تحریر: ڈاکٹر راجہ زاہد خان(دفاعی و اسٹریٹجک امور کے ماہر)
مشرقِ وسطیٰ کی سیاست ایک نئے موڑ پر کھڑی ہے۔ گزشتہ چند برسوں کے دوران خطے میں رونما ہونے والی جنگوں، پراکسی تنازعات اور تیزی سے بدلتے ہوئے عالمی طاقت کے توازن نے خلیجی ریاستوں کو یہ احساس دلایا ہے کہ محض بیرونی طاقتوں پر انحصار کر کے طویل المدتی سلامتی کو یقینی نہیں بنایا جا سکتا۔ اسی پس منظر میں قطر کے سابق وزیر اعظم اور بااثر تاجر Hamad bin Jassim bin Jaber Al Thani کی جانب سے پیش کی جانے والی تجویز نے ایک اہم بحث کو جنم دیا ہے۔ انہوں نے خلیجی ممالک کو مشورہ دیا ہے کہ وہ Gulf Cooperation Council کے پلیٹ فارم سے ایک ایسا مشترکہ دفاعی اتحاد تشکیل دیں جو کسی حد تک North Atlantic Treaty Organization کی طرز پر کام کرے۔یہ تجویز محض ایک نظریاتی خیال نہیں بلکہ بدلتے ہوئے علاقائی حالات کا منطقی نتیجہ ہے۔ گزشتہ دہائی میں مشرقِ وسطیٰ نے جس طرح کی جنگوں اور سیاسی کشمکش کا سامنا کیا ہے اس نے واضح کر دیا ہے کہ عرب دنیا کا موجودہ دفاعی ڈھانچہ بکھرا ہوا اور غیر مؤثر ہے۔ خلیجی ممالک کے پاس بے پناہ مالی وسائل موجود ہیں لیکن عسکری ٹیکنالوجی، دفاعی صنعت اور اسٹریٹجک خودمختاری کے حوالے سے وہ اب بھی بڑی حد تک مغربی ممالک پر انحصار کرتے ہیں۔
یہی وہ خلا ہے جسے ایک نئے علاقائی اتحاد کے ذریعے پُر کیا جا سکتا ہے۔اس ممکنہ اتحاد کا بنیادی مرکز یقیناً Saudi Arabia ہو سکتا ہے، کیونکہ خلیجی سیاست میں اس کا سیاسی اور عسکری وزن سب سے زیادہ ہے۔ اس کے ساتھ Qatar، United Arab Emirates، Kuwait، Bahrain اور Oman جیسے ممالک اگر مشترکہ دفاعی فریم ورک پر متفق ہو جائیں تو خطے میں ایک مضبوط سلامتی ڈھانچہ تشکیل دیا جا سکتا ہے۔ تاہم اس اتحاد کی اصل طاقت اس وقت سامنے آئے گی جب اس میں خطے کی دو اہم عسکری قوتیں یعنی Pakistan اور Turkey شامل ہوں، جبکہ Egypt کی شمولیت اسے عرب دنیا میں مزید وزن فراہم کر سکتی ہے۔موجودہ عالمی منظرنامے میں اسرائیل کی عسکری برتری اور مغربی طاقتوں کی غیر مشروط حمایت نے خطے میں طاقت کے توازن کو بری طرح متاثر کیا ہے۔ اگرچہ عرب لیگ اور دیگر علاقائی تنظیمیں ماضی میں قائم کی گئیں، لیکن وہ کبھی بھی ایک مؤثر دفاعی اتحاد میں تبدیل نہیں ہو سکیں۔ اس کی بنیادی وجہ داخلی اختلافات، علاقائی رقابتیں اور پراکسی سیاست رہی ہے۔ نتیجتاً عرب دنیا نہ صرف دفاعی طور پر منتشر رہی بلکہ کئی مواقع پر داخلی تقسیم نے بیرونی طاقتوں کو خطے میں مداخلت کا موقع بھی فراہم کیا۔
اس صورتحال میں ایک منظم اور مربوط دفاعی اتحاد کی ضرورت پہلے سے کہیں زیادہ محسوس کی جا رہی ہے۔ اس اتحاد کا مقصد کسی نئی جنگ کو جنم دینا نہیں بلکہ ایک ایسا اجتماعی دفاعی نظام قائم کرنا ہونا چاہیے جو خطے میں طاقت کے توازن کو برقرار رکھ سکے۔ اگر خلیجی سرمایہ، ترک عسکری ٹیکنالوجی اور پاکستانی دفاعی تجربہ ایک پلیٹ فارم پر جمع ہو جائے تو یہ اتحاد نہ صرف مشرقِ وسطیٰ بلکہ وسیع تر مسلم دنیا کے لیے بھی ایک نیا اسٹریٹجک ماڈل بن سکتا ہے۔پاکستان اس تناظر میں ایک کلیدی کردار ادا کر سکتا ہے۔ پاکستانی مسلح افواج نہ صرف پیشہ ورانہ مہارت کے حوالے سے عالمی سطح پر تسلیم کی جاتی ہیں بلکہ ملک کے پاس میزائل ٹیکنالوجی، ڈرون صلاحیتوں اور دفاعی پیداوار کے کئی اہم شعبوں میں نمایاں تجربہ موجود ہے۔ یہی وجہ ہے کہ گزشتہ چند برسوں میں پاکستان نے خلیجی ممالک اور ترکی کے ساتھ عسکری تعاون کو نمایاں طور پر فروغ دیا ہے۔ اگر ایک وسیع دفاعی اتحاد تشکیل پاتا ہے تو پاکستان اس کے انٹیلیجنس، تربیت اور دفاعی صنعت کے شعبوں میں مرکزی کردار ادا کر سکتا ہے۔
اسی طرح ترکی نے گزشتہ دہائی میں اپنی دفاعی صنعت کو جس تیزی سے ترقی دی ہے وہ مسلم دنیا کے لیے ایک مثال بن چکی ہے۔ ترک ڈرون ٹیکنالوجی، جدید بحری نظام اور الیکٹرانک وارفیئر کے شعبے میں ہونے والی پیش رفت نے اسے ایک ابھرتی ہوئی عسکری طاقت کے طور پر سامنے لایا ہے۔ اگر ترک ٹیکنالوجی اور پاکستانی عسکری تجربہ خلیجی سرمایہ کے ساتھ یکجا ہو جائے تو یہ اتحاد دفاعی خودکفالت کی جانب ایک بڑا قدم ثابت ہو سکتا ہے۔تاہم اس پورے منصوبے میں ایک اہم سوال Iran کے کردار سے متعلق بھی ہے۔ موجودہ تجویز میں ایران کو اس ممکنہ اتحاد کا حصہ نہیں بنایا گیا، جس کی بنیادی وجہ خطے میں موجود سیاسی اختلافات اور جیوپولیٹیکل حساسیت ہے۔ اس کے باوجود حقیقت یہ ہے کہ مشرقِ وسطیٰ میں پائیدار امن ایران کو مکمل طور پر نظرانداز کر کے ممکن نہیں۔ ایران نے سخت معاشی پابندیوں کے باوجود دفاعی ٹیکنالوجی اور عسکری صلاحیتوں کے شعبے میں قابل ذکر پیش رفت کی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ خطے میں طاقت کے توازن کو برقرار رکھنے کے لیے کسی بھی نئی سیکیورٹی آرکیٹیکچر کو ایران کے ساتھ کشیدگی کے بجائے توازن اور سفارتی رابطے کی حکمت عملی اختیار کرنا ہوگی۔
ماضی کا تجربہ ہمیں یہ بھی بتاتا ہے کہ عرب دنیا کی کمزوریوں میں سب سے بڑا عنصر داخلی تقسیم رہی ہے۔ کئی مواقع پر علاقائی اختلافات کو پراکسی جنگوں کی شکل دے کر نہ صرف خطے کو عدم استحکام کا شکار کیا گیا بلکہ مسلم دنیا کے دو بڑے بلاکس کو ایک دوسرے کے مقابل بھی کھڑا کیا گیا۔ اس صورتحال میں بیرونی طاقتوں نے نہ صرف سیاسی بلکہ عسکری فائدہ بھی اٹھایا۔ یہی وہ تاریخی پس منظر ہے جس نے آج عرب دنیا کو ایک نئی اسٹریٹجک سوچ اختیار کرنے پر مجبور کر دیا ہےاگر خلیجی ممالک واقعی ایک مؤثر دفاعی اتحاد قائم کرنا چاہتے ہیں تو انہیں محض عسکری تعاون تک محدود نہیں رہنا ہوگا بلکہ دفاعی صنعت، سائبر سیکیورٹی، انٹیلیجنس شیئرنگ اور مشترکہ تربیتی نظام جیسے شعبوں میں بھی گہرا تعاون قائم کرنا ہوگا۔ اس کے ساتھ ساتھ ایک ایسا ادارہ جاتی فورم بھی تشکیل دینا ضروری ہوگا جو پالیسی سازی سے لے کر اس کے عملی نفاذ تک مسلسل رہنمائی فراہم کر سکے۔یہ بھی حقیقت ہے کہ موجودہ عالمی نظام تیزی سے کثیر قطبی شکل اختیار کر رہا ہے۔
ایسے ماحول میں وہی ریاستیں یا اتحاد مؤثر ثابت ہوں گے جو اپنی سلامتی اور دفاعی ضروریات کو خود پورا کرنے کی صلاحیت رکھتے ہوں۔ مسلم دنیا کے پاس وسائل کی کمی نہیں، مسئلہ صرف اسٹریٹجک ہم آہنگی اور سیاسی عزم کا ہے۔ اگر یہ دونوں عناصر یکجا ہو جائیں تو ایک مضبوط علاقائی دفاعی اتحاد نہ صرف ممکن ہے بلکہ عالمی سیاست میں ایک نئی حقیقت بھی بن سکتا ہے۔آخرکار سوال یہ نہیں کہ ایسا اتحاد بن سکتا ہے یا نہیں، بلکہ اصل سوال یہ ہے کہ کیا مسلم دنیا اپنی ماضی کی تقسیم اور کمزوریوں سے سبق سیکھنے کے لیے تیار ہے یا نہیں۔ اگر خلیجی ریاستیں، پاکستان، ترکی اور مصر مشترکہ وژن کے ساتھ آگے بڑھتے ہیں تو آنے والے برسوں میں ایک ایسا دفاعی بلاک وجود میں آ سکتا ہے جو نہ صرف مشرقِ وسطیٰ بلکہ پوری مسلم دنیا کے لیے سلامتی اور استحکام کی نئی بنیاد فراہم کرے گا۔