تحریر: محمد بشارت مغل
آج کی دنیا ایک ایسے نازک اور بےقرار دور میں کھڑی ہے جہاں خبر کی ہر جھلک دل کی دھڑکن کو تیز کر دیتی ہے۔ صبح کی اولین خبر سے لے کر رات کے آخری تجزیے تک، ہر سمت میں اضطراب اور بے یقینی کی بازگشت سنائی دیتی ہے۔ کہیں سرحدوں پر بڑھتی ہوئی عسکری نقل و حرکت، کہیں عالمی طاقتوں کے درمیان چالیں، تو کہیں انسانی زندگی کی نازک حالت پر خاموش تشویش۔ United States، Iran، Israel اور دیگر عالمی کھلاڑی اپنی اپنی حکمت عملی میں مصروف ہیں، میزائلوں کی بارش میں انسانیت سسک رہی ہے املاک تباہ و برباد ہو رہی ہیں اور انسان کے دل میں یہ سوال بار بار جنم لیتا ہے: کیا ترقی اور جدت کی اس برق رفتار دوڑ میں ہم نے سکون اور انسانیت کی منزل کہیں پیچھے چھوڑ دی ہے؟
تہذیب نے سہولیات فراہم کی ہیں، مگر دلوں میں اطمینان کی کمی آج بھی محسوس کی جا رہی ہے۔ اطلاعات کی بڑھتی ہوئی رفتار کے باوجود انسانی جذبات کا بوجھ کم نہیں ہوتا۔ ایسے حالات میں دل ایک ایسی پناہ گاہ تلاش کرتا ہے جہاں لفظوں میں نرمی ہو، خیالات میں خوشبو ہو، اور ذہن کو چند لمحوں کی خاموش راحت میسر ہو۔ یہی جگہ ادب ہے۔
ادب انسان کے لیے محض ایک تحریر نہیں، بلکہ ایک پناہ گاہ ہے۔ یہ تھکے ہوئے ذہن کو سکون دیتا ہے، جذبات کو سمجھنے کی طاقت فراہم کرتا ہے اور تلخ حقائق کے بیچ ایک نرم روشنی بھی بکھیرتا ہے۔ Mirza Ghalib کی شاعری، Akbar Allahabadi کا طنز، اور Mushtaq Ahmad Yusufi کا مزاح محض الفاظ نہیں، بلکہ زندگی کے گہرے مشاہدات اور انسانی نفسیات کی باریک بینی کی عکاسی کرتے ہیں۔ غالب کی حاضر جوابی اور یوسفی کے نفسیاتی مزاح نے ہمیشہ یہ سکھایا کہ تلخی میں بھی لطافت تلاش کی جا سکتی ہے۔
عالمی سیاست کے سخت اور پیچیدہ حالات میں ادب اور انسانی اقدار کی اہمیت پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ جاتی ہے۔ طاقت صرف اس وقت معتبر ہے جب اس کے ساتھ انسانیت بھی زندہ رہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ بڑے ادیب اور فنکار وہ لوگ ہوتے ہیں جو دنیا کی سنجیدگی میں بھی خوشگوار رنگ بکھیرتے ہیں، اور ہمیں یاد دلاتے ہیں کہ زندگی میں مسکراہٹ اور امید کے لیے ہمیشہ جگہ ہونی چاہیے۔آخر میں یہی کہنا بےحد ضروری ہے: اگر دنیا میں ہنسنا واقعی منع ہو جائے تو شاید انسان ہونے کا سب سے خوبصورت پہلو ہی ختم ہو جائے۔ ادب، مزاح، اور ہنسی صرف لطف کے لیے نہیں بلکہ انسانیت کو زندہ رکھنے کا ایک ذریعہ بھی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ہر دور میں ادب اور انسانی جذبات کا معیار ناپ تول کر پرکھا جاتا ہے، اور یہی ہمیں آج کے عالمی چیلنجز میں مضبوط اور پرعزم بناتا ہے۔