معرکۂ حق / آپریشن “بُنْیَانٌ مَّرْصُوْصٌ” اور ہماری ذمہ داریاں

85

تحریر:ڈاکٹر عامر جہانگیر
قوموں کی تاریخ محض واقعات کا تسلسل نہیں بلکہ شعور، قربانی اور نظریاتی استقامت کا آئینہ ہوتی ہے۔ بعض لمحات ایسے ہوتے ہیں جو قوموں کی تقدیر کا رخ متعین کرتے ہیں اور انہیں ایک نئی فکری جہت عطا کرتے ہیں۔ معرکۂ حق، “بُنْیَانٌ مَّرْصُوْصٌ” ایک ایسا تاریخی سنگِ میل ہے جو صرف عسکری کامیابی نہیں بلکہ ایک فکری و اخلاقی بیداری کا استعارہ ہے۔”بُنْیَانٌ مَّرْصُوْصٌ” کی اصل جڑ قرآنِ حکیم میں ملتی ہے۔ اللہ تعالیٰ سورۃ الصف میں فرماتا ہے۔ ترجمہ؛ “بے شک اللہ ان لوگوں سے محبت کرتا ہے جو اس کی راہ میں اس طرح صف باندھ کر لڑتے ہیں گویا وہ سیسہ پلائی ہوئی دیوار ہیں۔”یہ آیت صرف جنگی حکمتِ عملی کی طرف اشارہ نہیں کرتی بلکہ ایک مکمل اجتماعی نظم و ضبط، اتحاد اور مقصدیت کی تصویر پیش کرتی ہے۔ تفسیر ابن کثیرکے مطابق اس سے مراد وہ جماعت ہے جو باہم جڑی ہوئی ہو، جس کے افراد کے درمیان نہ اختلاف ہو اورنہ کمزوری۔اسی طرح تفسیر طبری نے اس آیت کو امت کے اجتماعی نظم اور قیادت کی اطاعت کے تناظر میں بیان کیا گیا ہے، جو کسی بھی کامیابی کی بنیادی شرط ہے۔

اگر ہم اس تصور کو عملی شکل میں دیکھنا چاہیں تو سیرتِ طیبہ اس کی بہترین مثال فراہم کرتی ہے۔ غزوہ بدر اس کی روشن مثال ہے، جہاں تعداد اور وسائل کی کمی کے باوجود مسلمانوں نے ایمان، اتحاد اور نظم و ضبط کے ذریعے ایک عظیم فتح حاصل کی۔اسی طرح غزوہ احد ہمیں یہ سبق دیتا ہے کہ نظم و ضبط سے معمولی انحراف بھی بڑے نقصان کا سبب بن سکتا ہے۔ یہ دونوں واقعات اس حقیقت کو واضح کرتے ہیں کہ کامیابی کا انحصار صرف طاقت پر نہیں بلکہ اصولوں کی پابندی پر ہوتا ہے۔بعد ازاں فتح مکہ ہمیں یہ درس دیتی ہے کہ حقیقی کامیابی وہ ہے جس میں اخلاقی برتری اور عفو و درگزر شامل ہو۔ حضور اکرم ﷺ نے اپنے بدترین دشمنوں کو معاف کر کے یہ ثابت کیا کہ ایک مضبوط قوم صرف فاتح نہیں بلکہ اخلاقی طور پر بھی بلند ہوتی ہے۔اسی طرح اسلامی تاریخ میں معرکہ یرموک اور معرکہ قادسیہ وہ مثالیں ہیں جہاں نظم و اتحاد نے بڑی سلطنتوں کو شکست دی۔عالمی تناظر میں دیکھا جائے تو برصغیر کی تاریخ میں تحریک پاکستان ایک واضح مثال ہے جہاں ایک نظریے، قیادت اور اتحاد نے ایک نئی ریاست کے قیام کو ممکن بنایا۔

جدید محققین اور مفکرین کے نزدیک قوموں کی ترقی تین بنیادی اصولوں میں پنہاں ہے:1. اجتماعی شعور،2. ادارہ جاتی مضبوطی، اور 3. اخلاقی قیادت۔ معروف مؤرخ ابن خلدون اپنی شہرۂ آفاق تصنیف المقدمہ میں “عصبیت” (social cohesion) کو ریاست کے عروج و زوال کی بنیادی وجہ قرار دیتے ہیں۔ ان کے مطابق جب قوم میں اتحاد اور اجتماعی شعور کمزور پڑ جاتا ہے تو زوال شروع ہو جاتا ہے۔اسی طرح جدید مفکر ارنلڈ ٹائن بی اپنی کتاب A Study of History میں لکھتے ہیں کہ قومیں چیلنجز کا جواب جس انداز میں دیتی ہیں، وہی ان کے مستقبل کا تعین کرتا ہے۔”بُنْیَانٌ مَّرْصُوْصٌ”یہ اصطلاح اپنے اندر ایک پورا فلسفہ سموئے ہوئے ہے۔ یہ ہمیں یاد دلاتی ہے کہ ایک مضبوط قوم اینٹوں کے انبار سے نہیں بلکہ باہم جڑے ہوئے دلوں، یکسو ارادوں اور مشترکہ مقصد سے تشکیل پاتی ہے۔ جب قوم اور اس کی افواج ایک ہی صف میں کھڑی ہوں، جب دعائیں اور قربانیاں ایک ہی سمت میں بہہ رہی ہوں، تو پھر کوئی طوفان اس دیوار کو متزلزل نہیں کر سکتامگر سوال یہ ہے کہ اس تاریخی معرکے کے بعد ہماری ذمہ داریاں کیا ہیں؟ کیا یہ کامیابی محض جشن منانے کا تقاضا کرتی ہے، یا یہ ہمیں ایک نئے عہد، ایک نئی سوچ اور ایک نئے کردار کی دعوت دیتی ہے؟

سب سے پہلی ذمہ داری شعور کی ہے۔ ایک زندہ قوم وہ ہوتی ہے جو اپنی کامیابیوں کو سمجھتی ہے، ان کے اسباب کا ادراک کرتی ہے اور انہیں اپنی اجتماعی تربیت کا حصہ بناتی ہے۔ ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ یہ کامیابی صرف عسکری قوت کا نتیجہ نہیں بلکہ ایمان، اتحاد اور نظم و ضبط کی عملی تعبیر ہے۔ اگر ہم ان اقدار کو اپنی روزمرہ زندگی میں شامل نہ کر سکیں تو یہ کامیابی محض ایک یادگار بن کر رہ جائے گی۔
دوسری ذمہ داری اتحاد کی ہے۔ “بُنْیَانٌ مَّرْصُوْصٌ” ہمیں یہ سبق دیتا ہے کہ اختلاف رائے اپنی جگہ، مگر قومی مفاد سب سے مقدم ہونا چاہیے۔ ہمیں لسانی، علاقائی اور ذاتی تقسیم سے بالاتر ہو کر ایک ایسی اجتماعی شناخت کو فروغ دینا ہوگا جو ہمیں ایک قوم بناتی ہے۔ یہ اتحاد صرف مشکل وقت میں نہیں بلکہ ہر روز، ہر سطح پر نظر آنا چاہیے۔گھروں میں، اداروں میں اور معاشرتی رویّوں میں۔تیسری ذمہ داری کردار کی ہے۔ قومیں صرف نعروں سے نہیں بلکہ کردار سے بنتی ہیں۔ دیانت داری، محنت، قانون کی پاسداری اور اخلاقی برتری وہ ستون ہیں جن پر ایک مضبوط ریاست کھڑی ہوتی ہے۔ اگر ہم چاہتے ہیں کہ “بُنْیَانٌ مَّرْصُوْصٌ” کا تصور عملی شکل اختیار کرے تو ہمیں اپنے انفرادی کردار کو اس کے مطابق ڈھالنا ہوگا۔ ایک ایماندار شہری، ایک ذمہ دار استاد، ایک مخلص طالب علم، یہ سب اسی مضبوط دیوار کی اینٹیں ہیں۔

چوتھی ذمہ داری فکری بیداری کی ہے۔ جدید دنیا میں جنگیں صرف میدانوں میں نہیں بلکہ بیانیوں میں بھی لڑی جاتی ہیں۔ ہمیں اپنے قومی بیانیے کو مضبوط، مثبت اور حقیقت پر مبنی رکھنا ہوگا۔ افواہوں، مایوسی اور منفی سوچ سے بچنا اور امید، تحقیق اور سچائی کو فروغ دینا ہماری مشترکہ ذمہ داری ہے۔ ایک باشعور قوم ہی اپنے مستقبل کا درست تعین کر سکتی ہے۔پانچویں اور اہم ترین ذمہ داری نئی نسل کی تربیت ہے۔ ہمارے بچے ہمارا اصل سرمایہ ہیں۔ اگر ہم نے انہیں علم، کردار اور قومی شعور سے آراستہ کر دیا تو “بُنْیَانٌ مَّرْصُوْصٌ” صرف ایک آپریشن نہیں بلکہ ایک دائمی قومی مزاج بن جائے گا۔ تعلیمی اداروں، اساتذہ اور والدین کو اس حوالے سے اپنا کردار مزید مؤثر بنانا ہوگا تاکہ آنے والی نسلیں نہ صرف اس تاریخ پر فخر کریں بلکہ اسے آگے بڑھانے کی صلاحیت بھی رکھتی ہوں۔معرکہ حق/اپریشن”بُنْیَانٌ مَّرْصُوْصٌ” ہمیں یہ سبق دیتا ہے کہ کامیابی محض ایک واقعہ نہیں بلکہ ایک مسلسل عمل ہے۔ اگر ہم نے اس کے تقاضوں کو اپنی زندگی کا حصہ بنا لیا تو یہ صرف ایک معرکہ نہیں بلکہ ایک دائمی قومی مزاج بن جائے گا۔یہ ہم سے تقاضا کرتا ہے کہ ہم اپنی صفوں کو مضبوط کریں، اپنے کردار کو بلند کریں اور اپنی نئی نسل کو اس قابل بنائیں کہ وہ اس مشن کو آگے بڑھا سکے۔یہ معرکہ محض ایک فتح نہیں بلکہ ایک ایسا پیغام ہے جو ہمیں اتحاد، شعور اور کردار کی راہ پر گامزن رہنے کی دعوت دیتا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں