تحریر:ڈاکٹر ضمیر اخترخان
محترم سہیل وڑائچ صاحب ملک کے نامورصحافی ہیں۔ ان کی وجہ شہرت توان کامعروف ٹی وی پروگرام”ایک دن جیوکے ساتھ”ہے۔مگران کے کالم بھی ہرخاص وعام کو اپنی طرف متوجہ کرتے ہیں۔ وہ غیرسنجیدہ اندازمیں بہت ہی گہری بات کہہ اورلکھ دیتے ہیں ،جس سے سمجھنے والے باآسانی سمجھ جاتے ہیں۔ حال ہی میں انہوں نے اپنے کالم کاعنوان “برقع میں رہنے دو “بنایا۔ کون ہوگاجواس کالم کی طرف متوجہ نہیں ہوگا۔حضرات وخواتین،بوڑھے وجوان، حتی کہ بچے بھی متوجہ ہوں گے۔ یہ اور بات ہے کہ اس برقع کے اندروہ کچھ نہیں جس کی جستجومیں لوگ اس کالم کوپڑھیں گے۔سہیل وڑائچ صاحب کے کالم “برقع میں رہنے دو!!” کا مرکزی خیال یہ ہے کہ پاکستان میں جمہوری اور آئینی نظام کو برقرار رکھنا ہی ملک کے استحکام، سلامتی اور عالمی ساکھ کے لیے ناگزیر ہے۔وڑائچ صاحب ابتدا میں ان افواہوں کا ذکر کرتے ہیں جن میں مارشل لا کے نفاذ اور فوجی حکمرانی کی بات کی جاتی ہے، مگر وہ واضح کرتے ہیں کہ ماضی کے تمام مارشل لا تجربات (ایوب خان، یحییٰ خان، ضیاء الحق، پرویز مشرف) ناکام ثابت ہوئے اور بالآخر ملک کو دوبارہ جمہوریت کی طرف لوٹنا پڑا۔ اس لیے یہ تصور کہ فوجی حکومت مسائل کا حل ہے، حقیقت کے برعکس ہے۔
کالم کا بنیادی استعارہ “برقع” ہے، جس سے مراد آئین اور جمہوریت ہے۔ مصنف کے مطابق آئین ریاست کو ڈھانپنے والا ایک حفاظتی پردہ ہے؛ اگر یہ ہٹ جائے تو ریاست کی کمزوریاں عیاں ہو جاتی ہیں اور بیرونی طاقتیں فائدہ اٹھا سکتی ہیں۔ اسی طرح عالمی سطح پر بھی مارشل لا حکومتوں کو تنقید، پابندیوں اور تنہائی کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔وہ یہ بھی واضح کرتے ہیں کہ ماضی میں آمروں نے آئین کو معطل یا تبدیل کرکے ایک ہائبرڈ نظام بنانے کی کوشش کی، مگر وہ بھی درحقیقت غیر جمہوری ہی رہا۔ موجودہ حالات میں بھی یہی سوچ غالب نظر آتی ہے کہ جمہوری لبادہ برقرار رکھتے ہوئے نظام چلایا جائے، کیونکہ کھلی آمریت ملک کے لیے نقصان دہ ہو سکتی ہے۔وڑائچ صاحب اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ چاہے جمہوری حکومتیں کمزور یا نااہل ہی کیوں نہ ہوں، وہ غیر جمہوری نظام سے بہتر ہوتی ہیں۔ لہٰذا پاکستان کو چاہیے کہ وہ آئین اور جمہوریت کے “برقع” کو برقرار رکھے اور کسی بھی صورت اسے ترک نہ کرے۔
ہم سمجھتے ہیں کہ پاکستان کے مسلمان نہ مارشل لا چاہتے ہیں اور نہ ہی مغربی جمہوریت بلکہ وہ اسلامی نظام کے نفاذ کی بات کرتے ہیں۔ گزشتہ 79 سالوں میں جمہوریت کاتجربہ بھی کسی نہ کسی طرح کیاگیااور مارشل لاز بھی بھگت لیے گئے۔ اب اللہ جل جلالہ کے حکم کوملحوظ رکھتے ہوئے اور 99 فیصد مسلمانوں کی خواہش کااحترام کرتے ہوئے اسلام کے عادلانہ نظام کی طرف پیش قدمی کرنی چاہیے۔سہیل وڑائچ کے کالم “برقع میں رہنے دو!!” کا خلاصہ اگر ایک فکری و نظریاتی تناظر میں دیکھا جائے تو یہ سوال ابھرتا ہے کہ پاکستان کے عوام کی اصل خواہش کیا ہے۔ ایک اہم نقطۂ نظر یہ ہے کہ پاکستان چونکہ اسلام کے نام پر حاصل کیا گیا تھا، اس لیے یہاں کے عوام کی اکثریت کی بنیادی خواہش نہ صرف کسی خاص سیاسی نظام (مارشل لا یا مغربی طرز کی جمہوریت) سے وابستہ نہیں، بلکہ وہ ایک ایسے نظام کی متلاشی ہے جس میں اللہ کی حاکمیت کو عملی طور پر تسلیم کیا جائے۔
اس تناظر میں آئین اور جمہوریت کو “برقع” سے تعبیر کرنے کا مفہوم یہ لیا جا سکتا ہے کہ محض ظاہری نظام یا ڈھانچہ اصل مقصد نہیں ہونا چاہیے، بلکہ اصل ہدف ایک ایسا عادلانہ نظام قائم کرنا ہے جو اسلامی اصولوں پر مبنی ہو۔ ایسا نظام جس میں معاشرت حیاوالی،غیرمخلوط اورمساوات پر قائم ہو، معیشت سود اور دیگر حرام ذرائع سے پاک اور منصفانہ ہو، اور سیاست امانت، دیانت اور جوابدہی کے اصولوں کے تابع ہو۔وڑائچ صاحب کے پیش کردہ دلائل کہ مارشل لا کے تجربات ناکام رہے، اس بات کو تقویت دیتے ہیں کہ محض طاقت کے بل پر نظام چلانا مسئلے کا حل نہیں۔ اسی طرح محض نام کی جمہوریت بھی اگر انصاف اور عوامی فلاح فراہم نہ کرے تو وہ بھی اپنی روح کھو دیتی ہے۔ لہٰذا ایک مضبوط مؤقف یہ سامنے آتا ہے کہ پاکستان کو اپنی اصل نظریاتی بنیاد—یعنی اسلام—کی طرف رجوع کرنا چاہیے اور ایسا نظام قائم کرنا چاہیے جو اللہ کی حاکمیت اور شریعت کے اصولوں کے مطابق ہو۔
آخر میں یہی کہا جا سکتا ہے کہ پاکستان کے استحکام کا راستہ نہ آمریت میں ہے اور نہ ہی محض مغربی جمہوریت کی نقالی میں، بلکہ ایک ایسے متوازن اور اصولی نظام میں ہے جو اسلامی تعلیمات کے مطابق ہو اور جس میں عدل، شفافیت اور عوامی فلاح کو حقیقی بنیاد بنایا جائے۔ کیا محترم وزیراعظم شہبازشریف ، ان کے دست راست حافظ قرآن فیلڈمارشل سیدعاصم منیر اور ان کے متحرک وزیرخارجہ اسحاق ڈار پارلیمان کے دونوں ایوانوں کو اعتماد میں لے کر اللہ عزوجل ،حاکم مطلق کی خوشنودی کے لیے پاکستان کو اسلام کے عادلانہ نظام کانمونہ بنانے کی کوشش میں اپنی وہ صلاحتیں استعمال کرنے کی طرف متوجہ ہوں گے جن کا مظاہرہ انہوں نے معرکہ حق وباطل “بنیان مرصوص” سے حالیہ مثالی سفارت کاری کے دوران کیا ہے ؟ اس سوال کے جواب سے ہماری دنیاوآخرت کی نجات وابستہ ہے ۔ فھل من مدکر !!