تحریر: ڈاکٹر سردار محمد طاہر تبسم
یہ وقت تھا جب تمام اسلامی بلاک کے 57 ممالک متحد ہو کر فلسطین، کشمیر ایران، یمن اور لبنان کے لئے مشترکہ طور پر میدان میں آکر ان کی ہر لحاظ سے مدد کرتے، اتحاد بین المسلمین کے جذبہ صادق کو جلاُ بخشتے اور اسلامی جذبہ جہاد کو دوام دیتے۔لیکن مقام افسوس ہے کہ عرب حکمران بے حسی کی دلدل میں پھنس کر رہ گے ہیں کہ ان کے شعورواگاہی آور مردانگی پر پہرے لگ گے ہیں اور ان کی سوچ و فکر معدوم ہو کے رہ گئی ہے وہ اللہ اور رسول خاتم النبین پر ایمان کی بجائے امریکہ و اسرائیل پر ایمان ہی میں اپنی عافیت اوراقتدار میں دوام سمجھ رہے ہیں۔
جو اسلامی ممالک اسراہیل اور امریکہ کو غزہ، یمن اور ایران میں میزائل اور بم برسانے کے لئے اپنے ممالک کےائیر پورٹ استعمال کرنے کی اجازت دے رہے ہیں ان کی انسانیت و غیرت پر ماتم ہی کیا جا سکتا ہے انہیں علم اور یقین ہونا چاہئے کہ اگلی باری ان کی ہو گی اور پھر امریکہ اور اسرائیل ان کے کسی کام نہیں آہیں گے۔ حیرت ہے کہ او آئی سی نے ان بے ایمان عرب ملکوں کے لئے کوئی ضابطہ و قانون کیوں نہیں بنایا جو چھوٹے اور گھٹیا ذاتی مفادات کے لئے غزہ اور ایران میں اپنے مسلمانوں کے لئے موت کا سبب بنے ہوئے ہیں۔
ان کی مذہبی و اخلاقی اقدار اور غیرت و حمیت کہاں دفن ہو گی ہے۔ یہ حکمران تو دنیا میں تیل کے عالمی اجارہ دار ہیں۔ پھر بھی دولت کے لئے ایسے منفی ہتھکنڈے استعمال کرنا توہین آمیز اور عبرت ناک عمل ہے۔ کیا انہیں علم نہیں کہ فلسطین انبیاُ کی سرزمین ہے جہاں مقدس جگہ بیت المقدس ہے جو قبلہ اوّل ہے اور جہاں رسول مقبول صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی اقتداُ میں تمام انبیاُ اکرام نے نماز ادا فرمائی تھی۔ فلسطین میں امریکہ کے بغل بچے اسراہیل اور جنوبی ایشیا میں اسراہیل کے ہم نوا بھارت نے کشمیر میں جو ظلم ڈھائے ہیں اس کی دنیا کی تاریخ میں کوئی مثال نہیں ملتی معصوم بچوں اور عفت ماب خواتین کو بے دردی کے ساتھ شھید کیا گیا۔
ہسپتالوں میں زخمی مریضوں اور مساجد پر بمباری کی گئی۔ جو لوگ بھوک سے بلک رہے تھے انہیں بھی شھید کیا گیا پچاس ہزار سے زاید معصوم شہریوں کو تڑپا تڑپا کے مار دیا گیا۔ خواتین کی عصمت دری کی جا رہی ہے یہی نہیں بلکہ بہادر یمن اور لبنان کو غزہ کے مسلمانوں کی حمایت کرنے کی بھاری قیمت ادا کرنی پڑی ہے۔ مصر اور اردن نے غزہ کے لئے آنے والی امداد پر بھی روڑے اٹکائے ہیں آخر یہ حکمران کیوں زرخرید غلام بن گئے ہیں۔ شاہ فیصل، آنور سادات،کرنل معمرقذافی، رفیق حریری اور صدام حسین تو ایسے لیڈر نہیں تھے ان کے جانشینوں کو کیا ہو گیا ہے۔ جو امریکہ اور اسراہیل کے نیچے سے اٹھتے ہی نہیں ہیں۔ ان عرب حکمرانوں کو ہوش کے ناخن لینے چاہئے اور اسلامی حمیت و غیرت کے ساتھ غزہ و ایران کے حق میں بھرپور یک جہتی کا مظاہرہ کرنا چاہئے یہ نہ ہو کہ جب ان پر مشکل کی گھڑی آئے جو بہت جلد آنے والی ہے تو وہ اپنے کئے پر ہاتھ ملتے رہ جاہیں اور کوئی مسلم و غیر مسلم ملک ان کی حمایت و مدد کے لئے نہ آئے۔
اسراہیل کی مدد کرنے والے ممالک دراصل صہونیت کو بچانے کے لئے ایسے بڑے جرم میں شریک ہیں جو اسلامی تاریخ پر بدنما داغ ہے جس کا ان کے مذہب اور قوم کو کوئی فاہدہ نہیں ہو سکتا۔ تاہم اس سے ان کا اپنا ذاتی مفاد ہو سکتا ہے نصف صدی سے امریکہ یواین اور سعودی عرب او آئی سی کو گروی رکھ کر اپنی مرضی کے فیصلے کروا رہا ہے۔ عرب لیگ کی کارکردگی کبھی نظر ہی نہیں آئی ان سب عرب حکمرانوں سے تو غیر مسلم ممالک لاکھ درجے بہتر ہیں جو غزہ کی بھرپور حمایت، سڑکوں پر مظاہرے اور ایران کی سرعام حمایت کر رہے ہیں۔ دجالی قوتیں پوری توانائی و قوت کے ساتھ میدان عمل میں اتر چکی ہیں یہ مسلمانوں کا کڑا امتحان ہے کہ وہ اسلام کی نشاط ثانیہ کا ساتھ دیں یا صہیونی دجالی طبقہ کا حصہ بنیں۔
کہا جا رہا ہے کہ امریکہ شاہ ایران کے بیٹے رضا پہلوی کو رجیم میں تبدیلی کے بعد ایران پر مسلط کرنے کیا منصوبہ بنا چکے ہیں جس میں مغربی مہرے اور کچھ عرب بادشاہ بھی شامل ہیں لیکن اب ایسا قطعی ممکن نہیں۔ آیت اللہ خمینی نے اسلامی انقلاب کے بعد ان یہودی ایجنٹوں سے ایران کو آزاد کرایا تھا اور ایران میں اسلامی اقدار کو بحال کیا اب امریکہ اسراہیل اور اس کے گماشتے انہیں دوبارہ ایران پر قبضہ کر کے یہودیوں کی کالونی بنانے کی ناکام کوششیں کر رہے ہیں لیکن انہیں اس بار بہت بڑی ناکامی کا سامنا ہو گا اب ایران طاقتور لیڈرشپ اور تقریباً” ایٹمی طاقت بن چکا ہے اسراہیل کو چند دنوں میں معلوم پڑ گیا ہوگا کہ ایران کے پاس جدید ٹیکنالوجی، معجزاتی میزائیل اور اللہ کی طاقت موجود ہے اسے زیر کرنا یا شکست دینا بالکل ممکن نہیں ہے۔ایران پر امریکہ کے حملے کے بعد ایران نے اسراہیل پر بمباری کر کے اس کا حلیہ بگاڑ دیا ہے اور یہ کام ہر روز نئی قوت کے ساتھ ہو رہا ہے۔ کہا جاتا ہے کہ چین، روس، ترکی اور پاکستان بھی ایران کی بھرپور حمایت میں سامنے آ گیا ہے۔
عرب ممالک میں امریکہ کے بیس ائیر بیس ہیں ایران نے امریکہ کی طرف سے حملہ کے بعد واضع اعلان کیا تھا کہ وہ امریکی اڈوں کو بھی نشانہ بنانے سے دریغ نہیں کرے گا- آخری اطلاعات یہ ہیں کہ ایران نے قطر، عراق اور شام میں امریکی اڈوں کو میزائلوں سے نشانہ بنایا ہے لگتا ہے کہ یہ جنگ پھیلنے کا خطرہ دن بہ دن بڑھ رہا ہے بڑی طاقتیں چین اور روس ہی اس سنگین معاملے کو ڈاہیلاگ کے ذریعے حل کرا سکتی ہیں یو این او یا او آئی سی کے بس کی بات نہیں ہے۔