تحریر: سردار شعیب حیدری
عالمی سیاست کے ایوانوں میں ہونے والی سرگوشیاں اکثر تاریخ کے دھارے کا رخ متعین کرتی ہیں۔ مشرقِ وسطیٰ کی موجودہ کشیدگی بھی کوئی اچانک پیدا ہونے والا بحران نہیں بلکہ برسوں پر محیط حکمتِ عملیوں، مفادات اور خدشات کا نچوڑ ہے۔ بنیامین نیتن یاہو کی جانب سے ایران کے خلاف سخت اقدامات کے لیے امریکی قیادت کو قائل کرنے کی مسلسل کوششیں اسی سلسلے کی ایک کڑی رہی ہیں۔ مگر ماضی میں باراک اوباما اور جارج ڈبلیو بش جیسے صدور نے اس معاملے میں محتاط رویہ اختیار کیا، کیونکہ وہ جانتے تھے کہ ایک نئی جنگ نہ صرف خطے بلکہ پوری دنیا کو غیر یقینی کی آگ میں جھونک سکتی ہے۔تاہم ڈونلڈ ٹرمپ کے دور میں یہ توازن کسی حد تک بگڑتا دکھائی دیا۔ جارحانہ پالیسیوں اور غیر روایتی فیصلوں نے نہ صرف عالمی سفارت کاری کو متاثر کیا بلکہ خود امریکی سیاست میں بھی ہلچل پیدا کی۔ تاریخ ہمیں بتاتی ہے کہ جنگی فیصلے کبھی یک طرفہ کامیابی نہیں لاتے، بلکہ ان کے اثرات طویل عرصے تک سیاسی قیادت کا پیچھا کرتے رہتے ہیں۔
اسی پس منظر میں جے ڈی وینس جیسے ابھرتے ہوئے رہنما ایک مختلف راستہ اختیار کرنے کی کوشش کرتے دکھائی دیتے ہیں۔ نوجوان قیادت کے لیے امن، مکالمہ اور کشیدگی میں کمی محض اخلاقی مؤقف نہیں بلکہ ایک مضبوط سیاسی حکمتِ عملی بھی ہے۔ وہ بخوبی جانتے ہیں کہ آنے والے دور میں عوام جنگی نعروں سے زیادہ استحکام اور معاشی بہتری کو ترجیح دیں گے۔دوسری جانب ایران کا طرزِ عمل بھی قابلِ غور ہے۔ عباس عراقچی اور محمد باقر قالیباف جیسے رہنما اس بات کی علامت ہیں کہ ریاستیں بیک وقت مزاحمت اور مفاہمت، دونوں راستے کھلے رکھتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ جنگ کے سائے میں بھی مذاکرات کا سلسلہ جاری رہتا ہے—کیونکہ بالآخر میز پر بیٹھ کر ہی فیصلے ہونا ہوتے ہیں۔تاریخ کے اوراق اس حقیقت سے بھرے پڑے ہیں کہ جنگ کے بعد ہونے والے معاہدے سب سے زیادہ کٹھن ہوتے ہیں۔
معاہدہ تاشقند اس کی ایک واضح مثال ہے، جہاں ایوب خان اور لال بہادر شاستری نے شدید دباؤ کے باوجود امن کی راہ اختیار کی۔ اس معاہدے نے نہ صرف خطے کی سیاست کو نئی جہت دی بلکہ ذوالفقار علی بھٹو جیسے رہنما کے سیاسی عروج کی بنیاد بھی رکھی۔ شاستری کی اچانک وفات نے اس معاہدے کو مزید پراسرار اور تاریخی بنا دیا۔اسی طرح کمپ ڈیوڈ معاہدہ میں انور سادات نے ایک ایسا فیصلہ کیا جس نے انہیں وقتی طور پر تنقید کا نشانہ بنایا، مگر تاریخ نے اسے ایک جرات مندانہ قدم کے طور پر یاد رکھا۔ یہ مثالیں اس بات کو واضح کرتی ہیں کہ امن کے فیصلے اکثر وقتی سیاسی نقصان مگر طویل المدتی استحکام کا باعث بنتے ہیں۔موجودہ حالات میں اسلام آباد کا ممکنہ کردار غیر معمولی اہمیت اختیار کر چکا ہے۔ اگر پاکستان واقعی ایک مؤثر ثالث کے طور پر سامنے آتا ہے تو یہ نہ صرف اس کی سفارتی کامیابی ہوگی بلکہ عالمی سطح پر اس کی ساکھ میں بھی نمایاں اضافہ کرے گا۔ ماضی میں بھی پاکستان نے مختلف مواقع پر پس پردہ سفارت کاری کے ذریعے کشیدگی کم کرنے میں کردار ادا کیا ہے، اور آج یہ روایت ایک نئے امتحان سے گزر رہی ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ جنگ کے بعد ہر ملک اپنی عوام کے سامنے فتح کا بیانیہ پیش کرنے پر مجبور ہوتا ہے، چاہے زمینی حقائق کچھ بھی ہوں۔ ایسے میں مذاکرات کار سب سے زیادہ دباؤ کا شکار ہوتے ہیں۔ ان کے فیصلے صرف کاغذی معاہدے نہیں ہوتے بلکہ ان کے ساتھ قوموں کی امیدیں، سیاست دانوں کا مستقبل اور بعض اوقات ان کی اپنی زندگیاں بھی جڑی ہوتی ہیں۔یہی وجہ ہے کہ موجودہ مذاکرات کو محض ایک سفارتی سرگرمی سمجھنا غلط ہوگا۔ یہ دراصل تاریخ کے ایک نازک موڑ پر کھڑی انسانیت کی آزمائش ہے۔ اگر دانشمندی غالب آتی ہے تو ایک نئی راہ کھل سکتی ہے—ایسی راہ جو نہ صرف مشرقِ وسطیٰ بلکہ پوری دنیا کو ایک اور تباہ کن جنگ سے بچا لے۔ اور اگر ایسا ہو جاتا ہے تو شاید آنے والی نسلیں اسے اسی طرح یاد رکھیں گی جیسے ہم آج ماضی کے بڑے سفارتی فیصلوں کو یاد کرتے ہیں۔ پاکستان زندہ باد