تحریر.اظہر اعجاز عباسی
تاریخ گواہ ہے کہ کچھ لوگ صرف عہدوں سے نہیں، کردار سے پہچانے جاتے ہیں۔ آل جموں و کشمیر مسلم کانفرنس کے صدر اور سابق وزیراعظم آزاد ریاست جموں و کشمیر سردار عتیق احمد خان انہی شخصیات میں سے ہیں جنہوں نے سیاست کو وراثت نہیں، امانت سمجھا۔تین سنگِ میل جو ان کی سیاست کا خلاصہ ہیں.
دور اندیشی
جب ہوائیں رخ بدلتی ہیں، کمزور کشتیاں بھٹک جاتی ہیں۔ مگر سردار عتیق نے ہر دور میں کشمیر کاز کو وقتی مفادات پر قربان نہیں ہونے دیا۔ ان کی حکمت عملی کا محور ہمیشہ ایک ہی رہا: کشمیریوں کا حقِ خود ارادیت اور پاکستان سے ناقابلِ شکست رشتہ۔
نظریاتی استقامت
آل جموں کشمیر مسلم کانفرنس کا ورثہ “کشمیر بنے گا پاکستان” محض نعرہ نہیں، ایک تہذیبی، روحانی اور سیاسی عہد ہے۔ سردار عتیق نے اس عہد کو اپنے قول و فعل سے زندہ رکھا۔ انہوں نے کشمیری تشخص کو پاکستان کی محبت سے جدا نہیں ہونے دیا، بلکہ ثابت کیا کہ یہ دونوں لازم و ملزوم ہیں۔
وکالتِ کشمیر
آج جب دنیا کے ایوانوں میں کشمیر کی آواز دبانے کی کوشش ہو رہی ہے، سردار عتیق احمد خان بین الاقوامی فورمز پر کشمیر کا مقدمہ دلائل، تاریخ اور جذبات کے ساتھ پیش کر رہے ہیں۔ وہ واقعی اس نعرے کے سب سے بڑے وکیل بن کر ابھرے ہیں کہ “کشمیر بنے گا پاکستان”۔
ان کی سیاست کا حسن یہ ہے کہ وہ جذباتیت اور حقیقت پسندی کے درمیان توازن رکھتے ہیں۔ وہ جانتے ہیں کہ منزل دُور ہے، مگر راستہ نظریے سے ہی کٹتا ہے۔ وہ نئی نسل کو یاد دلاتے ہیں کہ آزادی صرف زمین کا نام نہیں، سوچ کی بیداری کا نام ہے۔
علامہ اقبال نے ایسے ہی مردانِ حُر کے لیے کہا تھا:
یقیں محکم، عمل پیہم، محبت فاتحِ عالم
جہادِ زندگانی میں ہیں یہ مردوں کی شمشیریں
سردار عتیق احمد خان کی سیاست اسی “یقینِ محکم کی تفسیر ہے۔ وہ کشمیر کے اس نظریے کے امین ہیں جو لہو سے لکھا گیا اور جس کی سیاہی ابھی خشک نہیں ہوئی۔ وقت بدلے گا، نسلیں بدلیں گی، مگر جب تک اس جیسے پاسبان موجود ہیں، کشمیر کا نظریہ بھی زندہ رہے گا اور پاکستان سے اس کا رشتہ بھی لازوال رہے گا۔
کشمیر بنے گا پاکستان