محترم جاوید عارف عباسی صاحب کی خدمت میں

96

نقطہ نظر/ڈاکٹر راجہ قیصر احمد
جاوید عارف عباسی صاحب ایک جرات مند، اصول پسند اور بصیرت افروز شخصیت کے حامل سیاسی رہنما ہیں جنہوں نے دھیرکوٹ جیسے باشعور مگر ترقی پذیر خطے میں ایک منفرد اور باوقار سیاسی مقام حاصل کیا ہے۔ وہ نہ صرف مقامی سیاست کے اتار چڑھاؤ کو گہرائی سے سمجھتے ہیں بلکہ ایک ایسے وژن کے حامل ہیں جو شخصی مفاد سے بالاتر ہو کر اجتماعی بھلائی، شفاف طرزِ حکمرانی اور عوامی شمولیت پر مبنی ہے۔ ان کی گفتگو میں فکری گہرائی، ان کے موقف میں اخلاقی استقامت، اور ان کی سرگرمیوں میں عملی سنجیدگی نمایاں ہے۔ جاوید عارف صاحب نے جس جرات کے ساتھ روایتی سیاسی مصلحتوں سے ہٹ کر حق گوئی، شفافیت اور مسئلہ بنیاد سیاست کو اپنایا ہے، وہ اُنہیں ایک روایتی سیاستدان کے بجائے ایک نظریاتی قائد کا درجہ دیتا ہے۔

ان کی جماعت اسلامی غربی باغ کے لیے بطور امیر حالیہ کامیابی صرف ایک تنظیمی انتخاب نہیں بلکہ یہ دھیرکوٹ جیسے باشعور اور بالغ نظر علاقے کے لیے ایک سنجیدہ سیاسی ذمہ داری کا آغاز ہے۔ یہ وقت ہے کہ وہ اپنی قیادت کو محض رسمی کردار سے نکال کر ایک عوامی، فکری اور ترقیاتی وژن میں ڈھالیں۔ ایسا وژن جو دھیرکوٹ کے زمینی حقائق، سماجی محرومیوں اور نوجوان نسل کی ضروریات سے ہم آہنگ ہو اور جس کی بنیاد ایک شفاف، شمولیتی اور جدید طرزِ سیاست پر استوار ہو۔

دھیرکوٹ کا شمار آزاد کشمیر کے ان علاقوں میں ہوتا ہے جہاں تعلیمی شرح نسبتاً بہتر، سیاسی آگہی زیادہ اور شہری حساسیت نمایاں ہے۔ مگر اس سب کے باوجود یہاں کئی بنیادی مسائل مسلسل نظرانداز ہو رہے ہیں جن میں پانی کی شدید قلت، ناقص صفائی و کچرا نظم، زراعت کا غیر فعال ہونا، بےروزگاری، بلدیاتی اداروں کی غیر فعالیت، فیصلہ سازی میں عوامی شمولیت کا فقدان، اور نوجوانوں میں منشیات کا بڑھتا ہوا رجحان شامل ہے۔

دھیرکوٹ میں چشمے سوکھ رہے ہیں، سرکاری سپلائی اسکیمیں غیر فعال ہو چکی ہیں اور گھریلو سطح پر پانی کی شدید کمی ہے۔ جاوید عارف کو چاہیے کہ وہ مقامی سطح پر ایک جامع اور قابلِ عمل پانی کے تحفظ کا منصوبہ مرتب کریں جس میں بارش کے پانی کو ذخیرہ کرنے، چھوٹے مقامی ذخائر کی تعمیر اور واٹر سپلائی کے موجودہ نظام کی مرمت اور بہتری شامل ہو۔ پانی کی فراہمی کو صرف بلدیاتی مسئلہ نہ سمجھا جائے بلکہ اسے مقامی ترقی، صحتِ عامہ اور سماجی وقار سے جوڑ کر پیش کیا جائے۔ٹیچر عثمان کی حالیہ قابلِ تعریف ابتدا اس سمت میں ایک عملی قدم ہے جس کو جماعت اسلامی اپنے تعاون، تحرک اور اشتراک سے مزید موثر بنا سکتی ہے۔

دھیرکوٹ میں بیشتر زمینیں بیکار پڑی ہیں یا تو پانی کی قلت یا مقامی بےرغبتی کے باعث۔ جاوید عارف عباسی اگر چاہیں تو جماعت اسلامی کے پلیٹ فارم سے ایک زراعت بیداری مہم کا آغاز کر سکتے ہیں جس میں مقامی سطح پر تربیتی ورکشاپس، بیج کی فراہمی، چھوٹے پیمانے پر سبزیات یا پھلوں کی کاشت، گھریلو باغبانی اور زرعی رہنمائی جیسے اقدامات شامل ہوں۔ وہ عوام میں یہ شعور پیدا کریں کہ زمین کا فعال استعمال نہ صرف معاشی بہتری کا ذریعہ ہے بلکہ ایک اجتماعی فلاحی عمل ہے جو روزگار اور خوراک کے استحکام میں کلیدی کردار ادا کر سکتا ہے۔

دھیرکوٹ جیسے خوبصورت علاقے میں کچرے، نالیوں اور گندگی کا منظر نہ صرف عوامی صحت کے لیے نقصان دہ ہے بلکہ یہ علاقے کی مجموعی شناخت کو بھی مجروح کرتا ہے۔ جاوید عارف صاحب کو چاہیے کہ وہ صفائی کے نظام کو صرف بلدیہ کی ذمہ داری سمجھنے کے بجائے اسے شہری اخلاقیات اور سماجی ترجیح میں تبدیل کریں۔ محلے کی سطح پر صفائی کمیٹیاں، ہفتہ وار آگاہی واک، اسکولوں میں مہمات اور نوجوانوں کے لیے رضاکار گروپس تشکیل دیے جائیں۔ بلدیاتی سطح پر نگرانی کے نظام کو بہتر بناتے ہوئے صفائی کے عملے، وسائل اور نظام میں شفافیت لائی جائے تاکہ یہ عمل محض نمائشی نہ رہے بلکہ نتائج پیدا کرے۔

نوجوانوں کے لیے سب سے نازک اور حساس مسئلہ اس وقت منشیات کی تیزی سے پھیلتی ہوئی لعنت ہے جس نے تعلیمی اداروںں اور سماجی منظرنامےکو اندر سے کھوکھلا کر دیا ہے۔ جاوید عارف عباسی صاحب کو چاہیے کہ وہ اس چیلنج کو سنجیدگی سے لیں اور ایک مربوط انسدادِ منشیات حکمت عملی ترتیب دیں۔ اس میں اسکولوں اور کالجوں میں شعور بیدار کرنے والے پروگرام، والدین کی تربیت، نوجوانوں کے لیے مثبت سرگرمیاں، کھیل، تربیتی ورکشاپس، اور نشے کے عادی افراد کی بحالی کے لیے مقامی تعاون شامل ہو۔ وہ مقامی انتظامیہ، محکمہ صحت، اساتذہ اور سماجی کارکنان کے ساتھ مل کر ایک ایسا پلیٹ فارم قائم کریں جو نہ صرف خطرے کی نشاندہی کرے بلکہ عملی مداخلت کے ذریعے نوجوانوں کو دوبارہ باوقار زندگی کی طرف لوٹنے میں مدد دے۔

جاوید عارف عباسی صاحب کو چاہیے کہ دھیرکوٹ کے پڑھے لکھے نوجوانوں کو صرف تقریروں کے سامع نہ بنائیں بلکہ انہیں فیصلہ سازی، شفاف حکمرانی اور مقامی حکومت کی فعالیت میں عملی کردار کا موقع دیں۔ اگر مقامی سطح پر نوجوانوں کے لیے فیلوشپ پروگرام، بحث و مباحثہ کے حلقے، شراکتی منصوبہ بندی کی ورکشاپس اور رضاکار نیٹ ورک قائم کیے جائیں تو نہ صرف قیادت کو ایک تازہ توانائی ملے گی بلکہ نوجوان طبقہ خود کو اس پورے نظام کا حقیقی حصہ محسوس کرے گا۔ یہ نوجوانی قیادت کا تسلسل بھی ہوں گے اور مقامی تبدیلی کا انجن بھی۔

یہ بھی قابلِ تحسین ہے کہ جاوید عارف ایک ایسی تنظیمی روایت کے وارث ہیں جسے سابق امیر راجہ میر محمد صاحب نے اپنے اخلاص، وقار اور سنجیدہ مزاج سے قائم کیا۔ ان کی قیادت کے دور میں جماعت اسلامی کو دھیرکوٹ میں محض ایک انتخابی پلیٹ فارم نہیں بلکہ ایک باشعور، باعمل اور فکری نمائندگی کا وقار حاصل ہوا۔ راجہ صاحب کی شخصیت نے جماعت کے کارکنان کو ایک مضبوط فکری سمت دی اور عوام میں تنظیمی اعتبار کو مستحکم کیا۔ جاوید عارف صاحب کا فریضہ ہے کہ وہ اس تسلسل کو صرف برقرار نہ رکھیں بلکہ نئی بصیرت، جدید سیاسی تکنیک اور مقامی حکمرانی کے مضبوط ماڈل کے ذریعے مزید مستحکم کریں۔

اگر جاوید عارف عباسی صاحب ان ترجیحات، مسائل اور صلاحیتوں کو یکجا کرتے ہوئے قیادت کا ایک فعال، فکری اور مشاورتی ماڈل تشکیل دیتے ہیں تو وہ نہ صرف جماعت اسلامی کو مضبوط کر سکیں گے بلکہ دھیرکوٹ کے عوامی مسائل کا دیرپا، شفاف اور بامقصد حل بھی فراہم کر پائیں گے۔ ان کی موجودہ حیثیت محض قیادت کا دروازہ نہیں بلکہ تبدیلی کے سفر کی بنیاد ہے۔ ایک ایسا سفر جو عوامی شرکت، مقامی فہم، سماجی شعور اور عملی منصوبہ بندی سے دھیرکوٹ کو ایک

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں