“عدل و انصاف کا پیکر خلیفہ دوئم مُرادِ قلبِ نبیﷺ حضرت سیدنا عمر ابن خطابؓ”

65

تحریر:نعیم الحسن نعیم
یکم محرم الحرام ایک ایسے بادشاہ کی شہادت کا دن گزرا جو 22 لاکھ مربع میل کا حکمران تھا لیکن درخت کے سائے میں اینٹ رکھ کر سو جایا کرتا تھا. حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ جن کے بارے میں حضور اکرم ﷺ کا فرمان”لو کان بعدی نبی لکان عمر ابن الخطابؓ میرے بعد اگر کوئی نبی ہوتا تو عمر ابن الخطابؓ ہوتے. میں اس فاروق اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی شان میں کیا لکھ سکتا ہوں جن کے مبارک ہاتھوں سے لکھی ہوئی صرف دو سطروں سے دریائے نیل آج تک رواں دواں ہے⁦.میں ذرا سینہ چوڑا کرکے فخر سے بتاتا چلوں کون عمر وہ عمر جن کے اسلام لانے کی خود رسول اللہ نے دعا کی.وہ عمر جن کے اسلام لانے کے بعد مسلمان اعلانیہ عبادت کرنے لگے. وہ عمر جن کی ہیبت سے شیطان گھبراتا تھا.وہ عمر جنہوں نے اعلانیہ ہجرت کی. وہ عمر جن کے اسلام لانے سے مسلمانوں کو طاقت ملی.وہ عمر جن کی رائے کے موافق قرآن کی آیات اتریں.

وہ عمر جو اسلام کے دوسرے خلیفہ بنے.وہ عمر جو زمین پہ ایک درہ ماریں اور زلزلہ تھم جائے. وہ عمر جن کی شان شیر خدا بیان کریں. وہ عمر جنہوں نے روم و فارس پہ اسلامی جھنڈے گاڑے.وہ عمر جنہوں نے بیت المقدس فتح کیا.وہ عمر جن کا عدل بے مثال ہے.وہ عمر جن کی سادگی باکمال ہے.وہ عمر جن کے زمانے میں شیر اور بکری ایک جگہ سے پانی پئیں. وہ عمر جو سراپا عدل کہلائے.وہ عمر جو راتوں کو گشت کرکے عوام کا حال معلوم کرتے تھے.وہ عمر جو 22 لاکھ مربع میل کے حکمران ہونے کے باوجود پیوند لگے کپڑے پہنتے تھے.وہ عمر کہ جب سوتے تو شیر ان کی حفاظت کرتے.وہ عمر جن کی تلوار ہر وقت دشمنان اسلام کے لیے خوف کی علامت ہوتی.وہ عمر جنہیں دوران نماز شہید کیا گیا.وہ عمر جنہیں اللہ کے آخری نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ دفن کیا گیا.

حضرت عمرؓ،وہ نام ہے جس پر تاریخ فخر کرتی ہے۔عدل کا مینار، تقویٰ کا پیکر،خلافت کا روشن ستارہ۔یکم محرم، وہ دن جب سجدے میں سر تھا،اور روح رب کے حضور حاضر ہو گئی۔آپؓ کی شہادت صرف ایک واقعہ نہیں،ایک عہد کا اختتام تھی۔عمرؓ کی تلوار نے باطل کو کاٹا،اور ان کے عدل نے دلوں کو جیتا. آج بھی اگر دنیا کو عدل چاہیے تو عمر فاروق رضی اللہ عنہ کا راستہ اپنانا ہو گا.
حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالٰی عنہ کی شان سمجھنے کے لئے صرف اتنا ہی کافی ہے کہ جو بیت المقدس ہم سوا ارب مسلمان آزاد نہیں کروا سکے وہ سیدنا عمر رضی اللہ تعالی عنہ نے تنہا فتح کیا۔حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ عدل و انصاف کا اک روشن باب تھے تاریخِ اسلام میں حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کا نام سنہرے حروف میں لکھا جاتا ہے۔ آپ کا لقب “فاروق” تھا،کیونکہ آپ حق و باطل میں فرق کرنے والے تھے۔

خلافتِ راشدہ کے دوسرے خلیفہ کی حیثیت سے آپ نے دس سالہ دورِ حکومت (13 تا 23 ہجری) میں اسلام کو وسعت دی، عدل و انصاف کی ایسی مثالیں قائم کیں جو آج بھی رہنمائی کا ذریعہ ہیں۔آپ کی شخصیت تقویٰ، سادگی، اور عدل کا پیکر تھی۔ راتوں کو گلیوں میں گشت کرکے رعایا کے حالات معلوم کرنا، بیت المال کو عوام کی فلاح کے لیے استعمال کرنا اور کسی کو بھی قانون سے بالاتر نہ سمجھنا آپ کے نظام کا خاصہ تھا۔ ایران، شام، مصر اور دیگر علاقوں کی فتوحات آپ کی عسکری و سیاسی حکمت عملی کی مظہر ہیں۔حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے کئی اہم انتظامی اصلاحات متعارف کروائیں جن میں بیت المال کا قیام، مردم شماری، عدالتی نظام کی تنظیم، پولیس کا محکمہ اور دیوانی نظام شامل ہے۔ ان کا دور حکومت حقیقی معنوں میں “رفاہی ریاست” کی بنیاد تھا۔آپ کی شہادت بھی ایک عظیم قربانی تھی، جس نے اسلام کے لیے آپ کی لازوال خدمات پر مہرِ تصدیق ثبت کی۔
حضرت عمر فاروقؓ کا نظامِ حکومت عدل، احتساب، فلاح، مساوات اور تقویٰ پر مبنی تھا۔ ان کے دور کو اسلامی ریاست کا مثالی ماڈل کہا جاتا ہے، جس سے آج بھی دنیا کے حکمران رہنمائی حاصل کر سکتے ہیں۔

تاریخِ عالَم کے اس عظیم حکمران کی پوری زندگی عزّت و شرافت اور عظمت کے کارناموں کی اعلیٰ مثال تھی، 26ذو الحجۃ الحرام کی صبح ایک مجوسی غلام ابو لؤلؤ فیروز نے آپ پر فجر کی نماز کے دوران قاتلانہ حملہ کیا اور شدید زخمی کردیا، آپ رضی اللہ تعالٰی عنہ نے حضرت عبد الرحمٰن بن عوف رضی اللہ تعالٰی عنہ کو نماز پڑھانے کا حکم دیا، جب لوگ آپ رضی اللہ تعالٰی عنہ کو اٹھا کر آپ کے گھر میں لائے تو مسلسل خون بہنے کی وجہ سے آپ پر غشی طاری ہوچکی تھی ہوش میں آتے ہی آپ رضی اللہ تعالٰی عنہ نے اپنے بیٹے کا ہاتھ پکڑ کر انہیں اپنے پیچھے بٹھا لیا اور وضو کرکے نمازِ فجر ادا کی پھر چند دن شدید زخمی حالت میں گزار کر اپنی جان جانِ آفرین کے سپرد کردی۔ حضرتِ صُہَیْب رضی اللہ تعالٰی عنہ نے آپ کی نمازِ جنازہ پڑھائی۔ آپرضی اللہ تعالٰی عنہ کو یکم محرَّم الحرام 24ہجری روضۂ رسول میں خلیفۂ اوّل حضرتِ صدیقِ اکبر رضی اللہ تعالٰی عنہ کے پہلو میں دفن کیا گیا۔(طبقات ابن سعد، ج3،ص266، 280، 281- تاریخ ابن عساکر،ج 44،ص422، 464) بوقتِ شہادت آپ رضی اللہ تعالٰی عنہ کی عُمْر مبارک 63برس تھی۔آپ رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت کردہ احادیث کی تعداد 537 ہے۔

حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کی خلافت سے آج کے حکمرانوں کے لیے بے شمار سبق موجود ہیں۔ یہ اصول نہ صرف اسلامی معاشرے کے لیے بلکہ ہر منصف، دیانتدار اور عوامی خدمت گزار حکمران کے لیے مشعلِ راہ ہیں۔آج کے حکمرانوں کے لیے حضرت عمرؓ کی خلافت سے 10 سنہرے اسباق1 عدل و انصاف قائم کرو،چاہے اپنے خلاف ہی کیوں نہ ہو عدل کسی قوم کی بنیاد ہوتا ہے، اور ظلم اس کی تباہی۔حضرت عمرؓ نے قاضی کو خود اپنے خلاف فیصلہ کرنے کی اجازت دی۔انصاف میں کوئی طاقتور یا کمزور، دوست یا دشمن کا فرق نہ تھا۔سبق: آج کے حکمران اگر انصاف کو حقیقی معنوں میں رائج کریں، تو بدامنی، کرپشن اور بغاوت ختم ہو جائے۔2. حکومت عوام کی خدمت ہے، حکومت کا مزہ نہیں خلیفہ عوام کا خادم ہوتا ہے، بادشاہ نہیں۔حضرت عمرؓ سادہ کپڑے پہنتے، راتوں کو گلیوں میں گھوم کر عوام کے حالات دیکھتے۔سبق: آج کے حکمران اگر “VIP کلچر” چھوڑ کر عوام میں گھل مل جائیں تو ان کے مسائل جلد حل ہو سکتے ہیں۔ 3.احتساب سب کا ہو، حتیٰ کہ حکمران کا بھی حضرت عمرؓ نے خود کو عوام کے سوالات کا جواب دہ بنایا۔

گورنروں کا مال و دولت چیک کیا جاتا۔سبق: اگر حکمران اور وزراء کا احتساب ہوگا، تو کرپشن ختم ہو سکتی ہے۔4 عوامی فلاح و بہبود کو اولیت دو.حضرت عمرؓ نے بیواؤں، یتیموں، غریبوں، معذوروں کے لیے وظائف مقرر کیے۔سبق: اگر حکومت بجٹ کا بڑا حصہ تعلیم، صحت، روزگار اور فلاح پر خرچ کرے، تو قوم ترقی کرے گی۔5 وسائل کی منصفانہ تقسیم.اگر ایک کتا بھی بھوکا مرے تو عمر ذمہ دار ہے۔سبق: آج کے حکمرانوں کو چاہیے کہ قومی دولت عوام پر خرچ ہو، چند ہاتھوں میں نہ رہے۔6 علمی اور مشاورتی نظام قائم کرو حضرت عمرؓ مشاورت کے بغیر کوئی بڑا فیصلہ نہ کرتے۔سبق: ماہرین، علما، اور عوامی نمائندوں سے مشورہ کیے بغیر فیصلے نہ کیے جائیں۔ 7 ریاست کے ادارے مضبوط کرو، شخصیت پرستی نہیں حضرت عمرؓ نے ادارہ سازی (قاضی، بیت المال، افسران) پر زور دیا، نہ کہ اپنی شخصیت پر۔سبق: آج ضرورت ہے کہ ادارے مضبوط ہوں، نہ کہ صرف ایک شخصیت پر نظام چلایا جائے۔8 مساوات کو رائج کرو سب قانون کے برابر ہوں.

عرب، عجم، کالا، گورا سب کو برابر کا درجہ دیا گیا۔سبق اگر قانون سب کے لیے ایک ہو، تو معاشرہ عدل و امن کا گہوارہ بن سکتا ہے۔9 نوجوانوں کو قیادت کے لیے تیار کرو حضرت عمرؓ نے کم عمر مگر باصلاحیت افراد کو بڑے عہدوں پر فائز کیا (جیسے اسامہ بن زیدؓ)سبق: آج نوجوانوں کو تعلیم، تربیت اور قیادت کے مواقع دیے جائیں۔ 10 خود کو عوام کا خادم سمجھو، حاکم نہیں حضرت عمرؓ نے فرمایا:اگر میں عوام کی خیرخواہی نہ کر سکا، تو میں ان کا خلیفہ نہیں ہوں۔”سبق حکمرانوں کو اپنی اصل حیثیت خادمانِ عوام یاد رکھنی چاہیے۔ خلاصہ اگر آج کے حکمران حضرت عمرؓ کے اصولوں کو اپنائیں تو ظلم، غربت، کرپشن اور بے انصافی کا خاتمہ ہو
اور ریاست “مدینہ” جیسا نظام فراہم کرے.مُرادِ مُصطفٰیﷺ مِشیرِ مُصطفٰیﷺ امیر المومنین عادل و فاروق ؓ مجتہد و محدث فَاتح و قیصر و کسریٰ خلیفہِ دوٸم سَیّدنا عُمر فَارُوق ؓ بِن خطاب فاتحِ فارس، شام و بیت المقدس سسرِ رسول ﷺ مرادِ نبی ﷺ خلیفہ دوم بانیٔ ہجری تقویم حق و باطل میں فرق کرنے والی تلوار، فاروقِ اعظم پر لاکھوں سلام!

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں