مہاجرین نشستیں ، پس منظر، ناگزیر اصلاحات

112

قلمدان قاضی, قاضی محمد عابد
آزاد جموں و کشمیر کی قانون ساز اسمبلی میں کل 53 نشستیں ہیں، جن میں سے 12 نشستیں مہاجر کشمیریوں کے لیے مخصوص ہیں۔ ان میں سے چھ نشستیں جمّو اور چھ وادیٔ کشمیر کے اُن مہاجرین کے لیے رکھی گئی ہیں جو 1947 کے بعد بھارت کے زیرِ انتظام علاقوں سے ہجرت کر کے پاکستان کے مختلف حصوں میں آباد ہوئے۔

یہ نشستیں آزاد کشمیر کے آئینی اور سیاسی ڈھانچے کا ایک اہم حصہ ہیں۔ 1947 میں ہجرت کے بعد یہ سوال اٹھا کہ ان کشمیری مہاجرین کو کس طرح نمائندگی دی جائے۔ 1970 میں آزاد کشمیر میں پہلی بار بالغ رائے دہی کے تحت انتخابات ہوئے جن میں مہاجرین کو بھی ووٹ اور نمائندگی کا حق ملا۔ بعد ازاں 1974 کے عبوری آئین (ایکٹ نمبر 8 آف 1974) میں ان نشستوں کو باقاعدہ آئینی حیثیت دی گئی، جو آج بھی قائم ہے۔

ان نشستوں کا مقصد یہ دکھانا تھا کہ آزاد کشمیر کی حکومت صرف آزاد علاقوں کی نہیں بلکہ پوری ریاست جمّو و کشمیر کی نمائندہ ہے۔ اس طرح دنیا کو یہ پیغام دیا گیا کہ جب بھی ریاست کے مستقبل کا فیصلہ ہوگا تو آزاد کشمیر کی حکومت پورے خطے کے عوام کی آواز بنے گی۔
وقت کے ساتھ ساتھ یہ نشستیں آزاد کشمیر کی سیاست میں اہم کردار ادا کرتی رہیں۔ پاکستان کے مختلف صوبوں میں آباد مہاجر ووٹر، خاص طور پر پنجاب، سندھ، خیبرپختونخوا اور بلوچستان میں، ان نشستوں پر ووٹ ڈالتے ہیں۔

اکثر اوقات یہی نشستیں حکومت بنانے یا گرانے میں فیصلہ کن کردار ادا کرتی ہیں۔ جب آزاد کشمیر کے اندرونی حلقوں میں کسی جماعت کو واضح اکثریت نہیں ملتی تو یہ نشستیں حکومت سازی میں توازن پیدا کرتی ہیں۔اسی وجہ سے ان پر سیاسی تنازع بھی رہا ہے۔ کچھ لوگ انہیں ریاست جمّو و کشمیر کے تاریخی دعوے کی علامت سمجھتے ہیں، جبکہ کچھ کے نزدیک یہ نشستیں وفاقی مداخلت کا ذریعہ بن چکی ہیں۔

الیکشن کمیشن کے تازہ اعداد و شمار کے مطابق:

جموں‌ چھ نشستوں پر 3 لاکھ 74 ہزار 756 ووٹرز رجسٹرڈ ہیں (2,17,094 مرد اور 1,57,662 خواتین)۔

وادیٔ کشمیر کی چھ نشستوں پر 30 ہزار 586 ووٹرز رجسٹرڈ ہیں (16,384 مرد اور 14,202 خواتین)۔
یوں کل مہاجر ووٹرز کی تعداد 4 لاکھ 5 ہزار 342 بنتی ہے۔

یہ بارہ نشستیں ایک طرف آزاد کشمیر کی سیاسی شناخت کا حصہ ہیں، تو دوسری طرف انتخابی توازن میں بھی ان کا کردار بہت اہم ہے۔ یہی دوہرا پہلو انہیں آئینی طور پر ضروری اور سیاسی طور پر حساس بناتا ہے۔

حالیہ عوامی تحریک (ایکشن کمیٹی کے لانگ مارچ) میں یہ معاملہ خاص طور پر زیرِ بحث آیا۔ لانگ مارچ کے 38 نکاتی مطالبات میں سب سے پہلا مطالبہ یہی تھا کہ مہاجر نشستوں کو حکومت سازی اور وزارتوں کی تقسیم کا حصہ نہ بنایا جائے۔ مذاکرات کے دوران وفاقی وفد نے اس مؤقف کو تسلیم کیا اور اس معاملے پر نظرِثانی کی یقین دہانی کرائی۔

آگے بڑھنے کے لیے چند اہم عملی تجاویز یہ ہیں:

1. مہاجر ووٹر فہرستوں کا آڈٹ اور اپڈیٹ کیا جائے۔

2. رہائش اور شناخت (باشندہ ریاست)کی جانچ سخت کی جائے تاکہ شفافیت یقینی ہو۔

3. عبوری طور پر ان نشستوں کو مشاورتی یا غیرعملیاتی حیثیت دی جائے، یعنی انہیں وزارتوں اور حکومت سازی سے وقتی طور پر الگ رکھا جائے۔

4. ایک آزاد کمیشن تشکیل دیا جائے جو ووٹر اندراج، حلقہ بندی اور آئینی ترامیم پر سفارشات دے۔

5. وزارتوں کی تقسیم کے لیے واضح اور شفاف قواعد بنائے جائیں تاکہ کسی بیرونی دباؤ یا اثراندازی کا امکان نہ رہے۔

6. آئینی ترمیم (Act VIII of 1974) میں ضروری وضاحتیں شامل کی جائیں۔

7. عوامی شنوائی اور پارلیمانی کمیٹیوں کے ذریعے مشاورت کا عمل یقینی بنایا جائے۔

8. عدالتی نگرانی یا قانونی رہنمائی کے ذریعے اصلاحات کو آئینی تحفظ دیا جائے۔

9. اگر ووٹنگ کا نظام برقرار رکھا جائے تو ایک متبادل ادارہ جیسے “ریفیو جی کونسل” یا “مشاورتی بورڈ” بنایا جا سکتا ہے جو رائے دہی کے بجائے مشاورت فراہم کرے۔

اگر یہ اصلاحات بروقت نہ کی گئیں تو سیاسی کشیدگی اور عوامی بےاعتمادی بڑھ سکتی ہے۔ اس لیے ضروری ہے کہ ایک شفاف، منصفانہ اور وقتی منصوبہ بنایا جائے جس میں مقامی آبادی، مہاجرین کے نمائندے، الیکشن کمیشن، پارلیمنٹ اور عدلیہ سب شامل ہوں۔
یہی واحد راستہ ہے جس سے نمائندگی کا نظام مضبوط، شفاف اور سب کے اعتماد کے قابل بنایا جا سکتا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں