کالم: شیراز خان لندن
دنیا کی سیاست میں کچھ لمحات ایسے ہوتے ہیں جو تاریخ کا دھارا بدلنے کی صلاحیت رکھتے ہیں اور امریکہ اور ایران کے درمیان پاکستان میں جاری مذاکرات بھی بظاہر ایسے ہی ایک نازک موڑ کی نشاندہی کرتے ہیں۔ مگر اس پوری صورتحال کو سمجھنے کے لیے ضروری ہے کہ پس منظر میں موجود طاقتور کرداروں اور ان کے عزائم کو بھی نظر میں رکھا جائے۔حقیقت یہ ہے کہ حالیہ کشیدگی محض اتفاقی نہیں بلکہ ایک سوچے سمجھے سیاسی و عسکری عمل کا نتیجہ معلوم ہوتی ہے۔ امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور اسرائیلی وزیراعظم کے کردار پر سوالات اٹھ رہے ہیں انہوں نے ایران کے خلاف جارحیت کے ذریعے 6 ہفتے حملے کرکے نہ صرف خطے کو جنگ کے دہانے پر پہنچایا بکلہ ہزاروں انسانوں کو لقمہ اجل بنا دیا جبکہ اس جنگ اور کشیدگی کا کوئی واضح بین الاقوامی قانونی جواز سامنے نہیں یہی وجہ ہے کہ امریکہ کے یورپین ممالک سمیت دنیا بھر میں اتحادی ممالک بھی اس پالیسی سے مکمل طور پر متفق نظر نہیں آئے۔اور ٹرمپ اور نیتن یاہو تنہا نظر آئے ۔
یہ بھی ایک اہم پہلو ہے کہ اس کشیدگی کی قیمت صرف متعلقہ ممالک یعنی ایران اسرائیل اور امریکہ ہی نہیں بلکہ پوری دنیا ادا کر رہی ہے۔ تیل کی قیمتوں میں اضافہ، مہنگائی عالمی معیشت میں بے یقینی، اور خطے میں عدم استحکام یہ سب اس تنازعہ کے براہِ راست اثرات ہیں جس سے پوری دنیا کے انسان بلکہ خود امریکی عوام خود بھی اس پالیسی کے اثرات سے محفوظ نہیں رہے جس نے امریکہ کے اندرونِ ملک میں بھی سوالات نے جنم دیا ہے۔ایسے میں اسلام آباد میں ہونے والے ممکنہ مذاکرات کو ایک اہم موقع سمجھا جا رہا ہے مگر یہ راستہ آسان نہیں۔ ایران کے لیے بھی یہ ایک مشکل مرحلہ ہے جہاں اسے اپنی کچھ شرائط پر لچک دکھانا پڑ سکتی ہے تاکہ کسی بڑے تصادم سے بچا جا سکے۔ سفارت کاری اکثر اصولوں اور مجبوریوں کے درمیان توازن کا نام ہوتی ہے اور ایران کو بھی یہی توازن قائم کرنا ہوگا۔
دوسری جانب خطے میں عسکری نقل و حرکت تشویش میں اضافہ کر رہی ہے۔ پاکستان کے لڑاکا طیاروں کا سعودی عرب پہنچنا اور اس کی ٹائمنگ اور یہ اطلاعات کہ چین کا اسلحہ ایران تک پہنچ رہا ہے اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ مختلف طاقتیں ممکنہ بدترین صورتحال کے لیے خود کو تیار کر رہی ہیں۔ اگر مذاکرات ناکام ہوتے ہیں تو یہ تمام پیش رفت ایک بڑے اور خطرناک تصادم کا پیش خیمہ بن سکتی ہیں جو نہ صرف مشرقِ وسطیٰ بلکہ عالمی امن کے لیے بھی تباہ کن ہوگا۔مزید برآں، ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے مسلسل بیانات اور سوشل میڈیا پر پیغامات کو بھی اس تناظر میں دیکھا جا رہا ہے کہ وہ مذاکراتی عمل پر اثر انداز ہو رہے ہیں۔ ایسے بیانات کشیدگی کو کم کرنے کے بجائے بڑھانے کا باعث بن سکتے ہیں۔ اسی طرح اسرائیلی قیادت بھی جنگ بندی کے حوالے سے زیادہ پرجوش نہیں جو امن کی کوششوں کو مزید پیچیدہ بنا دیتا ہے۔
یہ تمام عوامل مل کر ایک انتہائی حساس اور خطرناک صورتحال کی تصویر پیش کرتے ہیں جہاں ایک طرف سفارت کاری کی نازک کوششیں جاری ہیں اور دوسری طرف جنگ کے بادل بھی منڈلا رہے ہیں۔آخرکار یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ امریکہ اور ایران کے درمیان یہ مذاکرات صرف دو ممالک کا معاملہ نہیں بلکہ ایک وسیع تر عالمی طاقتوں کے کھیل کا حصہ ہیں۔ اگر یہ مذاکرات کامیاب ہو جاتے ہیں تو یہ ایک بڑی سفارتی کامیابی ہوگی، لیکن اگر ناکام ہوئے تو اس کے اثرات پوری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے سکتے ہیں۔دنیا اس وقت ایک ایسے دوراہے پر کھڑی ہے جہاں ایک راستہ امن کی طرف جاتا ہے اور دوسرا ایک ممکنہ عالمی بحران کی جانب ۔ فیصلہ اب طاقتور دارالحکومتوں میں ہونا ہے مگر اس کے اثرات پوری انسانیت کو بھگتنا ہوں گے۔ امریکی نائب صدر بہرصورت چاہئیں گے کہ وہ جنگ بندی معاہدہ کر کے جائیں یہ انکے سیاسی مستقبل کا بھی سوال ہے جو اپنے آپ کو آئندہ ریپبلکن پارٹی کے صدارتی امیدوار کیطور پر سامنے لاسکتے ہیں اگر جنگ بندی معاہدہ ہوجاتا ہے تو صدر ٹرمپ اسی اپنی فتح قرار دے سکتے ہیں اور خود کریڈٹ لینے کا اعلان کریں گے اور اگر معاہدہ نہ ہوا تو وہ سارا ملبہ جے ڈی وینس پر ڈال دیں گے اگر ایران کی بات کریں تو اس جنگ میں ایران کا بڑا نقصان ہوا ہے .
لیکن اس نے جسطرح اپنا دفاع کیا اس سے ایران 28 فروری جنگ کی رات سے اب پہلے سے زیادہ اس پوزیشن میں ہے کہ وہ اپنی شرائط منوا سکے ٹرمپ کا یہ دعویٰ بھی بالکل درست نہیں کہ انہوں نے جنگ کرکے ایران میں حکومت یا رجیم تبدیل کردی ہے ایران میں نہ حکومت تبدیل ہوئی ہے اور نہ ہی رجیم کی پالیسی بدلی ہے۔پاکستان امریکہ جو عالمی سطح پر بڑا چوہدری ہے اس کا راضی نامہ ایران جو مشرقِ وسطیٰ یا ساوتھ ایشیاءکا بڑا چوہدری بن کر ابھرا ہے اپنے گھر بٹھا کر جو کروا رہا ہے اس کی تحسین نہ صرف پاکستانی دنیا بھر میں کررہے ہیں بلکہ عالمی سطح پر سب کی سوئی اسلام آباد میں اٹکی ہوئی ہے پاکستان کو یہ جو موقع ملا ہے بھارت میں صف ماتم بچھ گیا ہے ڈیڑھ ارب انسانوں کے ملک میں اتنا بڑا قحط الرجال کیسے ہوسکتا ہے یہ ناقابل یقین ہے لیکن مودی کا گودی میڈیا یہی صورتحال بیان کرکے انڈیا کا امیچ تباہ کررہا ہے ۔