دارالعلوم جامعہ سراج العلوم کو غیر قانونی قرار دینا ہندوتوا نظریے کو عملی جامہ پہنانا ہے، ترجمان متحدہ جہاد کونسل

81

مظفر آباد (سٹیٹ ویوز) شوپیان، مقبوضہ وادی کشمیر میں دارالعلوم جامعہ سراج العلوم پر چھاپے اور اسے غیر قانونی سرگرمیوں کی روک تھام کے کالے قانون UAPA کے تحت غیر قانونی ادارہ قرار دیے جانے کی شدید مذمت کرتے ہیں۔قابض بھارتی انتظامیہ مقبوضہ جموں و کشمیر میں مذہبی و دوسرے تعلیمی اداروں کو براہ راست نشانہ بنا کر ہندوتوا نظریے کو عملی جامہ پہنانا چاہتی ہے۔

اس پالیسی کا مقصد کشمیری مسلمانوں کی مذہبی، دینی اور تہذیبی شناخت کو مٹاکراس خطے کو ایک ہندو ریاست میں تبدیل کرنا ہے۔”گھر واپسی” جیسے منصوبوں کے ذریعے ہندوانہ تہذیب و تمدن کو فروغ دے کر ریاست کے مسلم تشخص کو ختم کرنے کی منظم کوششیں کی جا رہی ہیں۔

دارالعلوم جامعہ سراج العلوم کے خلاف کارروائی محض ایک تعلیمی ادارے کے خلاف اقدام نہیں بلکہ یہ مقبوضہ جموں و کشمیر کے تمام دینی اداروں کے خلاف ایک خطرناک آغاز ہے۔ اگر اس ظلم کو نہ روکا گیا تو مستقبل میں کوئی بھی دینی ادارہ، خواہ وہ کسی بھی مسلک یا جماعت سے وابستہ ہو، محفوظ نہیں رہے گا۔

ایک طرف غیر ریاستی افراد ہندوں کو جموں و کشمیر کی شہریت دے کر مقبوضہ علاقے کے آبادیاتی تناسب کو تبدیل کیا جا رہا ہے اور دوسری طرف مذہبی اداروں کو نشانہ بنا کر کشمیری مسلمانوں کی مذہبی بنیادوں کو کمزور کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ بھارتی قیادت طاقت کے زور پر یہ تمام اقدامات کر رہی ہے.

مگر تاریخ گواہ ہے کہ جبر و استبداد پر مبنی پالیسیاں ہمیشہ سنگین نتائج کا باعث بنتی ہیں۔پاکستان اور او آئی سی کو چاہیے کہ وہ بھارت کی اس ریاستی دہشت گردی کے خلاف موثر اور ٹھوس اقدامات کریں۔ بھارت کو یہ باور کرانا ضروری ہے کہ کشمیری عوام تنہا نہیں ہیں بلکہ پوری امت مسلمہ ان کیساتھ کھڑی ہے۔

ایسے مذموم اقدامات نہ صرف کشمیری عوام کے جذبات کو مجروح کرتے ہیں بلکہ پورے خطے کے امن و استحکام کو بھی خطرے میں ڈال دیتے ہیں۔ اگر یہ کارروائیاں جاری رہیں تو یہ خطے میں بدامنی اور کشیدگی کو مزید ہوا دینے کا سبب بنیں گی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں