تحریر :راجہ عمر فاروق
سوشل میڈیا کا کردار معنی خیز ہوتا جا رہا ہے، سچ کو جھوٹ اور جھوٹ کو سچ کرنے میں اس سوشل میڈیا کا کردار انتہائی شرم ناک رہا ہے، ہوا کے جھونکے کی طرح یہ بات کو اڑا کر رکھا دیتا ہے، اس کے حوالہ سے حکومتی سطح پر کوئی بھی اتھارٹی یا ریگولیشن پالیسی نہیں ہے، حالیہ احتجاج کو ہوا دینے اور ایک معصوم پولیس آفیسر کی شہادت ہمارے لیے لمحہ فکریہ اور سوچنے کی بات ہے کہ ہم کس طرف جا رہے ہیں، اپنی سوچوں کے زاویوں کو درست سمت میں لانے اور ایک معصوم جان کی قربانی کے حوالہ سے سوشل میڈیا کا منفی رویہ اس وقت کیوں قابل ذکر ہے، اگر بروقت اس تمام تر صورتحال کو کنٹرول کر لیا جاتا تو آج حالات معمول کے مطابق ہوتے، زندگی پہلے کی طرح رواں دواں ہوتی، لیکن اس گمراہ کن میڈیا نے عام شہریوں سے لیکر ہر ایک کی آنکھوں میں دھول جھونکی جس سے ایک معصوم جان قربان ہو گئی۔ ہمیں یہ بات کیوں سمجھ نہیں آتی کہ پولیس آفیسر ہو یا کوئی بھی عام شہری ایک جان تو جان ہوتی ہے، اگر ایک چھوٹا سا معصوم بچہ کسی کی اولاد ہے تو پولیس میں ڈیوٹی دینے والے بھی کسی کی اولاد اور بچے ہیں وہ اپنی جان کو جوکھوں میں ڈال کر اس احتجاج کو پرامن طریقہ سے رکھنے کے لیے اپنا کردار ادا کر رہے تھے اور اپنی ڈیوٹی کو سرانجام دے رہے تھے۔ اگر دیکھا جائے تو صورتحال کو کشیدہ کرنے میں ہمارے سیاستدانوں کا کردار بھی معنی خیز ہے ذرائع اس حوالہ سے کہتے ہیں کہ اسلام گڑھ کی سیاسی شخصیت چودھری ظفر انور نے انتظامیہ کو سب اچھا ہے کی رپورٹ دی لیکن اس کے باوجود اسلام گڑھ میں پیدا ہونے والی کشیدگی کو دیکھا جائے تو تحریک انصاف کے مرکزی رہنماء چودھری ظفر انور کا ڈرائیور، گن مین اور دست راست ندیم بوٹا اس مظاہرے میں کس مقصد کے لیے شامل ہوئے تھے اور نیو ٹاؤن سے تحریک انصاف کے لوگوں کو لانے والے کس وجہ سے وہاں موجود تھے۔
سوشل میڈیا والوں نے اپنے بچوں کو محفوظ اور پرامن جگہوں پر رکھا اور عوام کو پولیس سے ٹکراؤ کے لیے آگے کر دیا اگر ایسے لوگوں کا بروقت محاسبہ کر کیا جائے تو حالات قابو میں رکھے جا سکتے ہے یہ عناصر وہ تھے جنہوں نے سوشل میڈیا کے ذریعے ایک مہم چلائی جس میں سب اچھا ہے لیکر ریاست سے ٹکراؤ کی پالیسی کو عوام کے سامنے پیش کیا اور ایسا گمراہ کن پروپیگنڈہ سوشل میڈیا کے ذریعے کیا گیا جس سے حالات ہر گزرتے دن کے ساتھ گھمبیر ہوتے چلے گے، ایک پولیس آفیسر عدنان قریشی کی دوران ڈیوٹی شہادت واقعہ ہو گئی اور اس شہید کی شہادت کے حوالہ سے ابھی تک کوئی بھی انکوائری کمیشن یا کمیٹی تشکیل نہیں دی گئی اگر عدنان قریشی شہید کی شہادت پولیس کی فائرنگ یا کسی شرپسند عناصر کی گولی سے ہوئی ہے تو اس کی اعلیٰ سطحی انکوائری ہونی چاہئے اور اسکے محرکات سمیت تمام کرداروں کو بے نقاب ہونا چاہیے جنہوں نے سوشل میڈیا پر پوسٹ لگائی کہ پولیس کی طرح سے گولی لگی انکوائری میں ان کو شامل کیا جائے کہ ایک پولیس آفیسر کسی کی گولی سے شہید ہوا اس کے ساتھ ساتھ سوشل میڈیا پر منفی اور معنی خیز پروپیگنڈا کرنے والے عناصر کو بھئ سامنے لاکر قانون کے مطابق سزا دینی چاہیے تاکہ ان شرپسند عناصر کی سرکوبی ہو سکے۔ اس ہڑتال اور احتجاج کی وجہ سے پورا آزاد خطہ مفلوج ہوکر رہ چکا کے بین الاقوامی سطح پر کشمیر کاز کو بے تحاشہ نقصان اٹھانا پڑا ہے اس احتجاج کا بنیادی مقصد کیا ہے اس کے حوالہ سے ہر ذی شعور فرد کو پتہ چلا چکا ہے کہ یہ لوگ جو اپنے مفادات کے ریاست اور عوام کے مابین ایک واضح لیکر کھینچنا چاہتے ہیں انکا بنیادی مقصد ہے، اس ہڑتال سے ابھی تک آزاد کشمیر کے حالات قابو میں نہیں آسکے.
وزیراعظم آزاد کشمیر چودھری انوار الحق سمیت پاکستان کا حکمران طبقہ بھی اس ہڑتال کی وجہ سے پریشان ہو چکا ہے کہ اس احتجاج کو کس طرح روکا جا سکے جبکہ دوسری طرف سب اچھا ہے کہ رپورٹ دینے والوں نے عوام اور پولیس کو ایک دوسرے کے سامنے لاکر کھڑا کر دیا ہے جس کی وجہ سے ایک معصوم پولیس آفیسر کی شہادت واقعہ ہو گئی پولیس کو اس تمام تر سیاسی کشیدگی کو دور کرنے کے لیے کسی بھی ایک پارٹی کا کردار ادا نہیں کرنا چاہیے بلکہ حالات کہ مجموعی صورتحال کو دیکھ کر عوام کو پرامن رکھنے کے لیے اپنا کردار ادا کرنا ہوگا اگر اس نازک صورتحال میں پولیس نے لاٹھی یا گولی کا استعمال کیا تو ایک پولیس آفیسر کی شہادت کے بعد کسی دوسرے کی جان بھی قربان ہو سکتی ہے یہ بات ہر فریقین کو یاد رکھنی چاہیے کہ ایک جان بہت قیمتی ہوتی کسی بھی ماں سے اسکی اولاد یا کسی بیوی سے اسکا شوہر یا کسی بھی بچے سے اسکا باپ نہیں چھیننا چاہیے بلکہ ان حالات کو قابو سے باہر ہونے کے لیے انتظامیہ کو موثر اور دیرپا حکمت عملی کے ساتھ ساتھ عوام کو ٹھوس اور مفید مذاکرات کی طرف لانے کے لیے اپنا کردار ادا کرنا چاہیے، عوام کو سوشل میڈیا کے ذریعے جن لوگوں نے گمراہ کیا اور اپنے مذموم مقاصد کے لیے عوام کا کندھا استعمال کیا ہے ایسے لوگوں کو عوام کے سامنا لانا چاہیے جنہوں نے سوشل میڈیا کے ذریعے عوام کو اشتعال انگیزی کی طرف گامزن کیا اور اس احتجاج کو ہوا دی کیونکہ اس وقت سب سے زیادہ نقصان ان نام نہاد سوشل میڈیا سے ریاست، حکومت، پولیس اور عوام کو نقصان پہنچایا ہے.
ان لوگوں نے اس خطے کو امن کو تہہ و بالا کرنے کے لیے اپنے مذموم مقاصد حاصل کرنے کی کوشش کی ہے حالانکہ آزاد کشمیر کے عوام اور پولیس کے مابین ایک خاص رشتہ رہا ہے بلاشبہ آزاد کشمیر پاکستان کے تمام صوبوں کی نسبت پرامن اور رواداری کا مظاہرہ کرنے والا خطہ ہے اس خطے کے عوام کو ریاست اور ریاستی اداروں کے مابین کھڑا کرنے والے اس وقت کسی بھی قسم کی رعایت کے مستحق نہیں ہیں ان لوگوں کو ایک صاف ص شفاف تفتیش کے ذریعے قانون کے کٹہرے میں کھڑا کرنا اور سوشل میڈیا کے ذریعے عوام کو جس طرح گمراہ کیا گیا اور عوام کو اپنے جھوٹے بیانات کے ذریعے ورغلایا گیا ان لوگوں سے پوچھ گچھ ہر صورت میں کرنا چاہیے۔ حالانکہ دوسری اطراف ریاست اور ریاستی اداروں کی جائے تو ریاست سمیت ریاستی اداروں پولیس اور قانون نافذ کرنے والوں نے اپنے لوگوں کو پرامن رکھنے اور لاٹھی گولی سے دور کرنے میں اپنا ہر ممکن کردار ادا کیا اور یہ کوشش رہی کہ کسی نہ کسی طریقہ سےخطے کا امن بحال رہے اور یہی وجہ ہے کہ اس تمام تر صورتحال کو کنٹرول کرتے ہوئے ایک معصوم پولیس آفیسر کی شہادت واقعہ ہوئی۔