انسانی برادری سے ایک بیدار کن اپیل

28

تحریر: حافظ سید ذہین علی نجفی
آج کی دنیا ایک ایسے نازک موڑ پر کھڑی ہے جہاں طاقت اور قانون کے درمیان توازن بگڑتا ہوا دکھائی دیتا ہے۔ عالمی برادری، چاہے وہ حکومتوں کی صورت میں ہو یا عوامی سطح پر، سب کو یہ سمجھنا ہوگا کہ دنیا کو بغیر قانون، انصاف اور اصولوں کے چلانے کی کوشش ایک سنگین غلطی ہے۔ یہ محض ایک بھول نہیں بلکہ انسانیت کے مستقبل کے ساتھ کھیلنے کے مترادف ہے۔بعض طاقتور ممالک خود کو جمہوریت کا علمبردار کہتے ہیں، انسانی حقوق کا درس دیتے ہیں، اور دنیا کو انصاف کا راستہ دکھانے کا دعویٰ کرتے ہیں۔ لیکن جب انہی اصولوں کو عملی میدان میں دیکھا جاتا ہے تو تضاد صاف نظر آتا ہے۔ دوسروں کو حقوق کا سبق دینے والے خود ان حقوق کی پامالی میں ملوث دکھائی دیتے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ کیا جمہوریت صرف ایک نعرہ ہے یا واقعی ایک عملی نظام؟

اسی طرح اقوامِ متحدہ جیسے عالمی ادارے کے کردار پر بھی سنجیدہ سوالات اٹھتے ہیں۔ کیا اس کے اقدامات چند طاقتور ممالک کے مفادات کے تحفظ کے لیے ہیں، یا واقعی یہ پوری دنیا کی اقوام کے حقوق کا نگہبان ہے؟ اگر یہ ادارہ تمام انسانوں کی نمائندگی کرتا ہے تو پھر دنیا کے مختلف خطوں میں پسے ہوئے، کمزور اور مظلوم طبقات پر ہونے والے ظلم کے خلاف اس کی خاموشی کیوں؟ کیوں انصاف کا ترازو ہر جگہ یکساں نہیں رہتا؟اسی پس منظر میں امیرالمؤمنین حضرت علیؑ کا عظیم فرمان ہمارے لیے رہنمائی فراہم کرتا ہے:”الناس صنفان: إما أخٌ لك في الدين أو نظيرٌ لك في الخلق”یعنی لوگ دو قسم کے ہیں: یا تو وہ تمہارے دینی بھائی ہیں یا خلقت میں تمہارے جیسے ہیں (یعنی انسان ہیں، پس اگر تمہارے دینی بھائی نہیں بھی ہیں تو کم از کم انسانی برادری میں تمہارے برابر ہیں)۔

یہ فرمان انسانیت کا وہ آفاقی اصول بیان کرتا ہے جس میں کسی بھی تفریق، تعصب یا نفرت کی کوئی گنجائش نہیں رہتی۔ ہر انسان، صرف انسان ہونے کی بنیاد پر احترام اور حقوق کا مستحق ہے۔یہاں یہ بات بھی نہایت اہم ہے کہ وہ مٹھی بھر تکفیری عناصر، جو نفرت، تفرقہ اور شدت پسندی کو ہوا دیتے ہیں اور عملاً یہود و نصاریٰ کی زبان بولتے نظر آتے ہیں، انہیں بھی سنجیدگی سے غور کرنا چاہیے۔ انہیں یہ سمجھنا ہوگا کہ وہ اپنے اعمال کے ذمہ دار ہیں اور ایک دن انہیں اپنے افکار اور کردار کا جواب دینا ہوگا۔ دینِ اسلام رحمت، وحدت اور انسانیت کا پیغام دیتا ہے، نہ کہ تکفیر، نفرت اور تقسیم کا۔آخر میں عالمِ اسلام سے بھی ایک مخلصانہ اپیل ہے کہ وہ اپنے داخلی اختلافات، ذاتی مفادات اور چھوٹے چھوٹے تنازعات کو ایک طرف رکھیں۔ اپنے مسائل کو بیرونی طاقتوں کے سامنے لے جا کر ان کی حمایت حاصل کرنے کے بجائے، قرآنِ کریم کی تعلیمات کی طرف رجوع کریں، جس پر سب متفق ہیں۔ قرآن ہمیں واضح طور پر ظلم کے خلاف کھڑے ہونے اور مظلوم کی مدد کرنے کا حکم دیتا ہے۔

آج دنیا جس جنگی اور بحرانی کیفیت سے گزر رہی ہے، اس میں صرف ایک خطہ یا ایک قوم نہیں بلکہ پوری انسانیت متاثر ہو رہی ہے۔ بہت سے اہم عالمی معاملات رکے ہوئے ہیں، اور اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ طاقتور قوتیں سب کچھ اپنے ہاتھ میں رکھنا چاہتی ہیں۔ وہ عدل و انصاف کے تقاضوں کو پورا نہیں کر رہیں، بلکہ اپنے مفادات کو ترجیح دے رہی ہیں۔
ایسے میں ان طاقتور ممالک اور عالمی اداروں سے یہ پرزور اپیل ہے کہ وہ اپنی پالیسیوں پر نظرِ ثانی کریں۔ دنیا کو صرف اپنی طاقت کے زور پر نہیں بلکہ انصاف، توازن اور مساوات کے اصولوں پر چلائیں۔ دوسروں کے حقوق کو بھی اسی طرح اہمیت دیں جس طرح اپنے مفادات کو دیتے ہیں۔ کیونکہ پائیدار امن اسی وقت ممکن ہے جب انصاف سب کے لیے یکساں ہو۔آج وقت کا تقاضا ہے کہ ہم ظالم اور مظلوم کی پہچان کریں۔ جو ظلم کرے، اسے اس کے انجام تک پہنچایا جائے، اور جو مظلوم ہو، اس کا ساتھ دیا جائے۔ یہی انصاف ہے، یہی انسانیت ہے، اور یہی وہ راستہ ہے جو دنیا کو حقیقی امن اور استحکام کی طرف لے جا سکتا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں