جب ہتھیار خاموش ہوں تو بات چیت بولتی ہے

139

تحریر: محمد بشارت مغل
بین الاقوامی تعلقات میں یہ حقیقت مسلمہ ہے کہ طاقت کے ذریعے حاصل کیے گئے حل اکثر عارضی ہوتے ہیں، جبکہ دیرپا امن صرف سفارت کاری، مکالمے اور باہمی اعتماد سازی کے ذریعے ہی ممکن ہوتا ہے۔ اقوامِ متحدہ کا چارٹر بھی اسی اصول کی توثیق کرتا ہے کہ تنازعات کا حل پرامن ذرائع سے تلاش کیا جائے۔
موجودہ عالمی اور علاقائی تناظر میں جاری سفارتی کوششیں ایک بار پھر اس امر کو واضح کرتی ہیں کہ فریقین کے درمیان بعض اہم نکات پر اختلافات برقرار رہنے کے باعث مذاکرات کا ابتدائی دور کسی حتمی نتیجے تک نہیں پہنچ سکا۔ اسلام آباد میں ہونے والی بات چیت بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی تھی، جو مکمل معاہدے یا حتمی سمجھوتے کی شکل اختیار نہ کر سکی۔ تاہم اس کے باوجود مذاکرات کا جاری رہنا اور رابطے کا برقرار رہنا ایک اہم اور مثبت سفارتی پیش رفت تصور کیا جا رہا ہے۔

عالمی سطح پر مختلف ریاستیں اپنے اپنے سلامتی، سیاسی اور اسٹریٹجک مفادات کے تحت مؤقف اختیار کرتی ہیں، جو تاریخی تجربات اور علاقائی حقائق سے گہرے طور پر جڑے ہوتے ہیں۔ اسی پس منظر میں بین الاقوامی برادری کا عمومی مؤقف یہی ہے کہ اختلافات کو طاقت کے بجائے مذاکرات اور سفارتی عمل کے ذریعے حل کیا جائے تاکہ کشیدگی میں اضافہ نہ ہواگرچہ اسلام آباد میں ہونے والے مذاکرات کسی حتمی نتیجے تک نہیں پہنچ سکے، تاہم یہ امر اہم ہے کہ فریقین نے بات چیت کے دروازے بند نہیں کیے۔ اس عمل کو اعتماد سازی کے ایک ابتدائی مگر ضروری مرحلے کے طور پر دیکھا جاتا ہے، جو مستقبل میں مزید پیش رفت کی بنیاد بن سکتا ہے۔

اس تناظر میں ثالثی کرنے والے ممالک اور بین الاقوامی اداروں کی ذمہ داری مزید بڑھ جاتی ہے کہ وہ فریقین کو دوبارہ مذاکرات کی میز پر لانے، اعتماد سازی کے اقدامات کو فروغ دینے اور ایک ایسا ماحول پیدا کرنے میں کردار ادا کریں جس میں بامعنی پیش رفت ممکن ہو سکے۔پاکستان، بطور میزبان اور ایک ذمہ دار علاقائی فریق، نے ہمیشہ پرامن حل، مکالمے اور سفارتی کوششوں کی حمایت کی ہے۔ اسلام آباد میں اس طرح کی بات چیت کی میزبانی پاکستان کے اس مؤقف کی عکاسی کرتی ہے کہ تنازعات کا حل طاقت نہیں بلکہ گفتگو اور سفارت کاری میں پوشیدہ ہے۔ پاکستان کا کردار اس تناظر میں ایک سہولت کار (facilitator) کے طور پر دیکھا جاتا ہے جو خطے میں کشیدگی میں کمی اور استحکام کے فروغ کے لیے مسلسل کوشش کرتا رہا ہے۔

بین الاقوامی قوانین اور اصول اس بات پر زور دیتے ہیں کہ تنازعات کا پرامن حل نہ صرف ضروری ہے بلکہ عالمی امن و استحکام کے لیے ناگزیر بھی ہے، کیونکہ کسی بھی خطے کی کشیدگی کے اثرات عالمی سطح پر محسوس کیے جاتے ہیں۔آخر میں یہی حقیقت سامنے آتی ہے کہ جب ہتھیار خاموش ہوتے ہیں تو بات چیت کو آگے بڑھنے کا موقع ملتا ہے، اور یہی وہ لمحہ ہوتا ہے جہاں پاکستان سمیت تمام ذمہ دار فریقین کے لیے یہ امکان پیدا ہوتا ہے کہ وہ امن، استحکام اور تعاون کی طرف پیش رفت کو حقیقت میں بدل سکیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں