تحریر :سہیل اقبال اعوان ایڈووکیٹ
آزاد جموں و کشمیر میں صدارتی انتخابات اس وقت ایک پیچیدہ آئینی اور سیاسی معمہ بن چکے ہیں۔ معاملہ اب عدالت کے دروازے تک جا پہنچا ہے، جہاں ہائی کورٹ آف آزاد جموں و کشمیر کے روبرو دو اہم رٹ پٹیشنز زیر سماعت ہیں، اور یہی عدالتی کارروائی اب اس پورے تنازعے کی سمت متعین کرے گی۔پہلی رٹ پٹیشن راجہ ذوالقرنین عابد بنام سپیکر قانون ساز اسمبلی کے عنوان سے دائر کی گئی ہے، جس میں درخواست گزاران نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ آزاد کشمیر کے عبوری آئین 1973 کے تحت صدرِ ریاست کی وفات کی صورت میں تیس دن کے اندر نئے صدر کا انتخاب ایک لازمی آئینی تقاضا ہے۔ ان کے مطابق سپیکر قانون ساز اسمبلی اور الیکشن کمیشن دونوں اپنی آئینی ذمہ داریاں بروقت ادا کرنے میں ناکام رہے ہیں، جو نہ صرف آئین سے انحراف ہے بلکہ ریاستی نظم و نسق پر بھی سوالیہ نشان ہے۔
عدالت میں سماعت کے دوران جسٹس سردار اعجاز خان نے الیکشن کمیشن کے وکیل سے اہم سوال اٹھایا کہ آخر وہ کس نوٹیفکیشن کا حوالہ دے رہے ہیں؟ کیونکہ چند روز قبل الیکشن کمیشن نے یہ مؤقف اختیار کیا تھا کہ حکومت کی جانب سے صدر کی وفات کا باضابطہ نوٹیفکیشن جاری نہ ہونے کے باعث انتخابی عمل میں تاخیر ہوئی۔ اب عدالت کے روبرو الیکشن کمیشن اس مؤقف کی معقول اور قانونی توجیہ دینے کا پابند ہے۔دوسری جانب ایک اور اہم پٹیشن کشمیر کونسل کے رکن حنیف ملک کی طرف سے دائر کی گئی ہے، جس میں یہ نکتہ اٹھایا گیا ہے کہ کشمیر کونسل درحقیقت پارلیمانی نظام کا حصہ ہے اور اسے صدر کے انتخاب کے الیکٹورل کالج سے خارج کرنا پارلیمانی آئینی روح کے منافی ہے۔ یاد رہے کہ تیرہویں آئینی ترمیم کے ذریعے کشمیر کونسل کو اس عمل سے الگ کرتے ہوئے جوائنٹ سیٹنگ کو حذف کر دیا گیا تھا جس کے بعد صدر کا انتخاب صرف قانون ساز اسمبلی کی سادہ اکثریت کے ذریعے ممکن بنا دیا گیا۔
دلچسپ اور متضاد پہلو یہ ہے کہ یہی تیرہویں آئینی ترمیم پاکستان مسلم لیگ (ن) آزاد کشمیر اپنی بڑی آئینی کامیابی قرار دیتی رہی ہے، جبکہ اس ترمیم کو چیلنج کرنے والے کشمیر کونسل کے رکن کا تعلق بھی اسی جماعت سے ہے۔ یوں ایک ہی سیاسی جماعت کے اندر دو مختلف آئینی تعبیرات سامنے آ رہی ہیں، جو اس معاملے کو مزید پیچیدہ بنا رہی ہیں۔ آج کی عدالتی سماعت میں ایک اہم پیش رفت یہ ہوئی کہ سابق وزیراعظم آزاد کشمیر اور تیرہویں ترمیم کے خالق، راجہ فاروق حیدر خان بھی بطور فریق مقدمہ شامل ہو گئے۔ ان کی جانب سے مقدمے کی پیروی سابق چیف جسٹس ہائی کورٹ راجہ صداقت حسین نے کی، جو ریٹائرمنٹ کے بعد پہلی بار بطور وکیل عدالت میں پیش ہوئے۔ اب ایک اہم سوال یہ بھی ہے کہ راجہ فاروق حیدر خان اس مقدمے میں ذاتی حیثیت میں تیرہویں ترمیم کا دفاع کریں گے یا اپنی جماعت کے ہی ایک رکن کے مؤقف کی تائید کریں گے۔
اس تمام صورتحال میں اصل سوال یہ ہے کہ کیا صدارتی انتخابات میں تاخیر محض آئینی پیچیدگی ہے یا ایک سوچا سمجھا سیاسی مفاد کا جال؟ اگر صدر کے انتخابی عمل کو عام انتخابات سے محض تین ماہ قبل کسی وجہ سے مؤخر رکھا جاتا ہے، اور اس حوالے سے یہ تاثر مضبوط ہوتا ہے کہ الیکشن کمیشن کسی سیاسی جماعت، بالخصوص مسلم لیگ (ن)، کی خواہشات کے مطابق عمل کر رہا ہے تو اس کے اثرات آنے والے عام انتخابات کی شفافیت پر بھی مرتب ہو سکتے ہیں۔خصوصاً ایسے ماحول میں جہاں ایکشن کمیٹی کی صورت عوام پہلے ہی ریاستی اداروں کی ممکنہ جانبداری پر سخت تحفظات اور ناراضگی کا اظہار کر رہے ہیں، صدارتی انتخاب میں کسی بھی قسم کا ابہام یا تاخیر نہ صرف موجودہ تنازع کو بڑھا سکتی ہے بلکہ آئندہ انتخابی عمل کو بھی متنازع بنانے کا سبب بن سکتی ہے۔