تحریر:سید افراز گردیزی
بچھی عالمی بساط میں شاید سب کچھ ترتیب سے آگے بڑھ رہا ہو یا ایسا نہیں بھی ہو سکتا ۔ریاستوں کے مسائل حل کرنے کا اپنا میکانزم ہوتا ہے جس میں ہر ریاست اپنے مفادات کو پیش نظر رکھتی ہے۔پاکستان کو بین الاقوامی بحران میں کردار ادا کرنے کا موقع ملا اور پاکستان سول و عسکری قیادت ریاستی مفاد کو مقدم رکھتے ہوئے کوشش کر رہی ہے ۔
سمندروں میں جاری کشمکش کے اثرات دنیا بھر میں محسوس ہو رہے ہیں۔کیا پتہ ورلڈ آرڈر کی شکل ہی تبدیل ہونے جا رہی ہو ۔
اندرون ملک کچھ چیزیں توجہ طلب ہیں
پبلک ٹرانسپورٹ اور مال بردار گاڑیوں کی نقل و حرکت میں کمی آزاد کشمیر اور جڑواں شہوں کے مکینوں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے .
سرکاری نگرانی میں مخصوص گاڑیاں چلانے کی سہولت ہونی چاہئیے.
دنیا کی ایک آبنائے ہرمز بند ہے یہاں ہر ناکہ ،ہرمز،کی طرح لگنے لگا ہے.
گزرنے والے گزر جاتے ہیں لیکن یہ کام اب ،مفت،میں نہیں ہوتا .
اب باغ اور دوسرے شہریوں سے پنڈی پہنچنا عام آدمی کے لیے مشکل تر بن رہا ہے ۔
مریض اور بیرون ملک سفر کرنے والوں کی مشکلات بڑھتی جا رہی ہیں۔
انتظامی اداروں کی صلاحیتوں کا امتحان یہیں تو بنتا ہے کہ وہ سیکورٹی کو یقینی رکھتے ہوئے نظام چلاتے رہے لیکن یہاں بیرل اور ناکے لگا کر سب کچھ بند کرنے کو ،نظام چلانا ،سمجھ لیا گیا ہے ۔
اس پر پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کے مسلسل ،کچوکے،اضافی ہیں۔
ملک چلانے والی سول و عسکری قیادت جو کر رہی ہے اس سے ہمیں بہت سی اچھی توقعات وابستہ ہیں لیکن جو نیچے ہو رہا اس کے مضمرات کا اندازہ کوئی نہیں کر رہا .کہیں ایسا نہ ہو جب یہ بادل چھٹ جائیں تو ہمیں لگے کہ ہمارا بھی بہت نقصان مزید ہو چکا ہے۔ابھی عام آدمی اس لیے مشکل سہہ رہا ہے کہ شاید اس مشکل کے بعد آسانی ہے اسے جب آسانی کے آثار نظر نہ آئے تو وہ،خسارہ،پورا کرنا مشکل ہو گا ۔