آزادکشمیر میں سیاسی و عدالتی اشرافیہ کے شاہانہ اختیارات، عوامی مزاحمت کیوں بڑھ رہی ہے؟

50

اسلام آباد (خواجہ کاشف میر کی رپورٹ)
پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر میں حالیہ عوامی بے چینی اور مزاحمتی تحریک کو ماہرین کسی وقتی ردعمل کے بجائے ایک طویل عرصے سے جاری مراعاتی اور غیر مساوی نظام کا نتیجہ قرار دے رہے ہیں۔ محدود وسائل رکھنے والے اس خطے میں جہاں آبادی کا بڑا حصہ بنیادی سہولتوں سے محروم ہے، وہاں سیاسی و عدالتی اشرافیہ کو خطے اور بعض صورتوں میں دنیا کے ترقی یافتہ ممالک کے معیار سے بھی زیادہ مراعات حاصل ہیں۔

چھوٹی آبادی، بھاری ڈھانچہ

پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر کی آبادی لگ بھگ 46 لاکھ نفوس پر مشتمل ہے، جن میں سے 30 لاکھ کے قریب لوگ خطے کے اندر رہائش پذیر ہیں۔ مبصرین کے مطابق اتنی چھوٹی آبادی کے لیے تشکیل دیا گیا سیاسی و عدالتی ڈھانچہ ایسا بوجھ بن چکا ہے جو کئی پہلوؤں میں پاکستان جیسے 25 کروڑ آبادی والے ملک کے مساوی یا اس سے بھی بڑھ گیا ہے۔

اعداد و شمار کے مطابق مظفرآباد میں سپریم کورٹ اور ہائی کورٹ کے ججز اسلام آباد کے اپنے ہم منصبوں کے برابر تنخواہیں اور مراعات وصول کرتے ہیں۔ ان کی پنشن ایک ملین روپے ماہانہ سے تجاوز کر چکی ہے اور جب پاکستان میں اضافہ ہوتا ہے تو خودکار نظام کے تحت یہاں بھی وہی اضافہ نافذ ہو جاتا ہے۔

سابق صدور و وزرائے اعظم کے شاہانہ حقوق

رپورٹ کے مطابق سابق صدور اور وزرائے اعظم اقتدار سے الگ ہونے کے بعد بھی تاحیات مراعات کے حقدار رہتے ہیں۔ ان مراعات میں سرکاری گاڑیاں، عملہ، چار سو لیٹر فیول، سکیورٹی اور دیگر سہولتیں شامل ہیں۔ یوں ایک فرد بیک وقت دو یا تین سطحوں پر عوامی خزانے سے مستفید ہوتا ہے۔

جون 2021 میں خطے کی اسمبلی نے ایک بل منظور کیا جس کے تحت سابق وزرائے اعظم کو مستقل بنیاد پر سرکاری گاڑی، ڈرائیور، گن مین اور ماہانہ کرایہ الاونس فراہم کرنے کا قانون بنایا گیا۔ بعد ازاں 2022 میں ایک اور ترمیم کے ذریعے اسمبلی ممبران کی تنخواہوں اور مراعات میں نمایاں اضافہ کیا گیا۔

موجودہ حکومت اور بڑھتی مراعات

وزیراعظم چوہدری انوار الحق کے دور میں وزراء کی تنخواہیں 9 لاکھ روپے تک پہنچ گئی ہیں جبکہ مشیروں کو ساڑھے 6 لاکھ اور عام اراکین اسمبلی کو چار لاکھ روپے سے زائد ماہانہ پیکج مل رہا ہے۔ ماہرین کے مطابق یہ رقوم خطے کے کئی ترقی یافتہ ممالک کے معیار سے بھی زیادہ ہیں۔

اسی دور میں کابینہ کی تعداد 16 سے بڑھا کر 36 تک کر دی گئی۔ وزراء کے علاوہ مشیروں اور معاونین خصوصی کو بھی سرکاری خزانے سے حصہ دیا جا رہا ہے۔ یوں اسپیکر، ڈپٹی اسپیکر اور اپوزیشن لیڈر سمیت مراعات یافتہ افراد کی مجموعی تعداد 40 سے زیادہ ہو گئی ہے۔

سابق حکمران اور پینشن کا بوجھ

رپورٹ میں بتایا گیا کہ سابق صدور و وزرائے اعظم سردار یعقوب خان، سردار عتیق احمد خان، راجہ فاروق حیدر اور سردار عبدالقیوم نیازی سمیت کئی رہنما اب بھی مختلف مدوں میں سرکاری مراعات سے مستفید ہو رہے ہیں۔

پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر واحد خطہ ہے جہاں سابق ممبران اسمبلی کو سرکاری ملازمین کی طرح پینشن دینے کا قانون نافذ ہے۔ اس وقت تقریباً ڈیڑھ سو افراد اسمبلی کی رکنیت کی بنیاد پر 70 ہزار سے ڈیڑھ لاکھ روپے ماہانہ پینشن وصول کر رہے ہیں۔

عوامی مشکلات اور عالمی اصول

ماہرین کا کہنا ہے کہ خطے کے عوام مہنگائی، بے روزگاری اور صحت کی سہولتوں کی کمی میں پس رہے ہیں جبکہ حکمران طبقہ محلات، سرکاری گاڑیوں اور شاہانہ مراعات سے لطف اندوز ہو رہا ہے۔

بین الاقوامی قوانین، مثلاً اقوام متحدہ کا انسانی حقوق کا اعلامیہ (1948) اور معاشی و سماجی حقوق کا معاہدہ (1966) ریاستوں پر عوامی سہولتوں کی فراہمی کی ذمہ داری ڈالتے ہیں۔ پاکستان کا آئین (آرٹیکل 25) مساوات کی ضمانت دیتا ہے اور خطے کا عبوری ایکٹ 1974 بھی وسائل کو عوامی فلاح کے لیے مختص کرتا ہے، مگر زمینی حقائق اس کے برعکس دکھائی دیتے ہیں۔

عوامی مزاحمت اور مطالبات

جموں کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی نے ان مراعات کے خاتمے کا مطالبہ زور و شور سے اٹھایا ہے۔ ماہرین کا خیال ہے کہ اگر یہ نظام برقرار رہا تو عوامی مزاحمت مزید شدت اختیار کرے گی اور حکمران طبقے کو جواب دہی کے کٹہرے میں کھڑا ہونا پڑ سکتا ہے۔

ان کے مطابق فوری طور پر غیر ضروری مراعات ختم کر کے عوامی بجٹ کا کم از کم ساٹھ فیصد تعلیم، صحت اور روزگار کے شعبوں پر خرچ کیا جانا چاہیے، اور آئینی اصلاحات کے ذریعے اسمبلی کو عوامی مفاد کے تابع بنایا جانا ناگزیر ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں