استنبول ترکیہ )بق امیر جماعت اسلامی آزاد جموں و کشمیر عبدالرشید ترابی کی سربراہی میں ایک وفد جو کہ ترکیہ کے دورے پر ہے،نے دارالحکومت استنبول میں ترکیہ کی بین الاقوامی انسانی حقوق ریلیف ایجنسی آئی ایچ ایچ “IHH”کے شعبہ بین الاقوامی امور کے عہدیدران کیساتھ ملاقات کی ہے۔مذکورہ ایجنسی نے نہ صرف 08اکتوبر2005میں پاکستان اور آزاد کشمیر میں قیامت خیز زلزلے اور بعدازاں سیلاب متاثرین کی بڑے پیمانے پر مدد اور لوگوں کو عارضی شیلٹر فراہم کیے،بلکہ سنہ 2010 میں غزہ کا محاصرہ توڑنے اور امداد پہنچانے کی غرض سے مرمرہ فریڈیم فوٹیلہ چلایا تھا جس پر صہیونی اسرائیل نے حملہ کرکے کئی افرادشہید کیے تھے۔ملاقات استنبول میں تنظیم کے مرکزی ہیڈکوارٹر میں ہوئی۔وفد میں ریلیف آرگنائزیشن فار کشمیری مسلمز”ROKM”کے چیئرمین اور جماعت اسلامی مقبوضہ جموں و کشمیر کے نمائندے ممتاز کشمیری رہنما نذیر احمد قریشی بھی موجود ہیں۔
انہوں نے اس موقع پر ترکیہ ایجنسی کو مقبوضہ جموں و کشمیر کی موجودہ زمینی صورتحال سے آگاہ کرتے ہوئے کہا کہ بھارت نے جہاں 05اگست2019 میں ریاست کی خصوصی حیثیت منسوخ کی تھی،اب کشمیری عوام کو اس منسوخی کی بھاری قیمت چکانا پڑتی ہے۔ایک تو مقبوضہ جموں و کشمیر کی مسلم اکثریت کو اقلیت میں تبدیل اور دوسرا کشمیری عوام کی جائیداد و املاک ،رہائشی مکانوں پر قبضہ،کشمیری نوجوانوں کو جھوٹے اور من گھڑت الزامات کے تحت بدنام زمانہ قوانین پبلک سیفٹی ایکٹ PSAاور UAPA کے تحت جیلوں میں سڑایا جاتا ہے۔نہ انہیں عدالتوں میں پیش کیا جاتا ہے اور نہ ہی عدالتیں ان معصوم اور بے گناہ کشمیری نوجوانوں کی بلاجواز گرفتاریوں کا نوٹس لیتی ہیں۔اب کشمیری نوجوانوں کو تعلیمی اداروں میں داخلوں سے محرو م اور نوکریوں کے دروازے بھی کشمیریوں کے بجائے بھارتی شہریوں کیلئے کھول دیئے گئے ہیں.
یوں اپنی ہی سرزمین پر اہل کشمیر کو اجنبی بناکر بے یارو مددگار چھوڑ دیا گیا ہے۔نذیر احمد قریشی نے یہ بات زور دیکر کہی کہ مودی کے ظالمانہ اقدامات کے باوجود کشمیری عوام مقبوضہ جموں وکشمیر پر بھارت کے ناجائز قبضے کو تسلیم نہیں کرتے اور وہ حق خود ارادیت کے حصول کیلئے اپنی جدوجہد سے باز نہیں آتے ۔یہی وجہ ہے کہ آج بھی کشمیری عوام عظیم اور لازوال قربانیوں کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہیں،جو 27اکتوبر1947کا تسلسل ہے،جب جموں میں ڈوگرہ افواج کیساتھ آر ایس ایس،ویشوا ہندو پریشد VHP،بجرنگ دل اور دوسرے ہندو انتہاپسند غنڈوں نے تقریبا ساڑھے تین لاکھ مسلمانوں کا تہیہ تیغ کیا۔انہوں نے ترکیہ ایجنسی پر زور دیا کہ وہ مقبوضہ جموں و کشمیر میں بھارتی مظالم کو بے نقاب کرنے میں اپنا کردار ادا کریں،کیونکہ ترکیہ یورپ کے سنگم پر واقع اور نیٹو کا اتحادی ہے۔
کشمیری وفد نے ترکیہ ایجنسی کو مقبوضہ جموں و کشمیر کی زمینی صورتحال کا خود جائزہ لینے کیلئے اپنے وفود بھیجنے کی درخواست کی ہے،تاکہ وہ اپنی آنکھوں سے کشمیری عوام پر ڈھائے جارہے بھارتی مظالم کا مشاہدہ کرسکیں۔ترکیہ ایجنسی نے کشمیری وفد کو یقین دلایا کہ وہ نہ صرف غزہ میں صہیونی اسرائیل بلکہ مقبوضہ جموں و کشمیر میں بھی برہمن بھارت کے ہاتھوں نسل کشی کو بے نقاب کرنے میں اپنا کردار ادا کرنے میں کوئی ہچکچاہٹ محسوس نہیں کرے گی،تاکہ معصوم انسانی جانوں کو بچایا جاسکے۔کشمیری وفد نے ترکیہ ایجنسی کے عہدیداروں کا مقبوضہ جموں و کشمیر میں بھارتی مظالم کو بے نقاب کرنے میں اپنا کردار ادا کرنے کی خواہش کا اظہار کرنے پر ان کا شکریہ ادا کیا ہے۔