ایران اب کیا کرے؟ دانشمندانہ سفارت کاری ہی آگے کا راستہ

88

تحریر سردار شعیب حیدری
مشرقِ وسطیٰ ایک بار پھر ایک نازک اور فیصلہ کن موڑ پر کھڑا ہے، جہاں ہر قدم نہ صرف خطے بلکہ عالمی امن و استحکام پر گہرے اثرات مرتب کر سکتا ہے۔ ایسے حساس حالات میں پاکستان کی سفارتی کاوشیں ایک ذمہ دار، متوازن اور امن پسند ریاست کے طور پر نمایاں ہو رہی ہیں، جو ہمیشہ سے تنازعات کے حل کے لیے مذاکرات، بردباری اور باہمی احترام کے اصولوں پر یقین رکھتا ہے۔حالیہ پیش رفت سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ مذاکرات کا ایک اہم دور مکمل ہو چکا ہے، جس میں اگرچہ مکمل اتفاقِ رائے حاصل نہیں ہو سکا، لیکن کئی اہم نکات پر پیش رفت ضرور ہوئی ہے۔ اس کے باوجود دوسرے دور کے آغاز سے قبل متعدد رکاوٹیں سامنے آ رہی ہیں۔ ان میں پیچیدہ سفارتی چالیں، باہمی بداعتمادی، اور دونوں ممالک کی داخلی سیاسی مجبوریاں شامل ہیں، جو مذاکراتی عمل کو سست روی کا شکار کر رہی ہیں۔ بظاہر دونوں فریق مذاکرات کے خواہاں ہیں، مگر عملی طور پر اعتماد کی فضا تاحال مکمل طور پر بحال نہیں ہو سکی۔

امریکی صدر کی حالیہ سوشل میڈیا پوسٹ نے صورتحال کو مزید حساس بنا دیا ہے۔ انہوں نے پاکستان کی اعلیٰ قیادت، خصوصاً فیلڈ مارشل عاصم منیر اور وزیر اعظم شہباز شریف صاحب کی درخواست پر سیز فائر میں غیر معینہ مدت تک توسیع کا عندیہ دیا ہے۔ یہ پیش رفت بظاہر مثبت ہے، لیکن اس کے ساتھ ساتھ امریکی بیانات میں پائی جانے والی تضاد بیانی، اور آبنائے ہرمز کی ممکنہ ناکہ بندی نے عالمی سطح پر تشویش میں اضافہ کر دیا ہے۔اسی تناظر میں ایک اہم سفارتی پیش رفت نائب امریکی صدر کے مجوزہ دورۂ پاکستان کی منسوخی بھی ہے، جسے سفارتی حلقوں میں غیر معمولی اہمیت دی جا رہی ہے۔ اس منسوخی کو محض ایک معمول کا واقعہ قرار نہیں دیا جا سکتا، بلکہ یہ اس امر کی عکاسی کرتا ہے کہ خطے کی صورتحال اس قدر پیچیدہ ہو چکی ہے کہ بڑے سفارتی اقدامات بھی غیر یقینی کا شکار ہیں۔ اس کے باوجود پاکستان نے اپنی سفارتی کوششوں میں تسلسل برقرار رکھا ہے، جو قابلِ تحسین ہے۔ ایران کی جانب سے ردعمل نسبتاً جارحانہ دکھائی دیتا ہے، جو اس کی سیاسی اور عسکری قیادت کے درمیان ہم آہنگی کے فقدان کی نشاندہی بھی کرتا ہے۔

اگر یہ خلا برقرار رہا تو یہ نہ صرف میدانِ جنگ بلکہ سفارتی سطح پر بھی ایران کے لیے نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے۔ بلاشبہ ایران نے جس جرات، بہادری اور استقامت کے ساتھ امریکہ اور اسرائیل کا مقابلہ کیا، وہ تاریخ میں ایک اہم باب کے طور پر یاد رکھا جائے گا، لیکن موجودہ حالات میں صرف جرات کافی نہیں بلکہ حکمت، تدبر اور دور اندیشی کی اشد ضرورت ہے۔
اب اصل سوال یہی ہے کہ ایران کو کیا کرنا چاہیے؟سب سے پہلے ایران کو اپنی سفارتی حکمت عملی کو ازسرِ نو ترتیب دینا ہوگا۔ محاذ آرائی کے بجائے مفاہمت کو ترجیح دینا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ وقتی پسپائی کو کمزوری نہیں بلکہ ایک بڑی اور طویل المدتی حکمت عملی کے طور پر دیکھا جانا چاہیے۔ ایران اگر دانشمندی سے قدم اٹھائے تو وہ نہ صرف دباؤ کو کم کر سکتا ہے بلکہ بہتر شرائط کے ساتھ مذاکرات کی میز پر بھی واپس آ سکتا ہے۔دوسری اہم بات یہ ہے کہ ایران اپنی سیاسی اور عسکری قیادت کے درمیان مکمل ہم آہنگی پیدا کرے۔ کسی بھی بحران میں داخلی اختلافات بیرونی دباؤ کو کئی گنا بڑھا دیتے ہیں۔

ایک متحد اور واضح مؤقف نہ صرف مذاکراتی عمل کو مضبوط بناتا ہے بلکہ عالمی سطح پر اعتماد بھی بحال کرتا ہے۔تیسری تجویز یہ ہے کہ ایران خطے کے اہم ممالک، خصوصاً سعودی عرب اور قطر کے ساتھ تعلقات میں بہتری لانے کی سنجیدہ کوشش کرے۔ اگر یہ ممالک کھل کر مخالف صف میں آ گئے تو صورتحال مزید گھمبیر ہو سکتی ہے، اور اس کے اثرات پورے خطے پر مرتب ہوں گے، جن میں پاکستان بھی شامل ہے۔ پھر ایسا ہونا مشکل ہوگا کہ پاکستان اپنی غیر جانبداری قائم رکھ سکے .چوتھی اور نہایت اہم بات یہ ہے کہ ایران کو آبنائے ہرمز جیسے حساس معاملے پر لچک کا مظاہرہ کرنا ہوگا۔ اگرچہ اس کا مؤقف اپنی جگہ قابلِ فہم ہو سکتا ہے، لیکن عالمی معیشت کا انحصار اس اہم گزرگاہ پر ہے۔ اس کی بندش نہ صرف عالمی ردعمل کو شدید کرے گی بلکہ ایران کو مزید سفارتی تنہائی کی طرف بھی دھکیل سکتی ہے۔جہاں تک پاکستان کا تعلق ہے، تو وہ اس پورے معاملے میں نہایت متوازن اور ذمہ دارانہ کردار ادا کر رہا ہے۔ ایک طرف ایران کے ساتھ اس کے برادرانہ تعلقات ہیں، تو دوسری جانب عالمی برادری کے ساتھ اپنے روابط اور سفارتی توازن کو برقرار رکھنا بھی اس کی ضرورت ہے۔ پاکستان کی قیادت نے جس بصیرت اور سنجیدگی کے ساتھ فریقین کو مذاکرات کی میز پر لانے کی کوشش کی ہے، وہ لائقِ تحسین ہے۔ یہ کردار نہ صرف پاکستان کے مثبت تشخص کو اجاگر کرتا ہے بلکہ اسے ایک مؤثر ثالث کے طور پر بھی سامنے لاتا ہے۔

آخر میں یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ جنگ کسی مسئلے کا حل نہیں بلکہ نئے بحرانوں کو جنم دیتی ہے۔ ایران اگر اس نازک مرحلے پر دانشمندی، تحمل اور دور اندیشی کا مظاہرہ کرے تو وہ نہ صرف ایک بڑے بحران سے بچ سکتا ہے بلکہ خطے میں ایک ذمہ دار اور باوقار طاقت کے طور پر بھی اپنی حیثیت مستحکم کر سکتا ہے۔ یہی وقت ہے کہ فیصلے جذبات کے بجائے حکمت کے تحت کیے جائیں، تاکہ نہ صرف ایران بلکہ پوری امتِ مسلمہ اور دنیا ایک نئے امتحان سے محفوظ رہ سکے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں