ایرانی مزاحمت، جرات کی نئی داستان

27

تحریر: سعدیہ مشتاق
مشرقِ وسطیٰ کی زمین ایک بار پھر خون سے تر ہو چکی ہے۔ ایران اور اسرائیل کے درمیان کشیدگی اب محض سرحدی تنازع نہیں رہا بلکہ عالمی سطح پر نظریات، طاقت اور حق و باطل کی جنگ کا روپ اختیار کر چکا ہے۔ اسرائیل، جو ہمیشہ عسکری قوت پر فخر کرتا آیا ہے، اس بار ایران کی مزاحمتی حکمت عملی کے آگے بے بس دکھائی دے رہا ہے۔

ایرانی حملوں کے نتیجے میں تل ابیب، جو اسرائیل کی سیاسی، اقتصادی اور عسکری پہچان سمجھا جاتا تھا، مکمل طور پر ملبے کا ڈھیر بن چکا ہے۔ وہ شہر جو کبھی راتوں کو جگمگاتا تھا، آج اندھیروں میں ڈوبا ہوا ہے۔ نہ صرف تل ابیب بلکہ عسقلان، حیفہ، نیتیووت اور بیت المقدس کے اطراف کے علاقے بھی شدید نقصان کی زد میں آئے۔ ان حملوں نے اسرائیلی فوج کے دعووں کو جھٹلا کر رکھ دیا اور دنیا کو یہ باور کرایا کہ ہر ظلم کی ایک حد ہوتی ہے۔

ادھر ایران کو بھی اسرائیلی حملوں کا سامنا رہا۔ تہران، قُم، اصفہان، تبریز اور مشہد میں بنیادی تنصیبات، تعلیمی ادارے، اور رہائشی عمارتیں تباہ ہوئیں۔ اہم سائنسدان درجنوں شہری شہید ہوئے، مگر ایرانی قوم نے جس صبر و استقلال کا مظاہرہ کیا، وہ مثالی ہے۔ان مشکل لمحات میں ایرانی عوام کی پشت پر ایک مضبوط آواز کھڑی رہی . آیت اللہ سید علی خامنہ ای کی آواز۔

آیت اللہ خامنہ ای نے نہ صرف قیادت کی بلکہ قوم کے دل میں نئی روح پھونکی۔ ان کا کہنا ہے “ہم حق پر ہیں، اور ظلم کے آگے جھکنا ہمارے عقیدے کے خلاف ہے۔ دشمن جتنا بھی طاقتور ہو، ہم اس کے سامنے کبھی سر نہیں جھکائیں گے۔”
یہی پیغام ایران کی مزاحمت کی بنیاد ہے۔ انہوں نے عوام کو صبر، قربانی اور استقامت کا راستہ دکھایا۔ ان کی رہنمائی میں ایران نے عسکری جواب سے زیادہ ایک نظریاتی بیانیہ تشکیل دیا، جس نے دنیا بھر کے باضمیر افراد کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا۔

اس جنگ نے دونوں ممالک میں بڑے نقصانات چھوڑے، مگر اصل شکست اُس کو ہوئی جو ظلم پر یقین رکھتا تھا۔ اسرائیل کی وہ طاقت جو ناقابلِ شکست سمجھی جاتی تھی، آج کمزور اور غیر محفوظ دکھائی دے رہی ہے۔ دوسری طرف ایران اپنی قربانیوں، عوامی اتحاد، اور نظریاتی استقامت کے ساتھ دنیا بھر کے مظلوموں کی امید بن کر ابھرا ہے۔

یہ وقت صرف جنگ کا نہیں، بلکہ سوچنے کا ہے۔ کیا ہم اس دور میں بھی طاقت کو حق مانتے رہیں گے؟ یا ہم یہ تسلیم کریں گے کہ سچائی، استقامت اور ایمان وہ قوتیں ہیں جو ہر ظلم کو پاش پاش کر سکتی ہیں؟ایران اور اسرائیل کی حالیہ کشیدگی صرف میزائلوں یا بموں کی جنگ نہیں، بلکہ یہ ایک نظریاتی لڑائی ہے۔ ایران نے ثابت کیا ہے کہ اگر قیادت نڈر ہو، عوام متحد ہوں، اور مقصد بلند ہو، تو دنیا کی کوئی طاقت بھی جھکا نہیں سکتی۔ آیت اللہ خامنہ ای کی بصیرت، تل ابیب کی تباہی، اور ایرانی عوام کی قربانیاں اس بات کا اعلان ہیں کہ
ہم سر کٹوا سکتے ہیں، مگر جھکا نہیں سکتے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں