تحریر: سردار عبدالخالق وصی
برصغیر کی سیاسی و فکری تاریخ میں چند شخصیات ایسی ہیں جن کا کردار محض اپنے عہد تک محدود نہیں رہتا بلکہ وہ آنے والی نسلوں کے لیے فکری راستے متعین کر دیتی ہیں۔ حمید نظامی بھی انہی درخشاں ناموں میں شامل ہیں جنہوں نے تحریکِ پاکستان کے فکری محاذ کو قوت بخشی اور اردو صحافت کو نظریاتی سمت عطا کی۔ ان کی زندگی اس حقیقت کی گواہ ہے کہ محدود وسائل کے باوجود اگر عزم، بصیرت اور مقصدیت ہو تو انسان تاریخ کے دھارے کا رخ موڑ سکتا ہے۔ وہ محض ایک صحافی نہیں بلکہ ایک فکری سپاہی، ایک تنظیم ساز اور ایک نظریاتی رہنما تھے جن کی تحریر میں یقین کی حرارت اور کردار میں استقامت کی روشنی نمایاں تھی۔سانگلہ ہل کے ایک متوسط مگر باوقار گھرانے میں آنکھ کھولنے والے حمید نظامی نے ابتدائی عمر ہی میں مطالعہ، فکر اور قومی شعور کی طرف غیر معمولی رجحان دکھایا۔ لاہور کے علمی و سیاسی ماحول نے ان کی شخصیت کو مزید جلا بخشی۔ اسی فضا میں ان کی ملاقاتیں اور فکری وابستگیاں ایسی شخصیات سے ہوئیں جنہوں نے برصغیر کی تاریخ بدل دی۔ علامہ اقبال کی فکری رہنمائی اور محمد علی جناح کی سیاسی قیادت نے ان کے اندر ایک واضح مقصد پیدا کیا— ایک ایسی ریاست کا قیام جہاں مسلمان اپنی تہذیبی اور سیاسی شناخت کے ساتھ آزاد زندگی گزار سکیں۔ نوجوانوں کو منظم کرنا، ان میں شعور پیدا کرنا اور تحریک کو فکری قوت فراہم کرنا ان کی زندگی کا محور بن گیا۔
طلبہ سیاست کے میدان میں ان کی سب سے نمایاں خدمت پنجاب مسلم سٹوڈنٹس فیڈریشن کی بنیاد اور اس کی قیادت ہے۔ یہ محض ایک تنظیم نہیں تھی بلکہ تحریکِ پاکستان کی فکری نرسری ثابت ہوئی جہاں سے بے شمار نوجوان قیادتیں ابھریں۔ حمید نظامی کی تنظیمی صلاحیت نے نوجوانوں کو ایک مقصد کے تحت مجتمع کیا اور انہیں یہ احساس دلایا کہ تاریخ کے بڑے فیصلوں میں نوجوانوں کا کردار فیصلہ کن ہوتا ہے۔ یہی وہ مرحلہ تھا جہاں ان کی شخصیت ایک متحرک کارکن سے فکری رہنما کی صورت اختیار کرتی گئی۔ان کی زندگی کا سب سے بڑا اور دیرپا کارنامہ صحافت کے میدان میں سامنے آیا جب انہوں نے روزنامہ نوائے وقت کی بنیاد رکھی۔ 23 مارچ 1940ء کا دن صرف سیاسی اعتبار سے ہی اہم نہیں تھا بلکہ صحافتی تاریخ میں بھی سنگ میل کی حیثیت رکھتا ہے، کیونکہ اسی روز ایک ایسے جریدے کا آغاز ہوا جس نے نظریۂ پاکستان کی ترجمانی کو اپنا مشن بنایا۔ ابتدا میں ایک محدود وسائل کے حامل جریدے کے طور پر شروع ہونے والا نوائے وقت جلد ہی ایک مضبوط آواز بن گیا جو مسلم لیگ کے مؤقف اور مسلمانوں کے سیاسی حقوق کی بھرپور ترجمانی کرتا تھا۔
نوائے وقت کی صحافت محض خبر رسانی تک محدود نہیں تھی بلکہ یہ ایک نظریاتی تحریک تھی۔
اس اخبار نے ایسے وقت میں حق گوئی کا علم بلند کیا جب سیاسی دباؤ، سنسرشپ اور معاشی مشکلات ہر آزاد آواز کو خاموش کرنے کے لیے کافی تھیں۔ پریس ضبطگیاں، مقدمات اور سرکاری دباؤ کے باوجود حمید نظامی نے اپنے موقف میں کبھی لچک پیدا نہیں ہونے دی۔ ان کے نزدیک صحافت کا اصل مقصد عوام کی رہنمائی اور قومی مفاد کا تحفظ تھا، نہ کہ وقتی مصلحتوں کا شکار ہونا۔قیام پاکستان کے بعد بھی ان کی صحافتی جدوجہد ختم نہیں ہوئی بلکہ ایک نئے مرحلے میں داخل ہو گئی۔ اب چیلنج یہ تھا کہ نئی ریاست کے نظریاتی خدوخال کو واضح رکھا جائے اور جمہوری اقدار کو مضبوط بنایا جائے۔ انہوں نے اپنی تحریروں کے ذریعے نہ صرف حکومتی پالیسیوں پر تنقیدی نظر رکھی بلکہ عوامی مسائل کو بھی اجاگر کیا۔ ان کا قلم حکمرانوں کے لیے احتساب کی آواز اور عوام کے لیے امید کا پیغام بن گیا۔حمید نظامی کی صحافتی فکر کا بنیادی اصول یہ تھا کہ صحافی محض خبر نویس نہیں بلکہ معاشرے کا فکری رہنما ہوتا ہے۔ وہ علم، تحقیق اور وسیع مطالعے کو صحافت کی روح سمجھتے تھے۔ ان کے نزدیک صحافت ایک امانت ہے جسے دیانت اور جرات کے ساتھ ادا کرنا ضروری ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ان کی تحریروں میں شائستگی کے ساتھ ساتھ ایک واضح نظریاتی استحکام بھی دکھائی دیتا ہے۔بدقسمتی سے وہ زیادہ طویل عرصہ اس دنیا میں نہ رہ سکے۔
صرف 47 برس کی عمر میں ان کا انتقال ایک ایسے وقت میں ہوا جب پاکستان کو فکری رہنمائی کی شدید ضرورت تھی۔ تاہم ان کا قائم کردہ ادارہ اور ان کی فکری روایت زندہ رہی۔ ان کے بعد مجید نظامی نے نوائے وقت کی باگ ڈور سنبھالی اور اسے مزید استحکام اور وقار بخشا، یوں یہ ادارہ ایک تسلسل کے ساتھ نظریاتی صحافت کی علامت بنا رہا۔حمید نظامی کی زندگی ہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ اصولوں پر قائم رہنے والا شخص وقتی مشکلات سے خوفزدہ نہیں ہوتا۔ وہ جانتا ہے کہ سچائی کی طاقت دیرپا ہوتی ہے اور نظریہ وقت کی کسوٹی پر پورا اترتا ہے۔ ان کی جدوجہد دراصل اس یقین کی داستان ہے کہ قلم اگر مقصد کے ساتھ جڑ جائے تو وہ قوموں کی تقدیر بدلنے کی قوت رکھتا ہے۔آج جب ہم ان کی خدمات کو یاد کرتے ہیں تو یہ احساس مزید گہرا ہو جاتا ہے کہ قومی زندگی میں نظریاتی صحافت کی اہمیت پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ چکی ہے۔ فکری انتشار اور اطلاعات کے ہجوم کے اس دور میں حمید نظامی کی روایت ہمیں یاد دلاتی ہے کہ صحافت کا اصل جوہر سچائی، ذمہ داری اور قومی شعور کی آبیاری ہے۔حمید نظامی تاریخ کا محض ایک باب نہیں بلکہ ایک زندہ روایت ہیں— ایک ایسی روایت جو ہمیں حوصلہ دیتی ہے کہ ہم اپنے نظریات پر قائم رہیں، حق بات کہنے کا حوصلہ رکھیں اور قومی مفاد کو ہر ذاتی مصلحت پر ترجیح دیں۔ یہی ان کے لیے حقیقی خراجِ عقیدت ہے اور یہی وہ چراغ ہے جس کی روشنی آنے والی نسلوں کے راستے منور کرتی رہے گی۔ حمید نظامی مرحوم اور مجید نظامی مرحوم کے اصولوں پر چلنا آسان نہیں لیکن انکی روایات کو آج محترمہ رمیزہ نظامی اور نوایے وقت کی ادارتی و رپورٹنگ ٹیم بڑی خوش اسلوبی سے آگے بڑھا رھی ھے.