قومی سلامتی کا نیا افق: کمانڈر انچیف دفاعی عساکر اور ریاستی طاقت کا مربوط تصور

176

تحریر: سردار عبد الخالق وصی
پاکستان اس وقت اپنی قومی تاریخ کے ایک ایسے مرحلے میں داخل ہو چکا ہے جہاں سلامتی کا مفہوم محض عسکری طاقت تک محدود نہیں رہا بلکہ ایک ہمہ جہت ریاستی حکمتِ عملی کی صورت اختیار کر گیا ہے۔ جدید دنیا میں قومی طاقت کا پیمانہ اب صرف فوجی صلاحیت نہیں بلکہ معاشی استحکام، سیاسی بصیرت، سفارتی مہارت، ٹیکنالوجیکل ترقی اور سماجی ہم آہنگی کے امتزاج سے طے ہوتا ہے۔ یہی وہ فکری تبدیلی ہے جس نے ہارڈ پاور اور سافٹ پاور کے باہمی انضمام کو قومی سلامتی کا بنیادی اصول بنا دیا ہے۔علاقائی سطح پر تیزی سے بدلتی جیوپولیٹیکل صف بندیاں اور ہائبرڈ وارفیئر کے بڑھتے رجحانات نے سلامتی کے روایتی تصورات کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔ سائبر حملے، معلوماتی جنگ اور معاشی دباؤ اب جدید تنازعات کے نمایاں پہلو ہیں۔ پاکستان کو مغربی سرحد پر عدم استحکام اور مشرق میں اسٹریٹجک مسابقت جیسے چیلنجز کا سامنا ہے، جبکہ تحریک طالبان پاکستان اور بلوچستان لبریشن آرمی جیسے گروہ غیر متناسب حربوں کے ذریعے داخلی سلامتی کو متاثر کرنے کی کوشش کرتے رہے ہیں۔ یہ صورتحال اس امر کو واضح کرتی ہے کہ داخلی استحکام کے بغیر خارجی سلامتی ممکن نہیں۔گزشتہ برسوں میں دہشت گردی کی نئی لہر اور اہم تنصیبات کو نشانہ بنانے کی کوششوں نے اس بات کی ضرورت کو اجاگر کیا کہ ریاستی ردعمل بھی ہمہ جہت ہو۔ انٹیلی جنس تعاون، سفارتی سرگرمی اور سیکیورٹی آپریشنز کا بیک وقت جاری رہنا اسی سوچ کی عکاسی کرتا ہے کہ انسداد دہشت گردی اب صرف فوجی کارروائی نہیں بلکہ ایک جامع ریاستی حکمت عملی ہے۔.

اسی تناظر میں چیف آف آرمی سٹاف سید عاصم منیر کی قیادت میں دفاعی ڈھانچے کو زیادہ مربوط بنانے کی کوششیں اسٹریٹجک ارتقا کا اظہار ہیں۔ سی ڈی ایف طرزِ فکر دراصل فیصلہ سازی کو تیز، مشترکہ آپریشنل تیاری کو مؤثر اور ملٹی ڈومین خطرات کے جواب کو یکجا بنانے کی سمت ایک اہم قدم ہے۔ یہ تبدیلی علامتی نہیں بلکہ جدید جنگی ماحول کے تقاضوں سے ہم آہنگ ایک عملی پیش رفت ہے۔موجودہ دور میں جنگ کا میدان صرف سرحدوں تک محدود نہیں رہا بلکہ معیشت، معلومات اور ٹیکنالوجی تک پھیل چکا ہے۔ اسی لیے سائبر سیکیورٹی، مصنوعی ذہانت اور بیانیہ سازی کو قومی طاقت کے لازمی ستون تصور کیا جا رہا ہے۔ آپریشنل فریم ورکس کا مقصد بھی اب صرف دہشت گردی کا خاتمہ نہیں بلکہ گورننس کی بہتری اور عوامی اعتماد کی بحالی ہے۔انتہا پسندی کے خلاف جنگ میں معلوماتی میدان کی اہمیت بھی غیر معمولی ہے۔ شدت پسند عناصر ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کے ذریعے بیانیہ تشکیل دیتے ہیں، جس کا مؤثر جواب ایک جامع قومی بیانیہ ہی ہو سکتا ہے جو آئینی اقدار اور مشترکہ شناخت کو مضبوط کرے۔سیاسی سطح پر ریاستی قیادت میں ہم آہنگی نے پالیسی سازی میں تسلسل پیدا کیا ہے۔ وزیر اعظم شہباز شریف اور نایب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر اسحاق ڈار کی قیادت میں حکومتی و سفارتی اقدامات اور عسکری قیادت کے ساتھ مربوط رابطہ ایک متوازن قومی حکمت عملی کی علامت ہے۔ اسی طرح نواز شریف کا تجربہ سیاسی استحکام اور تسلسل کی صورت میں ایک اہم عنصر فراہم کرتا ہے۔

معاشی سلامتی اب قومی سلامتی کا مرکزی ستون بن چکی ہے۔ چین پاکستان اقتصادی راہداری جیسے منصوبے اس تصور کو تقویت دیتے ہیں کہ معاشی ترقی اور سلامتی لازم و ملزوم ہیں۔ سرمایہ کاری کا تحفظ اور علاقائی روابط کا فروغ دراصل قومی طاقت کی نئی جہتیں ہیں۔
نیشنل سیکیورٹی پالیسی کے جیو اکنامک وژن نے اس سوچ کو مزید واضح کیا ہے کہ فوجی طاقت کے ساتھ معاشی اور انسانی ترقی کا توازن ہی پائیدار استحکام کی بنیاد بنتا ہے۔ یہی وہ نقطہ نظر ہے جو پاکستان کو ایک زیادہ مربوط اور مستقبل شناس ریاست کی سمت لے جا رہا ہے۔
آخرکار کسی بھی قومی سلامتی کی اصل قوت اس کے داخلی استحکام میں مضمر ہوتی ہے۔ سیاسی ہم آہنگی، جمہوری تسلسل، سماجی شمولیت اور عوامی اعتماد وہ عوامل ہیں جو ریاستی طاقت کو حقیقی معنوں میں بڑھاتے ہیں۔ آج پاکستان میں سول و عسکری قیادت کے درمیان بڑھتی ہم آہنگی ایک بالغ اسٹریٹجک کلچر کی علامت ہے جہاں سلامتی کو مشترکہ قومی ذمہ داری کے طور پر دیکھا جا رہا ہےاگرچہ مستقبل کے چیلنجز اپنی جگہ موجود ہیں، مگر موجودہ سمت ایک محتاط امید کو جنم دیتی ہے۔ مربوط قیادت، مضبوط ادارے اور معاشی بحالی کا عزم پاکستان کو اس قابل بنا سکتا ہے کہ وہ نہ صرف خطرات کا مقابلہ کرے بلکہ انہیں مواقع میں تبدیل کرتے ہوئے ایک محفوظ، مستحکم اور باوقار مستقبل کی جانب پیش قدمی کرے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں