عنوان: پاکستان کی خارجہ پالیسی: نئے اتحاد، نئی پہچان

116

تحریر: نعیم الحسن نعیم
دنیا کی سفارتی بساط پر وہی ملک مقام حاصل کرتا ہے جو جرات، عزت نفس اور تدبر کے ساتھ اپنی خارجہ پالیسی مرتب کرے۔ آج اگر ہم نگاہ دوڑائیں تو پاکستان کی سفارتی سمت اور اس کا اثرورسوخ واضح طور پر ایک نئے عالمی مقام کی جانب اشارہ کر رہا ہے۔ وہ پاکستان جسے کبھی عالمی تنہائی کا شکار سمجھا جاتا تھا، آج دنیا کی بڑی طاقتیں اس کے ساتھ کھڑا ہونے پر فخر محسوس کر رہی ہیں۔ایران کی گلیوں میں ’تشکر پاکستان‘ کے نغمے صرف شکریہ نہیں، بلکہ برادری اور اتحاد کی نئی بنیاد کی علامت ہیںسعودی عرب جیسے روایتی دوست ملک کا ’انا الباکستان، ما فی خوف‘ کہنا اس بات کا ثبوت ہے کہ آج پاکستان نہ صرف دفاعی اعتبار سے مضبوط ہے بلکہ مسلم امہ کا اعتماد حاصل کرنے میں کامیاب ہو چکا ہے۔

چین جیسے معاشی دیو کے ساتھ تعلقات صرف CPEC تک محدود نہیں رہے، بلکہ چین نے پاکستان کو اپنی قومی تقریبات میں خصوصی مقام دے کر ایک عالمی اتحادی کے طور پر تسلیم کیا ہے۔ آذربائیجان کی گلیوں میں “دل دل پاکستان” گونجنا محض ایک جذباتی اظہار نہیں، بلکہ مشترکہ دشمن کے خلاف ایک خالص سفارتی ہم آہنگی کاے پیغام ہے۔ترکی کے ساتھ عسکری، ثقافتی اور سیاسی تعلقات آج اپنے عروج پر ہیں۔ دونوں اقوام اسلام، تاریخ، اور نظریے کی بنیاد پر ایک دوسرے کے مزید قریب آ چکی ہیں۔امریکہ جیسے عالمی طاقت نے پاکستان سے جنگ بندی کی اپیل کی، جو ماضی کے مقابلے میں ایک نرم اور حقیقت پسندانہ رویے کی عکاسی کرتا ہے۔ وہ پاکستان جسے کبھی صرف ’سہولت کار‘ سمجھا جاتا تھا، آج ایک باوقار شراکت دار کے طور پر پہچانا جا رہا ہے۔

روس اور وسطی ایشیائی ریاستیں پاکستان کو اب نئے زاویے سے دیکھ رہی ہیں اقتصادی راہداریوں سے لے کر دفاعی معاہدوں تک، ہر میدان میں پاکستان کو ایک مستحکم پارٹنر سمجھا جا رہا ہے افغانستان میں پاکستان نے جس جرأت سے دہشتگردی کے خلاف کارروائیاں کی ہیں، وہ نہ صرف خطے میں امن کا ضامن بن رہی ہیں بلکہ پاکستان کو سیکیورٹی کے ایک ذمہ دار ملک کے طور پر دنیا کے سامنےگ لا کھڑا کیا ہے۔نائیجیریا جیسا افریقی ملک پاکستان سے اسلحہ اور جہاز خرید رہا ہے، جو ہماری دفاعی صنعت کی ساکھ کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ ملائیشیا، انڈونیشیا، بنگلہ دیش اور نیپال جیسے ممالک پاکستان کے جرات مندانہ اور متوازن خارجہ اقدامات کو نہ صرف سراہتے ہیں بلکہ ان پر اعتماد بھی ظاہر کر رہے ہیں۔

دس مئی کے واقعات کے بعد عالمی میڈیا، بین الاقوامی ادارے اور سفارتی حلقے پاکستان کی قوتِ مدافعت، تدبر اور سفارتی فہم و فراست کو تسلیم کر چکے ہیں۔اور یہی تو اصل کامیاب خارجہ پالیسی ہے.یہ وہ پالیسی ہے جو جنگوں سے گریز اور عزت سے سمجھوتہ کیے بغیر تعلقات کو پروان چڑھاتی ہے۔ جو دوستوں کو قریب اور دشمنوں کو محتاط بنا دیتی ہے۔ یہ پاکستان کی وہ سفارتی فتح ہے جو کسی جنگ سے کم نہیں، جس نے قومی وقار، بین الاقوامی اعتماد اور عالمی توازن کو ایک نئی راہ دی ہے۔‏ایران ‘تشکر پاکستان’ کے ترانے گا رہا ہے۔‏سعودیہ ‘انا الباکستان ما فی خوف’ کے نغمے گا رہا ہے۔

‏چائنہ میں آپ اسی سالہ تقریبات کے خصوصی مہمان ٹھہرتے ہیں۔‏آذربائیجان کی گلیوں میں دل دل پاکستان کے نغمے گونجتے ییں۔‏ترکی کے ساتھ دفاعی تعلقات اپنے عروج پہ ہیں۔‏امریکہ کی جنگ بندی کی درخواست قبول کر کے آپ وہائٹ ہاؤس تک اثر رسوخ قائم کر چکے ہیں۔‏روس اور سینٹرل ایشائی ریاستیں دس مئی کے بعد آپ کو پہلے سے مختلف تناظر میں ڈیل کر رہے ہیں۔ ‏آرمینیا کو پاکستان نے چونتیس سال بعد بطور ساورن سٹیٹ تسلیم کیا۔

‏افغانستان میں چھپے ملک دشمن دہستگردوں کا صفایا جاری ہے۔‏نائیجیریا آپ سے جہاز اور اسلحہ خرید رہا ہے۔‏ملائشیا اور انڈونیشیا سمیت مشرق بعید میں آپکے جرات مندانہ جواب کو عزت و پسندیدگی کی نگاہ سے دیکھا جا رہا ہے۔‏بنگلہ دیش کی حکومت اور عوام سے اس وقت پاکستان کے تعلقات اس قدر نقطہء عروج پر ہیں کہ وہاں کی انڈین لابیز کو سروائیول کے لالے پڑے ہوئے ہیں۔‏ دس مئی کی جنگ میں بنگلہ دیشی و نیپالی عوام کی مکمل ہمدردیاں پاکستان کے ساتھ رہیں۔

‏کامیاب خارجہ پالیسی اور کیا ہوتی ہے؟
دنیا تسلیم کر چکی ہے پاکستان اس خطے کا سب سے بڑا چوہدری ہے۔زمانہ جیتنے والوں اور دلیروں کاساتھ دیتا ہے۔دنیا بدل رہی ہے، مگر اصول وہی پرانے ہیں: فتح طاقتور کو ملتی ہے، اور عزت بہادروں کو۔ آج کا پاکستان وہ نہیں جو ماضی میں عالمی منظرنامے پر محض تماشائی ہوتا تھا۔ آج کا پاکستان فیصلہ ساز ہے، ترجیحات طے کرنے والا ہے، اور خطے کی سیاست میں ایک اہم طاقت کے طور پر ابھر چکا ہے۔ یہ سچ آج نہ صرف ہمارے دشمن بلکہ ہمارے دوست بھی تسلیم کر چکے ہیں کہ پاکستان اس خطے کا سب سے بڑا چوہدری بن چکا ہے. پاکستان کا دفاع ناقابلِ تسخیر ہے، فوج دنیا کی بہترین پیشہ ور افواج میں شامل ہے، ایٹمی صلاحیت ہمارے نظریاتی اور جغرافیائی تحفظ کی ضمانت ہے۔

چین جیسے دوست کے ساتھ سی پیک جیسا اقتصادی منصوبہ ہماری معاشی خود مختاری کا راستہ ہموار کر رہا ہے۔ سعودی عرب سے ترکی، قطر سے ایران تک، پاکستان کا اثر رسوخ ہر بڑے فورم پر محسوس کیا جا رہا ہے۔یہ مقام صرف طاقت سے نہیں ملا یہ بہادری، قربانی، جدوجہد اور حکمت کا ثمر ہے۔ آج زمانہ جیتنے والوں کا ہے، اور پاکستان جیت چکا ہے۔
پاکستان ہمیشہ زندہ باد
پاک فوج پائندہ باد

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں