معرکۂ حق تنازعۂ کشمیر سے بنیان المرصوص تک

128

تحریر: سردار عبدالخالق وصی
قوموں کی تاریخ میں کچھ ادوار ایسے ہوتے ہیں جو محض واقعات کا تسلسل نہیں ہوتے بلکہ ایک مکمل فکری، نظریاتی اور عملی معرکے کی صورت اختیار کر لیتے ہیں۔ یہ وہ لمحات ہوتے ہیں جب قومیں اپنے وجود کے جواز، اپنی شناخت کی بنیاد اور اپنے مستقبل کی سمت کے تعین کے لیے ایک ہمہ جہت جدوجہد میں مصروف ہوتی ہیں۔ پاکستان کی تاریخ بھی انہی معرکوں کی داستان ہے—قیامِ پاکستان کے فیصلہ کن مرحلے سے لے کر تنازعۂ کشمیر، سقوطِ ڈھاکہ، دہشت گردی کے خلاف طویل جنگ، اور اب ہائبرڈ وار کے پیچیدہ اور کثیرالجہتی دور تک۔ ان تمام ادوار کو اگر ایک فکری لڑی میں پرونا ہو تو “معرکۂ حق” جیسی تصنیف ایک جامع اور بصیرت افروز رہنمائی فراہم کرتی ہے۔یہ کتاب اپنے خوبصورت سرورق “معرکۂ حق” اور پاکستان کے سبز ہلالی رنگ میں ابھرے ہوئے ایک مضبوط و مصمم مکے کے نشان سے ہی قاری کو اپنی جانب متوجہ کر لیتی ہے، جو عزم، قوت اور مزاحمت کی علامت کے طور پر پوری تصنیف کے مرکزی پیغام کی عکاسی کرتا ہے۔ اس کے اندرونی ابتدائی صفحہ پر سورۃ الصف کی چوتھی آیت درج ہے:
إِنَّ اللَّهَ يُحِبُّ الَّذِينَ يُقَاتِلُونَ فِي سَبِيلِهِ صَفًّا كَأَنَّهُم بُنْيَانٌ مَّرْصُوصٌ
ترجمہ: بے شک اللہ اُن لوگوں سے محبت کرتا ہے جو اس کی راہ میں اس طرح صف بستہ ہو کر لڑتے ہیں گویا وہ سیسہ پلائی ہوئی دیوار ہیں۔

اسی آیتِ مبارکہ کی معنوی گہرائی “بنیان المرصوص” کے تصور کو واضح کرتی ہے، اور یہی وہ روح ہے جو اس کتاب کے انتساب پاکستان کی بہادر مسلح افواج سے لے کر اس کے 214 صفحات تک پوری شدت کے ساتھ محسوس ہوتی ہے۔ یہ کرنل اشفاق حسین کی گیارہویں تصنیف ہے جو فکری، عسکری اور نظریاتی سطح پر ایک مکمل بیانیہ پیش کرتی ہے۔گزشتہ دنوں اس کتاب کی تقریبِ رونمائی میں مجھے بھی محترم و مکرم جناب ڈاکٹر یوسف عالمگیرین صاحب کی طرف سے دعوت نامہ موصول ہوا تو اس تقریب میں شرکت کا موقع ملا۔ بظاہر یہ ایک ادبی تقریب تھی، مگر اس میں عسکری پس منظر، صحافتی بصیرت اور فکری گہرائی کا ایسا امتزاج موجود تھا جو اسے ایک سنجیدہ قومی مکالمہ بنا رہا تھا۔ میرے جاننے والوں میں سابق ڈائریکٹر نیوز پاکستان ٹیلی ویژن عبدالشکور طاہر، سابق ڈپٹی ایڈیٹر نوائے وقت بشیر سلطان، کشمیری محقق یعقوب ہاشمی مرحوم کے فرزند شعوذ ہاشمی اور پروفیسر اکرام سلہری بھی شریک تھے۔ماہنامہ ہلال کے ایڈیٹر ڈاکٹر یوسف عالمگیرین، مجتبیٰ حیدر عمران، بریگیڈیئر صولت رضا اور خود مصنف کرنل اشفاق حسین کی گفتگو نے واضح کر دیا کہ “معرکۂ حق” محض ایک کتاب نہیں بلکہ ایک ہمہ گیر قومی بیانیہ ہے جو پاکستان کے ماضی، حال اور مستقبل کو ایک لڑی میں پروتا ہے۔

ڈاکٹر یوسف عالمگیرین نے نہایت بصیرت کے ساتھ اس حقیقت کو اجاگر کیا کہ جدید جنگ کی نوعیت بدل چکی ہے۔ آج کی جنگ صرف میدانِ جنگ میں نہیں بلکہ ذہنوں، خیالات، معلومات اور بیانیے کے محاذ پر لڑی جاتی ہے۔ اگر کسی قوم کا بیانیہ کمزور ہو جائے تو اس کی عسکری قوت بھی اپنی تاثیر کھو دیتی ہے۔ انہوں نے کرنل اشفاق حسین کے ادبی و عسکری سفر کا جائزہ لیتے ہوئے کہا کہ ان کی تحریریں مزاح اور سنجیدہ دفاعی تجزیے کا حسین امتزاج ہیں، اور “معرکۂ حق” اسی تسلسل کی ایک بالغ اور پختہ مثال ہے۔ ان کے مطابق یہ کتاب محض تاریخ نہیں بلکہ ایک فکری دستاویز ہے جو ہمیں بیانیے کی جنگ جیتنے کا شعور دیتی ہے۔مجتبیٰ حیدر عمران نے اس کتاب کے تحقیقی اور ادبی پہلوؤں کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ یہ تصنیف جذبات سے زیادہ دلائل، تحقیق اور تاریخی تسلسل پر مبنی ہے۔ انہوں نے اپنے طالب علمی کے دور کی یاد تازہ کرتے ہوئے بتایا کہ کس طرح کرنل اشفاق حسین کی پہلی کتاب “جنٹلمین بسم اللہ” نے ان کے ذہن پر گہرا اثر ڈالا۔ ان کے مطابق “معرکۂ حق” ایک مستند قومی دستاویز ہے جو افواجِ پاکستان کی پیشہ ورانہ مہارت، قربانیوں اور کامیابیوں کو نہایت موثر انداز میں پیش کرتی ہے، اور ساتھ ہی تنازعۂ کشمیر، سندھ طاس معاہدہ اور بھارتی فالس فلیگ آپریشنز کو تحقیقی بنیادوں پر بیان کرتی ہے۔

کرنل ریٹائرڈ اشفاق حسین کی یہ تصنیف اگرچہ بھارتی جارحیت کے “آپریشن سندور” کے جواب میں “بنیان المرصوص” کے پس منظر میں لکھی گئی ہے، مگر اسے محض ایک وقتی ردعمل نہیں رہنے دیا گیا بلکہ ایک ایسی جامع قومی دستاویز میں تبدیل کیا گیا ہے جو نہ صرف اس معرکے کی تفصیلات بیان کرتی ہے بلکہ پاکستان اور بھارت کے مابین تاریخی تنازعات، بھارتی ذہنیت اور اس کے توسیع پسندانہ عزائم کو بے نقاب کرتی ہے۔کتاب کا مرکزی محور تنازعۂ کشمیر ہے، جسے مصنف نے ایک وسیع تاریخی، قانونی اور نظریاتی تناظر میں بیان کیا ہے۔ 1934 کے انتخابات، گلینسی کمیشن، پرجا سبھا کے قیام، 3 جون 1947 کے منصوبۂ تقسیم اور 19 جولائی 1947 کی قراردادِ الحاق پاکستان تک ایک مربوط تسلسل یہ ثابت کرتا ہے کہ کشمیر کا پاکستان کے ساتھ الحاق ایک فطری اور عوامی حقیقت ہے۔ اس کے برعکس بھارت کی مداخلت، اقوام متحدہ کی قراردادوں سے انحراف اور کشمیریوں کو حقِ خودارادیت سے محروم رکھنا اس مسئلے کو مزید پیچیدہ بناتا رہا ہے۔اسی طرح سندھ طاس معاہدہ بھی ایک سادہ آبی معاہدہ نہیں بلکہ قومی سلامتی سے جڑا ہوا معاملہ ہے۔ 1948 سے لے کر 1960 کے معاہدے تک کے واقعات اور اس کے بعد بھارت کی خلاف ورزیاں اس بات کی نشاندہی کرتی ہیں کہ پانی کو بطور ہتھیار استعمال کرنے کی کوشش کی جاتی رہی ہے۔ چونکہ پاکستان کے دریاؤں کا منبع کشمیر ہے، اس لیے یہ مسئلہ براہِ راست قومی بقا سے جڑا ہوا ہے۔

کتاب میں بھارت کے اندرونی تضادات، علیحدگی پسند تحریکیں، میڈیا وار اور نفسیاتی جنگ کے پہلوؤں کو بھی تفصیل سے بیان کیا گیا ہے۔ عسکری میدان میں سیالکوٹ، پیر پنجال، پاک بحریہ اور پاک فضائیہ کی کارکردگی کو “بنیان المرصوص” کے عملی اظہار کے طور پر پیش کیا گیا ہے۔سفارتی محاذ پر پاکستان کی کامیابیاں بھی اس کتاب کا اہم حصہ ہیں، جہاں عالمی سطح پر پاکستان کے مؤقف کو تقویت ملی اور بھارتی بیانیہ کمزور ہوا۔یہاں یہ امر بھی قابلِ ذکر ہے کہ پاکستان کی اس مجموعی قوت کے پیچھے سیاسی بصیرت، سفارتی حکمت عملی اور عسکری قیادت کا مربوط کردار موجود ہے۔ محمد نواز شریف کا ایٹمی فیصلہ، شہباز شریف اور اسحاق ڈار کی سفارتکاری، اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی عسکری قیادت یہ سب مل کر پاکستان کو عالمی سطح پر وقار بخشتے ہیں، جبکہ پاک فضائیہ اور پاک بحریہ اس قوت کو عملی شکل دیتے ہیں۔بریگیڈیئر صولت رضا کے مطابق “بنیان المرصوص” دراصل اسی قومی اتحاد کا استعارہ ہے ایک ایسی کیفیت جہاں قوم اور افواج ایک سیسہ پلائی دیوار بن جاتی ہیں۔مصنف کرنل اشفاق حسین نے اس کتاب کے ذریعے یہ واضح کیا ہے کہ جنگ صرف ہتھیاروں سے نہیں بلکہ بیانیے، اتحاد اور شعور سے جیتی جاتی ہے۔آخر میں یہی حقیقت سامنے آتی ہے کہ “معرکۂ حق” ایک مسلسل جاری رہنے والا عمل ہے۔ ہمیں اپنی نئی نسل کو یہ شعور دینا ہوگا کہ اصل جنگ ذہنوں اور نظریات کی جنگ ہے۔یہی “معرکۂ حق” کا اصل پیغام ہےایک ایسا پیغام جو ہمارے حال کو سمجھنے اور مستقبل کو سنوارنے کی راہ دکھاتا ہے.

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں