تحریر:نعیم الحسن نعیم
ہزاروں سال نرگس اپنی بے نوری پے روتی ہے
بڑی مشکل سے ہوتا ہے چمن میں دیدا ور پیدا
آج آزاد کشمیر کے مایہ ناز بزرگ سیاستدان ریاستی تشخص کی علامت عظیم کشمیری رہنما سابق صدر و وزیراعظم آزاد کشمیر ہردلعزیز عوامی لیڈر مجاہد اول سردار عبدالقیوم خان صاحب مرحوم کی دسویں برسی منائی جا رہی ہے.آزاد جموں و کشمیر کے قدآور سیاستدان و بزرگ رہنماء سردار عبد القیوم خان یوں تو کسی تعارف و تحریر کے محتاج نہیں لیکن نسل نو کو تاریخی شخصیات اور تاریخی واقعات یاد دلانے کیلئے ان پر بار بار قلم کشائی کی ضرورت پیش آتی رہتی ہے.مجاہداول سردار محمد عبدالقیوم خان جیسی شخصیات صدیوں بعد پیدا ہوتی ہیں۔امت مسلمہ، پاکستان اور تحریک آزادی کشمیر کے لئے ان کی خدمات تاریخ کا ایسا روشن باب ہیں،جنہیں کبھی فراموش نہیں کیا جا سکتا.مجاہد اول کی ذات اقدس پر بات کرنے کے لئے گھنٹوں پر وقت محیط ہونا چاہئے۔
ایک تاریخ ،ایک تحریک اور ایک جدوجہد مسلسل تھے۔1975 ء کی آزاد کشمیر اسمبلی میں جب مرکز کے وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو نے اپنی پوری طاقت اور قوت کے ساتھ عدم اعتماد کیا اور مسلم کانفرنس ہی کے اسمبلی اراکین کو توڑ کر آزادکشمیر میں پیپلز پارٹی کی حکومت بنائی تو سردار عبدالقیوم خان کو پلندری آزاد کشمیر میں نظر بند کر دیا گیا، ایف ایس ایف کے میجر اورنگزیب نے اپنی فورس کے ہمراہ آبائی رہائش غازی آباد سے مجاہد اولکو گرفتار کیا تو سینکڑوں کی تعداد میں لوگوں نے غازی آباد ہائوس کا محاصرہ کیا تھا مجاہد اول نے اپنی گرفتاری کو اپنے نظریے ’’الحاق پاکستان‘‘اور کشمیر بنے گا پاکستان کی راہ میں حائل نہ ہونے دیا ،سفید پوشی اور غربت کا دور تھا۔
چار سال آزاد کشمیر کے سیاہ اور سفید کے مالک کا گھر صرف چند مرلے کا تھا اور مٹی کا بنا ہوا تھا۔حالانکہ 1947 ء میں بھی اپنا مکان تھا،مجاہد اول سے ہزار سیاسی اور ذاتی اختلاف رکھنے والے بھی ان کے کردار کی عظمت کی گواہی دیتے تھے،19 مہینے پلندری جیل میں قید و بند کی تکالیف برداشت کرتے ہوئے عظم و ہمت کی داستان رقم کی۔ایسے حالات میں اپنی پارٹی اور کارکنوں کو ہمیشہ نظریہ الحاق پاکستان کا درس دیتے تھے۔’’کشمیر بنے گا پاکستان ‘‘کا نعرہ اپنا سلوگن بنایا،اپنا رشتہ پاکستان سے بہت مضبوط اور توانا رکھا ہوا تھا جو کہ آج دن تک ’’مسلم کانفرنس‘‘کی صورت میں موجود ہے،مجاہد اول کی سیاست اور طرز سیاست سے ہزار اختلاف کیا جا سکتا ہے مگر جو جان دار سیاسی کردار مجاہد اول نے کشمیر اور پاکستان کی سیاست میں ادا کیا اس کی مثال آج تک نہیں ملتی۔مجاہد اول سردار عبدالقیوم سے بڑے سیاسی اور نظریاتی لیڈر گزرے مگر جو مجاہد اول نے عزت پائی کم ہی کسی کو نصیب ہوئی۔
ریاست جموں و کشمیر میں ایک ایسا مرد قلندر ،درویش،نظریات کا علمبردار ،پاکستانیت کا محافظ اور پاکستان کا پہرے دار مجاہد اول سردار عبدالقیوم خان بھی تھے جن کو سپہ سالار جنرل ضیاء الحق جلسہ عام میں کہتے تھے کہ مجاہد اول ‘میرے مرشد ہیں۔اگر کسی سیاسی جماعت میں شامل ہوا تو وہ ’’مسلم کانفرنس‘‘ہو گی.مجاہد اول جیسی تاریخ ساز، ہمہ جہت اور دور اندیش شخصیات نہ صرف صدیوں میں پیدا ہوتی ہے بلکہ ان کی تعلیمات، افکار اور نظریات کے اثرات صدیوں پر محیط ہوتے ہیں۔ ان عظیم شخصیات کا وجود کسی بھی قوم کے وقار اور خوش نصیبی کی علامت سمجھا جاتا ہے۔ یہ لوگ کسی خاص علاقے، قوم یا ملک تک محدود نہیں بلکہ پوری انسانی برادریوں کیلئے سرمایہ افتخار ہوتے ہیں، مجاہد اول درویش صفت انسان تھے۔ زندگی اسلامی تحریک آزادی کشمیر اور پاکستان کی محبت میں گزاری۔
اقتدار ہونے کے باوجود سادہ زندگی کو ترجیح دی۔ ان کو آزاد کشمیر میں سب سے کم عمر صدر آزاد حکومت ، ریاست جموں کشمیر کا اعزاز بھی حاصل ہے۔ وہ سچے عاشق رسول تھے۔ انہوں نے قادیانیوں کو سب سے پہلے آزاد کشمیر میں غیر مسلم قرار دیا۔ اور آزاد کشمیر پارلیمنٹ سے بل منظور کروایا۔ اس کے بعد یہ تحریک پاکستان میں بہت زور سے اٹھی اور بالآخر ذوالفقار علی بھٹو کو یہ اعزاز حاصل ہوا اور انہوں نے پاکستان کی پارلیمنٹ سے قادیانیوں کو غیر مسلم قرار دینے کا متفقہ بل منظور کروایا۔ انہوں نے کشمیریوں اور حکومت آزاد کشمیر کے تشخص کو اجاگر کیا اور آزاد کشمیر کی اہمیت کو منوایا۔بے شمار اختلاف کے باوجود تحریک آزاد ی کشمیر کے لئے ان کی جدوجہد پر کوئی انگلی نہیں اٹھا سکتا۔ وہ عظیم انسان ، اچھے سیاستدان اور مذہب اسلام سے محبت کرنے والے تھے۔ پاکستانیت ان کی رگ رگ میں کوٹ کوٹ کر بھری ہوئی تھی۔سردار محمد عبد القیوم خان سابق صدر وزیر اعظم آزاد کشمیر دس جولائی 2015 22 رمضان المبارک جمعتہ المبارک کی مقدس ساعتوں میں مجاہد اول سردار محمد عبدالقیوم خان اپنے خالق حقیقی سے جا ملے۔
مت سہل ہمیں جانو پھرتا ہےفلک برسوں
تب خاک کے پردے سے انسان نکلتے ہیں
مجاہد اول سردار محمد عبدالقیوم خان کی برسی کے موقع پر ان کی قومی عسکری سیاسی و سماجی علمی و ادبی مذہبی اور روحانی خدمات پہ خراج عقیدت پیش کرتا ہوں۔تحریک آزادی کشمیر کے نامور ہیرو، سابق وزیراعظم و صدر آزاد کشمیر، مجاہد اول سردار عبدالقیوم خان مرحوم ایک سوچ و نظریہ کانام ہے، آزاد کشمیر کے نوجوان تاریخ سے نا بلد ہیں وہ مجاہد اول کی زندگی کا مطالعہ کرتے ہوئے، انکے نقش قدم پر چلیں.مجاہد اول اس وقت دنیا میں موجود نہیں لیکن ان کی کاوشیں‘ کوششیں، محنتیں اور محبتیں ہمیشہ موجود رہیں گی مجاہد اول سردار عبد القیوم خان جدید اسلامی سیاسی تاریخ اور ریاستی سیاست کا وہ روشن باب ہیں جن سے راہنمائی لیے بغیر اخلاقیات سیاست کا فروغ ممکن نہیں ہے.
آج ٹکروں میں بٹی کشمیری قوم کو مجاہد اول سردار عبدالقیوم خان جیسا جرت مند کشمیری لیڈر مل جائے جو کشمیر کے تشخص کی علامت ہو اور وہ کشمیری قوم کا کھویا ہوا مقام واپس لا سکے کیوں کےکشمیر کا بیٹا اور بیٹی آج کشمیر کے قومی ہیرو کی جان پہچان سے دور جا چکے ہیں اور وہ ان کو اپنا ہیرو مان چکے ہیں جن کا تعلق بیس کیمپ سے نہیں بلکے اپنے مفادات کے بیس کیمپ سے تھا اور ہے یہ بات مجھ سمیت میرے کشمیر کے لوگوں کے لیے غور طلب ہے کے جس کشمیر کا تشخص صدیوں پرانا تھا وہ آج اپنا تشخص بھول کر اُن لوگوں سے اپنے تشخص کا حق مانگ رے ہیں جن کو خود اپنا تشخص یاد نہیں یاد رکھو جو قومیں اپنا تشخص بھول جاتی ہیں وہ پھر اپنا تشخص واپس لانے کے لیے لاکھ قربانی بھی دے کر اپنے تشخص کا گزرا ہوا کل آج میں نہیں لا سکی دعا ہے اللہ پاک کشمیری قوم کو اور حکومت وقت کو اپنے قومی ہیرو کے دن اور اُن کی گراں قدر خدمات کو یاد رکھنے کی ہمت اور توفیق دے.بے شک مجاہد اول ایک عظیم انسان اور ایک عظیم رہنما تھے۔ اللہ پاک مجاہد اول کو جنت میں اعلی مقام عطاء فرمائیں اور ہمیں ان کے نقش قدم پر چلنے کی توفیق عطاء فرمائیں آمین.