکھ کر کیئے جاتے ہیں جو عدلیہ کے بنیادی اصولوں اور انصاف کی نفی ہے۔ انصاف وہی معتبر ہوتا ہے جو قانون، شواہد اور دلیل پر مبنی ہو، نہ کہ چہرے اور تعلق پر۔

اس وقت آزاد کشمیر میں ہائی کورٹ کے ججز، چیئرمین سروس ٹربیونل اور اس کے ممبران کی تقرریوں پر بحث جاری ہے۔ بار کونسل کی جانب سے ان معاملات پر ردعمل سامنے آ چکا ہے، اور متعدد وکلاء ان عہدوں کے لیے سرگرم ہیں۔ تاہم میری رائے میں جو افراد ذاتی تعلقات یا وابستگیوں کے بل پر یہ مناصب حاصل کریں گے وہ کسی طرح بھی فکری و اخلاقی طور پر آزادانہ فیصلے نہیں کر سکیں گے کیونکہ جب تعیناتی کا حوالہ کسی فردِ واحد کی سفارش بن جائے، تو غیرجانبداری کی جگہ ممنونیت آ جاتی ہے، جو انصاف کو دھندلا دیتی ہے۔

اسی طرح مخصوص وکلاء کی ججز کے چیمبرز تک بلا روک ٹوک رسائی اور عدالتی عملے کی جانب سے دیگر وکلاء سے امتیازی سلوک، عدالتی مساوات کے اصولوں پر کاری ضرب ہے، اگر کچھ وکلاء کو ججز سے غیر رسمی ملاقات کا موقع ملے اور باقی صرف دلائل دینے تک محدود ہوں، تو یہ عدلیہ کی غیرجانبداری کو مشکوک بناتا ہے۔ اسی طرح ججز کا لہجہ، طرزِ کلام اور رویہ بھی عدالتی فضا پر اثرانداز ہوتا ہے۔ عدالت میں دلیل، استدلال اور قانونی تشریح ہی اصل معیار ہونے چاہئیں، نہ کہ جج کے مزاج کا اتار چڑھاؤ۔

یہ بات بھی اہم ہے کہ اصلاحات صرف تعیناتیوں تک محدود نہ رہیں بلکہ عدلیہ کے انتظامی نظام، مقدمات کے فیصلے کی رفتار، اور فیصلوں میں قانونی وسعت کو بھی شامل کریں، برسوں تک زیر التواء رہنے والے مقدمات انصاف نہیں بلکہ اذیت میں تبدیل ہو جاتے ہیں۔ جب ہر شہری کو بروقت، واضح اور قابلِ فہم انصاف ملے گا تو ریاست اور عدلیہ دونوں کا وقار بڑھے گا، اور سماجی سطح پر انصاف کا احساس بھی پیدا ہو گا۔
انصاف کا تقاضہ تو یہ ہے کے عدالتی عمارات کی تزئین و آرائش کے بجائے ان سکولوں کو ترجیح دی جانی چاہیے جہاں بچے دھوپ یا برف میں کھلے آسمان تلے بیٹھنے پر مجبور ہیں، جس مسجد میں صرف ایک وقت نماز ہو اس پر کروڑوں روپے لگانے سے زیادہ بہتر سکولوں اور ہسپتالوں پر پیسے لگانے کی ہے، عدلیہ شاندار عمارت کی محتاج نہیں بلکہ سماجی انصاف سے زیادہ معتبر کہلائے گی اس لیے ہمیں اپنی ترجیحات بدلنے کی ضرورت ہے اگر آزاد کشمیر میں ججز کی تعیناتی ایک خودمختار، شفاف اور میرٹ پر مبنی کمیشن کے ذریعے ہو، عدلیہ کے انتظامی فیصلے تسلسل سے ہوں، عدالتیں بروقت فیصلے دیں اور ہر شہری کو برابری کے ساتھ سنا جائے، تو یہ عدلیہ صرف فیصلوں کا ادارہ نہ رہے گی بلکہ انصاف، وقار، اور قانون کی حکمرانی کی عملی علامت بن جائے گی۔ ایسے ادارے ہی ریاستی استحکام اور عوامی اعتماد کے ضامن ہوتے ہیں۔ اب فیصلہ ہمارے ہاتھ میں ہے اصلاح کریں یا بداعتمادی کو مستقل تقدیر بننے دیں، تاریخ بدلے یا روایات برقرار رکھیں۔

میں بطور وکیل یہ بات ریکارڈ پر لانا چاہتا ہوں کہ یہ تحریر کسی فرد یا شخصیت کے خلاف نہیں بلکہ ادارہ جاتی بہتری، عدلیہ کے وقار، اور عوامی اعتماد کی بحالی کے جذبے سے لکھی گئی ہے۔ ہماری وابستگی کسی فرد، حکومت یا جماعت سے نہیں بلکہ آئین، انصاف اور قانون کی بالا دستی سے ہے۔ ہم چاہتے ہیں کہ آزاد کشمیر کی عدلیہ ایک ایسا ادارہ بنے جس پر نہ صرف ہر شہری کو فخر ہو بلکہ دیگر ادارے بھی اسے شفافیت، خود مختاری اور غیر جانبداری کا نمونہ سمجھتے ہوئے تقلید کریں، وہ وقت نہ آئے جب عوام عدلیہ سے بلکل ہی مایوس ہو جائیں۔ اگر آج نیت اور سمت درست کر لی جائے تو کل سب کا بھلا ہو گا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں