فوج کافرض خدمت یااحسان

102

تحریر: سیدہ زہرا فاطمہ
اکثر یہ سوال کیا جاتا ہے کہ فوج کا اصل کام کیا ہے؟ عام خیال یہی ہے کہ فوج صرف سرحدوں پر کھڑی ہوتی ہے، ملک کی جغرافیائی حفاظت کرتی ہے اور اس کے عوض تنخواہ لیتی ہے۔ بظاہر یہ بات درست دکھائی دیتی ہے لیکن زمینی حقائق اس سے کہیں زیادہ گہرے اور مختلف ہیں۔

دنیا کے ترقی یافتہ ممالک میں فوج واقعی صرف بارڈر پر تعینات رہتی ہے۔ وہاں کسی نے فوج کو پانی کے نکاس، نالیاں بنانے یا گلیوں سے کیچڑ صاف کرتے نہیں دیکھا۔ اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ ان ممالک میں سویلین ادارے مضبوط ہیں اور اپنی ذمہ داریاں نبھاتے ہیں۔ وہاں کے حکمران اداروں کو برباد کرنے کے بجائے مستحکم کرتے ہیں۔ یوں عوامی مسائل حل کرنے کے لیے فوج کو مداخلت کی ضرورت پیش نہیں آتی۔پاکستان میں صورتِ حال اس کے برعکس ہے۔

یہاں کے بیشتر ادارے تنخواہیں اور مراعات تو بھاری لیتے ہیں مگر اپنے فرائض ادا نہیں کرتے۔ کئی اداروں کے ملازمین عوام کی خدمت کرنے کے بجائے انہیں ذلیل کرنا ہی اپنا کام سمجھ بیٹھے ہیں۔ نتیجہ یہ ہے کہ جب کوئی قدرتی آفت آتی ہے یا کوئی ہنگامی صورتِ حال پیدا ہوتی ہے تو عوام کی نظریں فوج کی طرف اٹھتی ہیں۔

یہ وہ لمحہ ہوتا ہے جب ایک سپاہی، جو بارڈر پر دشمن کی آنکھوں میں آنکھ ڈال کر کھڑا رہتا ہے، اچانک کسی گاؤں کی گلی میں بیلچہ سنبھالے پانی نکالتا نظر آتا ہے۔ وہی فوجی کبھی زلزلے کے ملبے تلے دبے لوگوں کو نکالتا ہے، کبھی سیلاب میں ڈوبے بچوں کو کندھوں پر اٹھائے محفوظ جگہ پہنچاتا ہے، کبھی بھوکوں کو کھانا کھلاتا ہے اور کبھی ننگے جسموں کو کپڑے فراہم کرتا ہے۔

سوال یہ ہے کہ کیا یہ سب اس کی تنخواہ میں شامل ہے؟ بالکل نہیں۔ فوج کو صرف اور صرف اپنی عسکری ذمہ داریوں کے لیے تنخواہ دی جاتی ہے۔ لیکن عوام کی خدمت، ان کے دکھ درد میں ساتھ دینا اور اپنی جان خطرے میں ڈال کر مدد کرنا، یہ فوج کا احسان ہے۔دنیا کی فوجوں کو یہ سب کچھ کرنے کی ضرورت پیش نہیں آتی کیونکہ ان کے ادارے ذمہ داری نبھاتے ہیں۔

ہماری فوج یہ سب کچھ اس لیے کرتی ہے کیونکہ ہمارے ادارے ناکام ہیں۔ یہی حقیقت ہے جو ہمارے معاشرے میں بار بار فوج کو “سویلین معاملات” میں بھی کھڑا کر دیتی ہے۔یہ بات درست ہے کہ فوج اپنی قربانیوں کو احسان نہیں جتاتی، لیکن بطور قوم یہ ہماری ذمہ داری ہے کہ ہم اس خدمت کو محض “نوکری” کہہ کر نظرانداز نہ کریں۔ ایک ایسی فوج جو نہ صرف سرحدوں کی حفاظت کرتی ہے بلکہ آفات، حادثات اور مشکلات میں عوام کے ساتھ کھڑی ہوتی ہے، وہ صرف بارڈر کی محافظ نہیں بلکہ دلوں کی فوج ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں