سوشلسٹ مستقبل پکار رہا ہے

243

تحریر: راجہ شباب منہاس
ماہ و سال کی گردش ایک بار پھر اس دن کی یادیں سامنے لا رہی ہے کہ جب سرکاری و غیر سرکاری سطح پر پر تعیش سیمینارز محنت کش خواتین کی حالت زار کا رونا دھونا کرتے ہوئے تاریخ کو مسخ کرنے کی کوششوں میں مصروف نظر آئیں گے، 1867ء میں امریکی شہر نیویارک میں خواتین محنت کشوں نے اپنے حقوق کی بازیابی کیلئے لڑائی کا آغاز اس لئے نہیں کیا تھا کہ حکمران طبقات اور دنیا بھر میں مردو خواتین محنت کشوں ، نوجوانوں اور بچوں کا خون چوسنے والے سامراجی گدھوں کی بھیک میں دی گئی رقوم کو ہڑپنے کیلئے نام نہاد سول سوسائٹی کی زرق برق پوشاکوں میں لپٹی خواتین کو جمع کیا جا کر خواتین پر ہونیوالے مظالم، انکے استحصال، انکے دکھوں، اذیتوں اور لاچارگی کی فروخت کاری میں اپنا بھرپور حصہ ڈالتے ہوئے مال کمایا جائے یا خواتین کے زندہ رہنے کیلئے بدترین ممالک کی فہرست میں تمام دنیا میں پیچھے چھوڑ دینے والے ملک کے حکمران خواتین کے تحفظ اور انکی فلاح و بہبود کے بلند و بانگ دعوؤں سے بھرپور تقاریب کا انعقاد کرتے ہوئے اپنی انسانیت دوستی کا ثبوت دیتے پھریں، آٹھ مارچ کو نام نہاد غیر سرکاری ادارے اس فروخت کاری کے عمل میں مظلوم خواتین کے دکھوں کا سودا کرنے کیلئے بیشمار حربے استعمال کرینگے، خواتین کے حقوق اور انکے فرائض پر مشتمل لیکچر دیئے جائیں گے، نغمے اورترانے ترتیب دیئے جائیں گے، مذہب کو بنیاد بنا کر عورت کی عظمت کے قصیدے سنائے جائیں گے ،لیکن اس سب کے ساتھ محنت کش خواتین کے شب و روز میں حائل مصائب و مشکلات کی وجوہات کو چھپانے کی بھرپور کوشش بھی ہمیں ایک بار پھر نظر آئیگی، سب کو اپنا آپ ٹھیک کرنے، مردوں کو سوچ تبدیل کرنے، خواتین کو پردہ کرنے سمیت ہر سطحی پہلو کو اجاگر کرکے ان مصائب کے خاتمے کیلئے ضروری ٹانک بنا کر پیش کیا جائے گا، مجال ہے اتنی محنتوں اور سرمائے کے استعمال کے باوجود رتی برابر بھی محنت کش خواتین کی مشکلات میں کمی آئی ہو۔

خواتین کی آبادی مردوں کے مقابلے میں زیادہ ہے لیکن ان میں سے پچاس فیصد غذائی قلت کا شکار ہیں، ہر نو میں سے ایک عورت چھاتی کے کینسر جیسے موذی مرض میں مبتلا ہے، ہر سال چالیس ہزار اموات صرف اس مرض کی وجہ سے ہوتی ہیں۔ غذائی قلت کے باعث حاملہ ماؤں کی ایک بڑی روزانہ زندگی کی بازی ہار جاتی ہے، مذہب کے بھیانک استعمال نے پاکستان جیسے ممالک میں خواتین کو گھروں میں قید کر رکھا ہے، پیٹ کی ضرورت کو پورا کرنے کی خاطر خواتین کو گھر سے باہر نکلنے سے لیکر کام کی جگہ تک ہر جگہ خونخوار نظروں کا سامنا رہتا ہے، محنت کش خواتین کا ایک طرف انتہائی کم اجرت دیکر استحصال کیا جاتا ہے جبکہ دوسری جانب جنسی استحصال کی شرح میں بھی روز افزوں اضافہ ہو رہا ہے، پاکستان و ازادکشمیر جیسے سماج میں آج بھی پسماندگی اسقدر موجود ہے کہ خواتین کے زمینوں، کتابوں ، روایات سے نکاح صرف جائیداد کے بٹوارے سے بچنے کیلئے کروا دیئے جاتے ہیں، مرضی سے جیناتو درکنار، مرضی سے مرنے کا حق بھی چھین لیا جاتا ہے، یہ صورتحال کم ہونے کی بجائے روز بروز بڑھتی چلی جا رہی ہے۔لیکن انسانی حقوق کے علمبردار سامراجی گدھ اور مقامی حکمران طبقات آٹھ مارچ کی روح کو مسخ کرتے ہوئے خواتین کو روز مرہ کی ان اذیتوں کو برداشت کرنے اور مردوں کو اچھا ہونے کا درس دیکر یہ ثابت کرنا چاہتے ہیں کہ مردوں کی نفسیات عورتوں پر تشدد کرنا ہے جسے تبدیل کرنے کی ضرورت ہے جبکہ اصل وجوہات پر پردہ ڈال دیا جاتا ہے۔

عالمی معاشی بحران نے محنت کشوں کی زندگیوں کو پھر سے اجیرن بنا دیا ہے لیکن پاکستان جیسے ترقی پذیر ممالک میں جہاں تاخیر زدہ سرمایہ داری اپنے تاریخی فرائض پورے کرنے میں ناکام رہی وہاں محنت کش مردو خواتین کی زندگیاں کبھی بھی خوشگوار نہیں ہو سکیں، آج جب ایک نظام اپنی موت آپ مر رہا ہے تو ایسے میں آٹھ مارچ کا دن ہمیں یہ پیغام دے رہا ہے کہ محنت کش خواتین طبقاتی بنیادوں پر تقسیم اس سماج سے طبقات کے خاتمے کیلئے مرد محنت کشوں کے ساتھ ملکر ایک مشترکہ جدوجہد کو منظم کریں اورپاکستان سمیت اس کرہ ارض سے سرمایہ داری نظام کا خاتمہ کرتے ہوئے ایک ایسے سماج کی بنیاد رکھیں کے جس میں صنفی تفریق سے لیکر استحصال کی ہر شکل کا خاتمہ کرتے ہوئے تمام انسانوں کو بلاتفریق سہولیات فراہم ہو سکیں۔ یہ سب صرف اور صرف جدید سائنسی سوشلزم کے نظریات پر مبنی ایک مسلسل مستقل مزاج جدوجہد کا تقاضا کرتا ہے، آٹھ مارچ محنت کش خواتین کا عالمی دن یہی پیغام لئے ہمارے سامنے کھڑا ہے کہ ہم آگے بڑھیں، مستقبل ہمیں پکار رہا ہے، انسانیت کی ترقی کا مستقبل، استحصال کے خاتمے کا مستقبل، سوشلسٹ فتح کا مستقبل، اٹھوکہ ہمارے پاس کھونے کو صرف زنجیریں ہیں اور پانے کو ساراجہاں پڑا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں