تحریر:نعیم الحسن نعیم
ہزاروں سال نرگس اپنی بے نوری پہ روتی ہے
بڑی مشکل سے ہوتا ہے چمن میں دیدہ ور پیدا.
کچھ لوگ منصب سے بڑے ہوتے ہیں، کچھ کردار سے امر۔ ان کی موجودگی صرف ایک فرد کی نہیں، ایک عہد کی علامت ہوتی ہے۔ وہ جہاں بیٹھتے ہیں مجلس کو وقار بخش دیتے ہیں۔ ان کی خاموشی بھی گفتار سے زیادہ اثر رکھتی ہے، اور ان کے الفاظ تہذیب، فہم اور شعور کا آئینہ ہوتے ہیں۔ایسے لوگ صرف سیاست نہیں کرتے، وہ اقدار کی بنیاد رکھتے ہیں۔ وہ اختلاف کو دشمنی نہیں بننے دیتے، بلکہ ہر زاویے کو برداشت اور احترام سے سنتے ہیں۔ ان کے رویے میں شرافت جھلکتی ہے، بات میں تہذیب دکھتی ہے، اور کردار میں وہ مضبوطی ہوتی ہے جو وقت کے تھپیڑوں میں بھی قائم رہتی ہے۔وہ خود میں ایک مکمل درسگاہ ہوتے ہیں، جو خاموشی سے بہت کچھ سکھا جاتے ہیں بغیر تقریر، بغیر اعلان کے۔ ان کی سادہ سی بات بھی اثر رکھتی ہے، اور ان کا اصولی رویہ آنے والی نسلوں کے لیے مشعلِ راہ بن جاتا ہے۔یہ لوگ نایاب ہوتے ہیں، اور ان کی قدر وہی جانتا ہے جسے اخلاق، ظرف اور اصل قیادت کی پہچان ہو۔کچھ شخصیات صرف نام نہیں ہوتیں، وہ عہد ساز ہوتی ہیں۔
ان کے لہجے میں نرمی، باتوں میں گہرائی، اور کردار میں ایسی مضبوطی ہوتی ہے جو صدیوں میں جا کر بھی ماند نہیں پڑتی۔ نہ وہ مناصب کی طلب رکھتے ہیں، نہ شہرت کی پیاس، کیونکہ ان کا وقار ان کی شخصیت سے جڑا ہوتا ہے ایسے باوقار اور بااخلاق لوگ درحقیقت ایک “چلتی پھرتی درسگاہ” ہوتے ہیں۔ ان کے سائے میں نظریے پروان چڑھتے ہیں، اخلاق نکھرتے ہیں اور آنے والی نسلوں کے لیے راستے واضح ہوتے ہیں۔ان کی موجودگی معاشرے کے لیے نعمت، اور ان کی کمی ایک خلا ہوتا ہے جو وقت پر کرنا ممکن نہیں ہوتا۔ یہ وہ لوگ ہوتے ہیں جو شخص نہیں، ادارہ بن جاتے ہیں.انہی شخصیات میں ایک ایسا نام بھی شامل ہے جو نہ صرف اپنی شخصیت بلکہ اپنے جذبے کردار اور عزم کی بدولت آزاد کشمیر کی سیاست میں ایک منفرد مقام رکھتا ہے۔ بڑے باپ کے بڑے بیٹے، سابق وزیراعظم آزادکشمیر اور صدر آل جموں کشمیر مسلم کانفرنس، سردار عتیق احمد خان وہ مثال ہیں جنہیں اعلیٰ ظرفی، اخلاقیات اور اقدار کی ایک زندہ یونیورسٹی سمجھا جاتا ہے۔ان کی سیاست میں نہ صرف حکمت عملی کی چمک ہے بلکہ انسانیت کی گہرائی بھی شامل ہے۔
ان کے الفاظ میں وقار ان کے رویے میں شرافت اور ان کے عمل میں اصولوں کی پاسداری نمایاں ہے۔ جہاں سیاست میں اکثر سفارشیوں اور مفادات کی بالا دستی ہوتی ہے، وہاں سردار عتیق احمد خان کی شخصیت ایک چراغ کی مانند ہے جو سچائی اور دیانت کا راستہ روشن کرتی ہے۔ان کی قیادت میں مسلم کانفرنس ایک مشکل دور سے گزر رہی ہے لیکن انہوں نے کبھی بھی اپنی منزل کو مفادات یا ذاتی خواہشات کے آگے نہیں جھکنے دیا. آزاد کشمیر کی سیاست میں ایک ایسا واحد شخصیت جس کی زبان کبھی بے حیائی، گالم گلوچ، بے مہذبی یا غیر شائستہ باتوں سے آلودہ نہیں ہوئی۔ جس کی گفتگو میں اخلاق اور سنجیدگی کی جھلک ہر لمحہ نمایاں رہی۔ سردار عتیق احمد خان کی یہ نفیس شخصیت آزاد کشمیر کے نوجوانوں کے لیے روشنی کا مینار اور ایک مثالی رول ماڈل ہے۔ اختلافات کے باوجود، ہر باشعور فرد ان کی گہری صلاحیتوں اور دینی و دنیاوی علم کے وسیع سمندر کو تسلیم کیے بغیر نہیں رہ سکتا۔آزاد کشمیر میں حالیہ دنوں میں سردار عتیق احمد خان کو شدید تنقید کا سامنا کرنا پڑا.
بقول شاعر
مٹی کی محبت میں ہم آشفتہ سروں نے
وہ قرض اتارے ہیں کہ واجب بھی نہیں تھے
مگر انہوں نے اس طوفانِ ناقدین کے درمیان بھی اپنی بصیرت اور تحمل کا مظاہرہ کیا۔ نیشنل چینل پر بیٹھ کر نہ صرف انہوں نے اپنے موقف کو واضح اور مؤثر انداز میں پیش کیا بلکہ اپنی مدبرانہ سوچ سے سب کو متاثر بھی کیا۔ یہی بصیرت اور پختہ مزاجی ہے جو انہیں ایک مضبوط اور معتبر رہنما کے طور پر منوانے میں مدد دیتی ہے۔ تنقید کے باوجود ان کا پرسکون رویہ اور منطقی انداز ان کی شخصیت کی گہرائی اور سیاسی حکمت کا ثبوت ہے.کہتے ہیں کہ گھنے درخت کے سائے تلے نیا درخت پروان نہیں چڑھ پاتا اور بڑے باپ کے بیٹے کی عظمت بھی کم تر سمجھی جاتی ہے۔ مگر سردار عتیق احمد خان نے اس روایتی سوچ کو یکسر چیلنج کر دیا ہے۔ انہوں نے ثابت کیا کہ عظمت صرف وراثت نہیں بلکہ شخصیت علم اور اخلاق کا مجموعہ ہے۔ میرا ماننا ہے کہ سیاسی اور نظریاتی اختلافات اپنی جگہ، مگر ایسے لوگ جو اپنی سوچ، اپنے کردار اور اپنی بصیرت سے نمایاں ہوتے ہیں.
انہیں بڑے دل سے تسلیم کرنا چاہیے۔ سردار عتیق ایک صاحبِ مطالعہ، سنجیدہ اور دانشور شخصیت کے مالک ہیں، جو ایک اچھے انسان اور قابلِ احترام لیڈر کی تمام خصوصیات رکھتے ہیں۔آنے والا کل کون جانتا ہے؟ مگر یہ ضرور جاننا چاہیے کہ گھروں میں بیٹھ کر بلاوجہ کسی کی تذلیل کرنا نہ تو ہماری شخصیت کو بڑا کرتا ہے اور نہ ہی دوسروں کا قد گھٹاتا ہے۔ اصل نقصان تو ہمارے اپنے نفس کو پہنچتا ہے۔ہمیں اپنے دلوں کو وسیع کرنا ہوگا تبھی معاشرہ اور سیاست دونوں سنوار سکیں گے۔شاعر نے کیا خوب کہا تھا کہ حبسِ بےجا میں تھی جب شہر کی ہوا آپ جیتے رہے آپ کا حوصلہ
میں اصولوں وغیرہ کا مارا ہوا
مجھ کو مرنا پڑا میں نے غزلیں کہیں.
آپ لاکھ سیاسی اختلاف رکھیں نظریاتی فاصلے ہوں یا جماعتی وابستگیاں جدا ہوں مگر ایک حقیقت سے انکار ممکن نہیں کہ آزاد کشمیر کی موجودہ سیاست میں اگر کسی شخصیت کو اعلیٰ ظرفی اخلاقیات اور سیاسی اقدار کی علامت کہا جا سکتا ہے تو وہ صرف سردار عتیق احمد خان ہیں.اختلافات کے باوجود اپنے مخالفین کی عزت نفس مجروح نہیں کی کردار کشی کے حملے نہیں کیے اور سب سے بڑھ کر اُن جملوں سے ہمیشہ اجتناب برتا جن سے سیاست گالی بن جاتی ہے۔ نہ کبھی اُن کی زبان سے یوتھیا پٹواری یا اوئے طوئے جیسے بازاری الفاظ سنے گئے نہ انہوں نے سیاست کو ذاتی انتقام یا تضحیک کا ذریعہ بنایا۔
آزاد کشمیر کی حالیہ سیاسی فضا میں بعض واقعات کو دانستہ طور پر اُس شخصیت سے جوڑنے کی کوشش کی گئی، جو خود کردار، ظرف اور وقار کی علامت ہے محض اس لیے کہ وہ “کشمیر بنے گا پاکستان” جیسے ولولہ انگیز نظریے کے وارث ہیں، انہیں ہر اُس عمل کا ذمہ دار ٹھہرایا جا رہا ہے جو ان کے اختیار یا کردار سے کوسوں دور ہے۔ یہ ایسی ہی منطق ہے جیسے کوئی بیٹا اگر گمراہی کا راستہ چن لے تو اس کی لغزش کا حساب باپ سے مانگا جائے۔ کیا ہر کارکن ہر پیروکار کی ہر حرکت کا بوجھ قائد کی ذات پر ڈالنا انصاف ہے؟سردار عتیق احمد خان نے اپنے سیاسی سفر میں دلیل سے بات کی، تہذیب کو شعار بنایا اور اختلاف کو دشمنی نہیں سمجھا۔سیاسی تربیت کا تقاضا یہ ہے کہ قائد کے کردار کو کارکن کی لغزش سے نہ جوڑا جائے کیونکہ رہنما وہ ہوتا ہے جو اندھوں کی بھیڑ کو بھی سمت دے نہ کہ ہر بے سمت ہجوم کی غلطی کا ذمہ دار بن جائے۔عتیق احمد خان کا دامن تاریخ کے کٹہرے میں ہمیشہ صاف رہا ہے، اور رہے گا۔
لیکن بقول شاعر
کالی رات کے صحراؤں میں نور سپارہ لکھا تھا
جس نے شہر کی دیواروں پر پہلا نعرہ لکھا تھا
آخر ہم ہی مجرم ٹھہرے جانے کن کن جرموں کے
فرد عمل تھی جانے کس کی نام ہمارا لکھا تھا.