بددعائیہ اور بے غیرت ہونے کا دعوٰی

116

تحری:سید ایان علی گردیزی
وزیراعظم کے ایگزیکٹو ہیڈہونے کا قانونی اور اخلاقی جواز باقی نہیں رہا.عام شہری ایک دوسرے عام شہری کو ووٹ کی پہچان اور سبیل سے صاحب اختیار اور صاحب اقتدار بناتا ہے اور امید رکھتا ہے کہ ووٹ حاصل کرنے والا “طالب دعاء” اور “محافظ غیرت” ہوگا۔ آزاد کشمیر میں سیاست دان، اب ووٹ کو اپنے اختیار کا ذریعہ ماننے سے انکاری ہورہے ہیں۔ احساس، ذمہ داری اور احتساب کا کوئی سلسلہ موجود نہیں۔ ووٹ ایک exercise تک باقی رہ گیا ہے۔ اقتدار میں آنے کے لئے پاکستان کی سیاسی جماعت میں شمولیت ، قائدین کی شاباش اور اسٹیبلشمنٹ کے مقامی ذمہ ر کی ہاں ضروری ہے۔

شاباش کی محتاج یہ نئی سنت آزاد کشمیر کے معاشرے کے لئے انتہائی نقصان دہ ہے اور جب یہاں کی انتظامیہ کا بڑا یعنی وزیراعظم خود کو بڑا “بددعائیہ” اور “بے غیرت” ہونے کا دعوٰی کرے، وہ ووٹر کے ساتھ بندہی، دعاء اور غیرت کی زنجیر توڑنے کے جرم کا ارتکاب کرتا ہے۔ اس دعوٰی سے وہ اپنے حلف اور دوسری روایات کی خلاف ورزی کرتا ہے۔

موجودہ وزیراعظم نے خود کو “سب سے زیاد بددعائیہ اور بے غیرت” قرار دے کر، خود کو عوامی عہدے کے لئے نااہل کر دیا ہے۔ وہ احتساب کی زد میں آئے ہیں۔ آزاد کشمیر میں پاکستان کی کوئی بھی سیاسی جماعت یا اسٹیبلشمنٹ کا کوئی ذمہ دار، “بددعائیہ اور بے غیرت،” سیاسی کلچر کی حمائیت نہیں کر سکتا۔ دعاء اور غیرت سے علیحدگی کی یہاں کوئی گنجائش نہیں۔ وزیراعظم کے بددعائیہ اور بے غیرت ہونے کے دعوے کے بعد انکا ایگزیکٹو ہیڈ ہونے کا قانونی اور اخلاقی جواز باقی نہیں رہا۔ وزیراعظم نے اپنی گھریلو سیاسی روایات کی بھی لاج نہیں رکھی۔ اس نکتہ پر عدالت سے بھی رجوع کیا جا سکتا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں