پارلیمنٹ کی مخصوص نشستیں اور مال غنیمت

38

تحریر :سردارعبدالرازق خان ایڈووکیٹ
آئین کے آرٹیکل 51 اور 106 کے تحت قومی و صوبائی اسمبلیوں کی مخصوص نشتیں متناسب نمائندگی کے اصول کے تحت جنرل الیکشن میں حاصل کردہ سیٹوں کے تناسب سے سیاسی جماعتوں میں تقسیم کی جاتی ہیں ہر جماعت کو صرف اتنی ہی نشستیں دی جا سکتی ہیں جتنی اس کی براہ راست الیکشن سے حاصل کردہ نشستوں کے تناسب سے بنتی ہوں اگر الیکشن کمیشن کےنوٹیفیکشن کے تین دن کے اندر کوئی آزاد ممبر اس جماعت میں شامل ہوا ہو تووہ بھی براہ راست حاصل کردہ نشتوں میں شمار کیا جائےگا

8 فروری کے پاکستانی تاریخ کے متنازعہ ترین الیکشن کے نتئجے میں حاصل کردہ نشستوں کی بنیاد پر تمام جماعتوں کو سوائے پی ٹی آئی یا SIC ان کی مخصوص نشستیں(خواتین و اقلیتیں) الاٹ کردی گئیں .یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ الیکشن کے بعد پی ٹی آئی کی قانونی ٹیم نے پی ٹی آئی کے آزاد اراکین کو SIC میں شامل کرکے سنگین غلطی کی تھی تاہم یہ اس کی بنیاد بھئ الیکشن کمیشن کا غلط اور جانبدارانہ فیصلہ تھا اگر الیکشن کمیشن پی ٹی آئی کوسیاسی جماعت تسلیم کرلیتا تو پی ٹی آئی اراکین کو SIC میں شامل ہونے کی ضرورت نہ پڑھتی گویا اس تمام قانونی و آئینی بحران کا ذمہ دار الیکشن کمیشن کا جانبدارانہ کردار اور قاضی فائز عیسی کا وہ متنازعہ فیصلہ تھا جس کے ذریعےپاکستان کی سب سے مقبول جماعت سے انتخابی نشان چھین کر اسے جبرا بطور جماعت انتخابات سے باہر کیا گیا .

چنانچہ گزشتہ برس جب سپریم کورٹ کے تیرہ رکنی بینچ کے سامنے یہ مقدمہ رکھا گیا تو ان کے سامنے آئین کے آرٹیکلز 51 اور 106 کے مطابق دو ہی راستے تھے یا یہ سیٹیں خالی رکھی جاتیں اور پی ٹی آئی یا SIC کو نہ دی جاتیں یا پی ٹی آئی/SIC کو دی جاتیں
تیسرا کوئی فیصلہ آئیں اور قانون کے تحت ممکن نپیں تھا کیونکہ کسی بھی جماعت کو اس کی جنرل الیکشن میں حاصل کردہ نشستوں کے تناسب سے زیادہ نشستیں نہیں دی جا سکتیں.پی ٹی آئی کو مخصوص نشتیں نہ دینے کی ایک ہی وجہ ہو سکتی تھی کہ اس کو تاریخ کے بددیانت ترین اور متعصب ترین الیکشن کمشن نے بطورجماعت الیکشن میں حصہ نہیں لینے دیا اور سیاسی جماعت تسلیم نہیں کیا .

جبکہ SIC کو مخصوص نشستیں نہ دینے کی ایک ہی وجہ ہوسکتی تھی کہ اس نے مخصوص نشستوں کے لئے کوئی لسٹ الیکشن کمیشن کو فراہم نہیں کی تھی یہ امر قابل ذکر ہے کہ وفاقی حکومت کی جانب سے اٹارنی جنرل نے مسلسل یہ موقف اختیار کیا تھا کہ ایوان کو خالی نہیں رکھا جا سکتا اور سیٹیں دینے کا فیصلہ کرنا پڑھے گا.سپریم کورٹ کے تیرہ رکنی بینچ میں سے دس ججز نے قرار دیا کہ یہ نشتیں پی ٹی آئی کی ہیں جن میں سے دو نے 39 نشستیں پی ٹی آئی کو دینے کاحکم دیااوربقایا کاغذات نامزدگی میں ریاستی جبر اور الیکشن کمیشن کےفیصلے کی وجہ سے آزادامیدوارلکھنے کی وجہ سے آزاد پی ڈیکلئرکیا.جبکہ آٹھ ججز نے الیکشن سے قبل کے ان جملہ حالات کو مدنظر رکھ کر آئین کے آرٹیکل 187 میں درج سپریم کورٹ کے complete اور substantial justice کے اختیار کو بروئے کار لانے کا فیصلہ کیا .

جس کےتحت ایک جماعت کو الیکشن سےباپر کرنے لے لئے پورے سسٹم اور ریاستی اداروں کو ننگا کیا گیا تھا ان حالات میں عین انتخابات کے وقت الیکشن کمیشن کی طرف سےپی ٹی آئی کے انتخابات کوکالعدم قراردینا ، انتخابی نشان چھین کر سیاسی جماعت تسلیم نہ کرنا ،،پارٹئ سربراہ سمیت سیاسی قیادت کو پابند سلاسل کرنا،جھوٹے مقدمات کی بھرمار، امیدواروں تجویز و تائید کندگان کی پکڑ دھکڑ، کاغذات نامزدگی چھینا، بڑی تعداد میں کاغذات نامزدگی مسترد کرنا،انتخابی مپم چلانے سے روکنا اور اس نوعیت کے دیگر حالات شامل تھے خاص طور پر الیکشن کمیشن کا متنازعہ ترین اور متعصبانہ کردار شامل تھا قانون کے طالبعلم کی حثیت سے میری بلا خوف و تردید یہ راہے پے کہ سپریم کورٹ کے مکمل انصاف کےاختیار کے استعمال کا اس سے بپترین کیس اور کوئی نپیں ہو سکتا کیونکہ سپریم کورٹ سول جج درجہ سوئم کی عدالت نپیں تھی جو بنیادی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں، عوامی مینڈیٹ کی توہین اور منصفانہ اور غیر جانبدارانہ انتخابات کے آئینی تقاضوں کی پامالی پر کبوتر کی طرح آنکھیں بند کردیتی بلکہ آئین اور بنیادی حقوق کے کسٹوڈین کی حثیت سے ملک کی سب سے بڑی عدالت تھی جسے technicallies سے ماورا ہو کر substantial justice کے وسیع اختیارات حاصل تھے.

چنابچہ عدالت عظمی نے مکمل انصاف کے آئینی تقاضوں کے تحت یہ مخصوص نشستیں اسی جماعت کو دینے کا فیصلہ کیا جس کی حقیقت میں یہ سیٹیں بنتی رھیں .گویا اس فیصلے کے نتیجے میں حق بحقدار رسید سپریم کورٹ کے اس تاریخ ساز فیصلے کو Undo کرنے کے لہے جسطرح کا کھیل کھیلاگیا وہ ہماری تاریخ کا سیاہ ترین باب ہے اوراس کےتمام کردار تاریخ میں سیاہ حروف سے ہی یاد کئےجائیں گے.پہلے تو الیکشن کمیشن اور حکومت نے سپریم کورٹ کے اس فیصلے پر عمل نپیں کیا پھر اس فیصلیے کو اڑانے کے لئے 26ویں ترمیم لاکر سپریم کورٹ کے آئینی اور انتظامی اختئارات کو حکومتی کنٹرول میں دیاگیا ایک آئینی بنینچ تشکیل دے کر ایک ایسے جج کو اس کا سربراہ بنایا گیا جس نے منیارٹی فیصلے میں سپریم کورٹ کےفیصلے پر عمل نہ کرنے کی انوکھی ہدایات جاری کررکھی تھیں اور جس کا اائینی مقدمات میں کوہئ تجربہ بھی نہ تھا میجارٹی فیصلے والے ان تمام ججز کو جو کسی دباو یا لالچ میں اآنےوالے نہ تھے نظرثانی بینچ سے نکالا گیا صرف دو ان ججز کوشامل کیاگیاجن سے معاملات طے پوگئے تھے جبکہ ہاہیکورٹس سے نئےججز لاکر کورٹ پیکنگ کی بد ترین مثال قائم کی گئی.

اس آئینی بینچ نے تاریخ کا انوکھا فیصلہ کیا پے جس کےتحت اب مخصوص نشستیں پی ٹی آئی سےچھین کر مال غنیمت کی طرح حکومتی جماعتوں میں تقسیم کردی گئی ہیں اگرچہ اس فیصلے پر فوری عمل درآمد کردیا جائے گا مگر ایک اہم ترین سوال یہ رہے گا کہ کیا 13 رکنی بینچ کا فیصلہ کالعدم ہوگیا پے یا تکنیکی اور قانونی طور پر اب بھی قائم ہے اور اگر نظرثانی پوگیا تو کس حد تک۔ 12 جولائی کے فیصلے میں دس ججز نے ان نشستوں کو پی ٹی آئی کی نشستیں قرار دیا جن میں سے دو نے قومی اسمبلی کی 39 نشستوں کو پی ٹی آئی کی واضح نشستیں قراردے کر بقایا امیدواروں کو آزاد ڈیکلئر کیا آٹھ ججز نے تمام نشستیں پی ٹی آئی کو دیں ایک جج نے معاملہ الیکشن کمیشن کو ریفر کیا جبکہ دو ججز نے الیکشن کمیشن کا فیصلہ برقرار رکھا اب نظرثانی میں سات ججز نے نظرثانی کرکے الیکشن کمیشن کا فیصلہ uphold کیا ہے جبکہ دو ججز نے معاملہ الیکشن کمیشن کو ریفر کیا پے اور ایک جج نے اپنے سابقہ فیصلہ کو برقرار رکھتے ہوئے ان تمام امیدوروں کو پی ٹی آئی ڈیکلئر کیا ہے جنپوں نے کاغذات نامزدگی میں خود کو پی ٹی آئی کا امیدوار ڈیکلئر کیا تھا یوں کم از کم ان نشستوں کی حد تک 12 جولائی کا میجارٹی فیصلہ آج بھی برقرار ہے.

جبکہ بقایا نشستوں کے حوالے سے جو ابہام ہے اس حوالے سےشاید الیکشن کمیشن کو ازسر نو فیصلہ کرنا پڑے .12 جولائی کے فیصلے میں دس ججز نے ان نشستوں کو پی ٹی آئی کی نشستیں قرار دیا جن میں سے دو نے قومی اسمبلی کی 39 نشستوں کو پی ٹی آئی کی واضح نشستیں قراردے کر بقایا امیدواروں کو آزاد ڈیکلئر کیا آٹھ ججز نے تمام نشستیں پی ٹی آئی کو دیں ایک جج نے معاملہ الیکشن کمیشن کو ریفر کیا جبکہ دو ججز نے الیکشن کمیشن کا فیصلہ برقرار رکھا اب نظرثانی میں سات ججز نے نظرثانی کرکے الیکشن کمیشن کا فیصلہ uphold کیا ہے جبکہ دو ججز نے معاملہ الیکشن کمیشن کو ریفر کیا پے اور ایک جج نے اپنے سابقہ فیصلہ کو برقرار رکھتے ہوئے ان تمام امیدوروں کو پی ٹی آئی ڈیکلئر کیا ہے جنپوں نے کاغذات نامزدگی میں خود کو پی ٹی آئی کا امیدوار ڈیکلئر کیا تھا یوں کم از کم ان نشستوں کی حد تک 12 جولائی کا میجارٹی فیصلہ آج بھی برقرار ہے.جبکہ بقایا نشستوں کے حوالے سے جو ابہام ہے اس حوالے سےشاید الیکشن کمیشن کو ازسر نو فیصلہ کرنا پڑے.

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں