تحریر: محمد حنیف تبسم سینیر صحافی و کالم نگار
آج کے تیز رفتار ڈیجیٹل دور میں صحافت کا تصور بنیادی اور گہری تبدیلیوں سے گزر رہا ہےہر ہاتھ میں اسمارٹ فون ہر عمر کے شخص کی سوشل میڈیا تک فوری رسائی اور ہر واقعے کی براہِ راست ویڈیو نے اطلاعات کے بہاؤ کو بے مثال حد تک بڑھا دیا ہے مگر اسی کے ساتھ صحافت کے اصل مفہوم کو خطرناک حد تک دھندلا بھی دیا ہے عام رجحان یہ بنتا جا رہا ہے کہ جو کوئی کسی حادثے جھگڑے، تقریب یا واقعے کی ویڈیو بنا کر فیس بک، ٹک ٹاک، یوٹیوب یا واٹس ایپ پر ڈال دے وہ خود کو صحافی سمجھ لیتا ہے اور معاشرہ بھی بہت حد تک اسے صحافت کے دائرے میں شمار کرنے لگتا ہے یہ تصور نہ صرف بنیادی طور پر غلط ہے بلکہ معلومات کی ساکھ اجتماعی شعور اور معاشرتی استحکام کے لیے ایک سنجیدہ خطرہ بنتا جا رہا ہےحقیقت یہ ہے کہ صحافت کبھی بھی آلات سے متعین نہیں ہوئی نہ کیمرہ کسی کو صحافی بناتا ہے نہ مائیک، نہ ڈی ایس ایل آر اور نہ ہی لائٹس اور لائیو اسٹریم کے جدید سیٹ اپ صحافت ہمیشہ ذمہ داری، اصولوں اور پیشہ ورانہ معیار سے پہچانی گئی ہےکیمرہ اور موبائل صرف ذرائع ہیں اصل فرق ان کے پیچھے موجود سوچ، تربیت، اخلاقیات اور ادارتی نظم میں پوشیدہ ہوتا ہے ایک حقیقی صحافی وہ ہوتا ہے جو کسی واقعے کو محض ریکارڈ کرنے پر اکتفا نہیں کرتا بلکہ اس کے پس منظر اور سیاق و سباق کو سمجھتا ہے مختلف ذرائع سے معلومات لے کر حقائق کی تصدیق کرتا ہے اور پھر ان معلومات کو توازن، دیانت اور ذمہ داری کے ساتھ عوام تک پہنچاتا ہے .
ویڈیو بنانا شاید چند لمحوں کا کام ہو مگر صحافت دراصل مسلسل ذمہ داری فکری مشقت اور اخلاقی جواب دہی کا نام ہےدنیا بھر میں صحافت کے کچھ مسلمہ معیارات اور اقدار ایسے ہیں جو اس پیشے کی ریڑھ کی ہڈی سمجھے جاتے ہیں مختلف ممالک اور اداروں کے ضابطۂ اخلاق میں الفاظ کا فرق ہو سکتا ہے لیکن ان کی روح تقریباً ایک ہی ہے سب سے پہلی اور بنیادی قدر سچائی اور درستگی ہے خبر کی جان صرف یہی ہے کہ اسے تحقیق اور تصدیق کے بعد پیش کیا جائے ورنہ وہ خبر نہیں، محض افواہ یا پروپیگنڈا بن جاتی ہے پیشہ ور صحافی کے لیے یہ ممکن نہیں کہ ایک ہی غیر مصدقہ ذریعہ دیکھ کر خبر نشر کر دے وہ ہمیشہ ایک سے زائد ذرائع سے معلومات لے کر انہیں جانچتا اور پرکھتا ہے شک ہو تو انتظار کرتا ہے ضرورت ہو تو مزید تحقیق کرتا ہے اسی طرح غیر جانبداری اور توازن بھی صحافت کے ناگزیر اصول ہیں صحافی کا کام کسی ایک فریق کا وکیل بننا نہیں بلکہ ہر معاملے کے تمام اہم پہلوؤں کو منصفانہ انداز میں پیش کرنا ہےرپورٹ میں مخالف نقطۂ نظر کو جگہ دینا تنقیدی رائے شامل کرنا اور متاثرہ فریقین کا مؤقف لینا غیر جانبداری کا لازمی تقاضا ہےصحافت کا ایک اور بنیادی اصول احتساب اور شفافیت ہے صحافی کا کام صرف دوسروں کا احتساب نہیں، اپنا احتساب بھی ہے اگر خبر میں غلطی ہو جائے تو اسے چھپا دینا پیشہ ورانہ دیانت کے منافی ہے ایک ذمہ دار ادارہ غلطی تسلیم کرتا ہے.
اس کی اصلاح شائع کرتا ہے اور آئندہ کے لیے احتیاط بڑھاتا ہے اسی طرح انسانی وقار اور پرائیویسی کا احترام بھی عالمی صحافتی ضابطوں میں مرکزی حیثیت رکھتا ہے خبر کے نام پر کسی کی عزت نجی زندگی یا دلی دکھ کو سنسنی خیز مواد بنا دینا اخلاقاً نا قابلِ قبول ہے حادثات جرائم اور سانحات کی رپورٹنگ میں متاثرین، بچوں، خواتین اور کمزور طبقات کے وقار اور تحفظ کا خصوصی خیال رکھنا ضروری ہےترقی یافتہ جمہوری ممالک میں یہ معیارات صرف کتابوں تک محدود نہیں رہتے بلکہ مضبوط ادارتی نظام، خود مختار پریس کونسلز فعال میڈیا ریگولیٹری اداروں اور واضح قانونی ڈھانچوں کے ذریعے نافذ اور مانیٹر کیے جاتے ہیں غلط خبر نشر ہو تو اداروں کو نہ صرف معذرت کرنی پڑتی ہے بلکہ بعض صورتوں میں بھاری مالی جرمانے، قانونی کارروائی اور ساکھ کو شدید نقصان برداشت کرنا پڑتا ہےیہی institutional framework مجموعی طور پر صحافت کا معیار نسبتاً بلند رکھتا ہے اگرچہ وہاں بھی غلطی اور کوتاہی سے مکمل مبرّا کوئی نہیںاگر ہم پاکستان اور آزاد جموں و کشمیر کی صحافت کا سنجیدگی سے جائزہ لیں تو صورتحال کچھ تلخ حقیقتوں کے ساتھ ہمارے سامنے آتی ہے یہاں بھی ضابطۂ اخلاق پریس کلبز کے قواعد اور میڈیا کوڈز باضابطہ طور پر موجود ہیں میڈیا اسٹڈیز کے ادارے بھی قائم ہیں لیکن ان سب کے باوجود حقیقی عمل درآمد بتدریج کمزور پڑتا جا رہا ہے ایک وقت تھا کہ صحافت کو باوقار ذمہ دار اور علمی پیشہ سمجھا جاتا تھا خبر کے اخبار میں چھپنے سے پہلے کئی سطحوں پر ایڈیٹنگ، نیوز روم میں مباحثہ قانونی پہلوؤں کی پڑتال اور سخت fact-checking معمول کا حصہ ہوا کرتی تھی آج صورت حال یہ ہے کہ مقابلے کی اندھی دوڑ، ریٹنگ اور کمرشل مفادات نے صحافت کے مزاج کو بدل کر رکھ دیا ہے.
الیکٹرانک میڈیا کے بعد سوشل میڈیا کے سیلاب نے اس رجحان کو مزید تیز کر دیا اب اکثر ادارے اس خوف میں مبتلا رہتے ہیں کہ اگر انہوں نے خبر چند منٹ کی تاخیر سے دی تو سوشل میڈیا پر “شہرت” کسی اور کے حصّے میں چلی جائے گی اس جلد بازی نے صحافت کو سطحی پن، سنسنی خیزی اور غیر ذمہ داری کی طرف دھکیل دیا ہے غیر تربیت یافتہ افراد کی بڑی تعداد اس میدان میں کود پڑی ہے جو نہ صحافت کی باقاعدہ تعلیم رکھتے ہیں نہ رپورٹنگ، تحقیق اور اخلاقیات کی تربیت محض پریس کارڈ، یوٹیوب چینل فیس بک پیج یا کچھ وائرل ویڈیوز کی بنیاد پر لوگ خود کو صحافی ظاہر کرتے ہیں اور بعض اوقات بااثر حلقوں کی مہربانی سے ویسا ہی پروٹوکول بھی حاصل کر لیتے ہیں اس سے پیشے کی مجموعی ساکھ بری طرح متاثر ہوتی ہےکیونکہ جب کوئی غیر ذمہ دار شخص غلط خبر، بے بنیاد الزام یا توہین آمیز مواد شائع کرتا ہے تو عوام کے ذہن میں پورا میڈیا بدنام ہوتا ہےادارتی نظام کی کمزوری بھی زوال کی ایک بنیادی وجہ ہے بہت سے اداروں میں نیوز ایڈیٹر، سب ایڈیٹر اور کاپی ڈیسک کا کردار سکڑ کر تقریباً رسمی رہ گیا ہے خبر کی زبان، قانونی پہلوؤں، توازن فیکٹ چیکنگ اور اخلاقی معیار کا سخت جائزہ لینے کا عمل کمزور ہو چکا ہے نتیجتاً غلط، جانبدار اور یک طرفہ خبریں بآسانی نشر ہو جاتی ہیں اور بعد میں ان کی تردید بھی وہ اثر پیدا نہیں کر پاتی جو پہلی سرخی نے عوام کے ذہنوں پر چھوڑ دیا ہوتا ہے سیاسی اور مالی دباؤ نے صورتحال کو مزید پیچیدہ کر دیا ہے.
سیاسی جماعتیں، حکومتیں اور مختلف کاروباری گروہ اشتہارات، مراعات اور دیگر دباؤ کے ذریعے کئی اداروں کی ادارتی آزادی محدود کر دیتے ہیں یوں کبھی کوئی اہم خبر “ڈاؤن پلے” ہو جاتی ہے کبھی کسی اسکینڈل پر خاموشی چھا جاتی ہے اور کبھی مخصوص بیانیے کو ضرورت سے زیادہ نمایاں کیا جاتا ہےسوشل میڈیا کا کردار دو دھاری تلوار بن چکا ہے ایک طرف اس نے عام شہری کو اظہار کی بے مثال آزادی دی، دوسری طرف غیر مصدقہ، نامکمل اور گمراہ کن معلومات کے سیلاب نے صحافت کے لیے نئے چیلنج پیدا کر دیے اب اکثر لوگ کسی ٹوئٹ، پوسٹ یا وائرل ویڈیو کو حتمی حقیقت سمجھ لیتے ہیں جب کہ اس کے پیچھے نہ کوئی تصدیق موجود ہوتی ہے نہ کسی ادارتی معیار کی پابندی صحافیوں کی مستقل پیشہ ورانہ تربیت، عصری skills جیسے ڈیٹا جرنلزم ڈیجیٹل ویریفیکیشن آن لائن تحقیق اور میڈیا قانون سے آگاہی کے پروگرام محدود ہیں کمزور میڈیا ریگولیشن غیر مؤثر پریس کونسلز اور اداروں کے اندر خود احتسابی کے فقدان نے اس زوال کو مزید گہرا کر دیا ہےاس کے باوجود یہ کہنا درست نہیں کہ صحافت مکمل طور پر ختم ہو چکی ہے حقیقت یہ ہے کہ صحافت ایک نازک عبوری مرحلے سے گزر رہی ہے اگر ریاست، ادارے اور خود صحافتی تنظیمیں چاہیں تو اس بحران کو اصلاح کے موقع میں بھی بدلا جا سکتا ہے .
ضرورت اس بات کی ہے کہ عالمی معیارات کو سنجیدگی سے اپنایا جائے صحافیوں کی باقاعدہ تربیت، لائسنسنگ اور Continuous Professional Development پر غور کیا جائے ادارتی نظام کو مضبوط خود مختار اور جواب دہ بنایا جائے اور سب سے بڑھ کر عوام میں میڈیا لٹریسی پیدا کی جائےتاکہ وہ ہر وائرل مواد کو آنکھ بند کر کے “خبر” نہ مان لیں بلکہ سوال اٹھائیں، ذرائع دیکھیں اور موازنہ کریں یہاں یہ سوال بھی اہم ہے کہ کسی بھی ملک میں صحافت کی اصل اہمیت کیا ہے جدید جمہوری نظریہ صحافت کو ریاست کا “چوتھا ستون” قرار دیتا ہے کیونکہ یہ نہ صرف عوام کو باخبر رکھتی ہے بلکہ رائے عامہ کی تشکیل، شفافیت کے فروغ اور احتساب کے نظام میں براہِ راست شریک ہوتی ہے ایک آزاد ذمہ دار اور مؤثر میڈیا اقتدار میں موجود افراد اداروں اور طاقتور حلقوں پر مسلسل نظر رکھتا ہے بدعنوانی ناانصافی اور اختیارات کے ناجائز استعمال کو بے نقاب کرتا ہے اور ریاستی پالیسیوں، قانون سازی اور حکومتی اقدامات پر عوامی بحث کو ممکن بناتا ہے مضبوط صحافت کے بغیر معاشرے غلط معلومات، سرکاری یا غیر سرکاری پروپیگنڈے اور آمرانہ رجحانات کی طرف پھسل سکتے ہیں، جب کہ مؤثر اور آزاد میڈیا نظام جمہوری اقدار سماجی ہم آہنگی اور قومی ترقی کو سہارا دیتا ہےپیشہ ور صحافی کی سب سے اہم اور بنیادی خصوصیت غیر جانبداری ہے۔
اسے اپنی ذاتی پسند و ناپسند سیاسی وابستگی لسانی یا مذہبی جھکاؤ اور بیرونی دباؤ سے بالاتر ہو کر خبر کو دیکھنا ہوتا ہے حقیقی صحافی کسی خاص گروہ جماعت یا شخصیت کا نمائندہ نہیں بلکہ حقیقت اور عوام کے درمیان ایک پل کی حیثیت رکھتا ہے اس کا فرض ہے کہ حقائق کو اسی صورت میں پیش کرے جس صورت میں وہ موجود ہوں اپنی رائے اور خبر کو الگ الگ رکھے، ہر معاملے کے تمام اہم پہلوؤں اور فریقین کو مناسب نمائندگی دے اور کسی خفیہ ایجنڈے، مالی مفاد یا سیاسی دباؤ کے تحت معلومات کو مسخ نہ ہونے دے یہی غیر جانبداری عوام کے اعتماد کی بنیاد ہے جب قاری ناظر یا سامع کو یقین ہو کہ یہ ادارہ یا صحافی کسی کا آلۂ کار نہیں تو وہ اس کی خبر کو اہمیت اور سنجیدگی سے لیتا ہے اور یہی اعتماد صحافت کا اصل سرمایہ ہےدنیا بھر میں، خصوصاً ترقی پذیر ممالک میں صحافیوں کو حکومتوں، طاقتور اداروں اور بعض اوقات غیر ریاستی عناصر کی جانب سے کئی طرح کے چیلنجز کا سامنا رہتا ہے سنسرشپ اور پابندیاں ایک مستقل مسئلہ ہیں قومی سلامتی مذہب، سائبر کرائم یا “فیک نیوز” کے نام پر بنائے گئے قوانین بعض اوقات تنقیدی رپورٹنگ روکنے کے لیے استعمال ہوتے ہیں جس سے اظہارِ رائے کی آزادی اور صحافت کی خود مختاری متاثر ہوتی ہے .
سیاسی دباؤ بھی کم نہیں صحافیوں اور اداروں پر حکومتی موقف کے حق میں رپورٹنگ کرنے یا کچھ حقائق کو دبانے کے لیے مختلف ذرائع سے اثر انداز ہونے کی کوشش کی جاتی ہے قانونی ہراسانی کی شکل میں ہتکِ عزت کے مقدمات سائبر کرائم قوانین انسدادِ دہشت گردی یا قومی سلامتی کے قوانین کے تحت گرفتاری تفتیش اور طویل عدالتی کارروائیاں صحافیوں کو دباؤ میں رکھنے کا ذریعہ بنتی ہیں جسمانی خطرات اور عدم تحفظ بھی ایک تلخ حقیقت ہیں اغوا، تشدد، دھمکیاں اور بعض صورتوں میں قتل جیسے واقعات بھی سامنے آتے رہتے ہیں، جس سے self‑censorship ایک فطری لیکن افسوس ناک خود دفاعی حکمتِ عملی بن جاتی ہے حکومتیں اور ادارے بعض اوقات اہم معلومات، سرکاری ریکارڈ اور پالیسی دستاویزات تک رسائی کو محدود کرتے ہیں، اور Right to Information جیسے قوانین عملاً مؤثر ثابت نہیں ہو پاتے جس کے نتیجے میں متوازن اور درست رپورٹنگ مزید مشکل ہو جاتی ہےیہ تمام رکاوٹیں نہ صرف صحافیوں کی پیشہ ورانہ ذمہ داریوں کی ادائیگی میں مشکلات پیدا کرتی ہیں بلکہ عوام کے حقِ معلومات، شفافیت اور جمہوری عمل کو بھی براہِ راست متاثر کرتی ہیں ایسے ماحول میں صحافت محض پیشہ نہیں رہتی ایک جدوجہد بن جاتی ہے.
آخر میں بنیادی نکتہ یہی ہے کہ صحافت دراصل ایک امانت ہےایک مقدس ذمہ داری جو معاشرے کو سچائی سے آگاہ کرتی ہےشعور بیدار کرتی ہے اور کمزور و بے بس طبقات کی آواز بن کر طاقتور حلقوں کا احتساب کرتی ہےاسے محض ویڈیو بنانے وائرل ہونے اور فالوورز یا ریٹنگ بڑھانے کا ذریعہ بنا دینا اس کی اصل روح کے ساتھ ناانصافی ہے آج جب معلومات پہلے سے کہیں زیادہ تیزی سے پھیلتی ہیں حقیقی صحافت کی اہمیت پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ گئی ہے ہر موبائل رکھنے والا شخص صحافی نہیں ہوتا اور ہر وائرل ویڈیو خبر نہیں ہوتی ایک صحافی کی پہچان اس کے ہاتھ میں موجود آلے سے نہیں، بلکہ اس کی دیانت، تربیت، اخلاقیات اور سچائی کے ساتھ اس کے پختہ عزم سے ہوتی ہے اس فرق کو برقرار رکھنا صرف صحافت کے وقار کے لیے ہی ضروری نہیں بلکہ ایک باشعور باخبر اور مستحکم معاشرے کی بقا کے لیے بھی ناگزیر ہے اگر ہم نے موبائل کیمرے اور سوشل میڈیا کے شور میں پیشہ ورانہ صحافت کی آواز کھو دی تو حقیقت اور افواہ، تحقیق اور پروپیگنڈے کے درمیان لکیر مستقل طور پر مٹنے کا خطرہ ہے اور جب یہ لکیر مٹ جاتی ہے تو معاشرے کے سامنے سب سے بڑا سوال یہی رہ جاتا ہے کہ وہ سچ کو پہچاننے کے لیے کسے معیار بنائے یہی وہ سوال ہے جس سے بچنے کے لیے صحافت کو اس کے اصل مقام، وقار اور ذمہ داری کے ساتھ دوبارہ جوڑنا وقت کی اہم ترین ضرورت ہے.