لال قلعہ مظفرآباد

156

تحقیق وتحریر: ملک افتخار احمد
یوں تو مظفرآباد سمیت گرد ونواع میں متعدد تاریخی عمارات جن میں قلعے،پل،ڈاک بنگلے،منادر ،گردوارہ اور دیگر آثار موجود ہیں جن میں سے اکثریت محکمہ آثار قدیمہ کی عدم توجہ کا شکار ہو کر منہدم ہو چکے ہیں یا ہو رہےہیں اور انہی آثار قدیمہ میں سے اکثریت عمارتیں متعدد محکمہ جات کے زیر قبضہ ہیں ۔اِنہی قدیم آثار میں سے ایک “لال قلعہ مظفرآباد” بھی ہےجو پلیٹ میں واقع ہے ۔ قلعہ مظفرآباد کو عام طور پر لال قلعہ،چک قلعہ اور مقامی پہاڑی زبان میں رتہ قلعہ یا قلعہ پلیٹ کے نام سے جانا جاتا ہے۔
ڈاکٹر صابر آفاقی مظفرآباد کے معروف محقق،دانش ور،مورخ اور صحافی علامہ غلام حسن شاہ کاظمی مرحوم کے حوالہ سے لکھتے ہیں کہ یہ قلعہ کشمیر میں چک عہد (1555ءتا1586ء)میں یعنی 1049میں تعمیر ہوا جب کہ محمد پرویز سلطان چک اپنے مضمون
“Red Fort
Muzaffarabad,Ancient History and Background”
میں لکھتے ہیں کہ قلعہ مظفرآباد کی تعمیر غازی خان چک کے عہد 1559ءمیں شروع ہوئی اور اس کی تکمیل سلطان یوسف شاہ چک کے عہد میں ہوئی۔آگے مزید لکھتے ہیں:
“Main objective of the consturction the red fort was to serve as a defensive post to encouter only attack by the mughal army. The architecture of the fort shows that great experts in design and structure participated in its construction by the using of complete natural resource,such as rounded river stones,rubble stones and red brick masonry lime and clay as binding materials where used during the different stages of its construction.”

ڈاکٹر صابر آفاقی اپنی کتاب “مظفرآباد” میں لکھتے ہیں کہ
قلعہ کی تعمیر میں بلند پایا کاریگروں اور فن تعمیر کے ماہروں نےحصہ لیا ہے۔یہ قلعہ تین اطراف سے دریاے نیلم کی لپیٹ میں ہے جب کہ چوتھی سمت خشکی کا قطعہ ہے،شمالی حصہ میں درجہ بندی تھی ،آخری حصہ میں سیڑیاں اور کناروں پر نشست گائیں تھیں،مشرقی حصہ دریا کے کنارے تک پختہ تھا۔ملاقاتیوں کے لیے قلعہ کے باہر سراۓ تعمیر تھی۔قلعہ کی تعمیر کے وقت اس بات کا بہ خوبی انتظام کیا گیا تھا کہ دریا کی غضب ناک موجیں اسے نقصان نا پہنچا سکیں لیکن تیز طغیانیوں کے باعث اس کا شمالی حصہ دریا برد ہو چُکا ہے۔

مغلیہ(1586ءتا 1752ء) اور افغان عہد (1752ءتا1819ء) میں قلعہ مظفرآباد ویران رہا البتہ سکھ گورنر مہارجا شیر سنگھ،بمباراجگان اور ڈوگرا عہد میں اس کی مرمت و تزائین و آرائش ہوتی رہی یہی وجہ ہے کہ یہ قلعہ کشمیری فن تعمیر کا ایک نہایت ہی شان دار نمونہ ہے ۔ قلعہ کے ارد گرد اونچی فصیل ہے،دریائی ندی نالوں کے پتھروں سے دیواریں تعمیر کی گئی ہیں جن کی چنائی میں سرخ مٹی کا استعمال کیا گیاہے۔

“گزیٹیر آف کشمیر” اور “گزیٹیر آف کشمیر اینڈ لداخ” میں قلعہ مظفرآباد کے بارے قدرے تفصیل سے بیان کرتے ہوۓ انگریز مصنف لکھتے ہیں کہ:
“To the north of the town the ground rises hiding the fort,which is situated at the north-west and of the grassy plain embraced in the bend on the river. The fort is commandand from this rise at a distance of a some thing less then half a mile. The ridge is coverd with trees and surb jungle,and is partly occopied by gardens and partly by old grave yards,from the ridge the plain sink,down towards the fort,a glacis reversed its superior slop away from the wall,the fort situated at the edga of the river,the walls over hunging the banks, it is an oblong measonry structure lying north and east, of considerable dimensions measuring between 300 and 400 yards in length by about 150 breadth and having bastions at intervals along the walls,the main entrance is at the south-east corner.The whole building is kept in excellent repair,and is said to be well supplied with artillery stories and provisions,behind the fort,under the south wall is the contanment,a larg square walled enclosure shaded by some trees, it is usually accupied by two regiments. beside the slope to the south,which has been mentioned as being of superior elevation,the fort is command by the plateau at a distance of about half a mile to the east, and the right bank of the Kashan Ganga being the higher it is like wise commanded from the north and west at short ranges of about 500 yards. On the north east side the fort on the right bank of the river is a large clumb of trees which shades the shrine of pir Habiut.”

قلعہ مظفرآباد جو صدیوں سے اپنے سینے میں تاریخ سموۓ ویرانی کا نوحہ پیش کرتا دریاے نیلم کے کنارے استادہ ہے ۔قلعے کا رُخ شوائی نالہ کی جانب ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ شہید گلی سے ممکنہ حملوں کو روکنے کے لیے تعمیر کیا گیا تھا ۔ 1947ء کے بعد حکومت آزاد جموں و کشمیر کےمحکمہ سیاحت و آثار قدیمہ نے اس کی دیکھ بھال شروع کی اور سراۓ والی جگہ پر ایک گیسٹ ہاؤس اور ایک چھوٹا سا عجائب گھر بھی بنایا تھا۔
عجائب گھر کا تذکرہ کرتے ہوۓ پروفیسر ریٹائرڈ راجا مشتاق احمد خان لکھتے ہیں کہ :”مظفرآباد دومیل کے نزدیک ایک مکان کی تعمیر کے دوران بنیادوں کی کھدائی پر سکوں کی دریافت ہوئی۔ان سکوں کی تعداد قلیل تھی،جنہیں مظفرآباد قلعہ کے عجائب خانہ میں رکھا گیا۔ جامع آزاد جموں و کشمیر کے زیر اہتمام منعقدہ شاہ ہمدان کانفرنس کے دوران جب کشمیری نژاد ماہر آثار قدیمہ پروفیسر احمد حسن دانی(مرحوم)مظفرآباد تشریف لائے تو انہوں نے عجائب گھر کا دورہ کیا ان سکوں کے بارے میں راقم (پروفیسر راجا مشتاق احمد خان) کے استفسار پر انہوں نے بتایا کہ یہ گندھارہ کے دوسرے باختری حکم ران AZES=II کے عہد سے متعلق ہیں۔ یہ نادر سکے عجائب گھر کے متعلقین کی غفلت سے چوری ہو گے اور پھر ان کا کوئی سوراخ نہ مل سکا۔”

لال قلعہ مظفرآباد جسے موسمی اثرات زلزلے،سیلاب،بارشوں اورحکومتی عدم توجہ بالخصوص محکمہ سیاحت و نام کے آثار قدیمہ نے ناقابل تلافی نقصان پہنچایا ہے۔2015ء میں حکومت آزاد جموں و کشمیر نے دریا کی سمت سڑک(واک وے)بنا دی ہے جس سے اب قلعہ دریا برد ہونے سے بچ جائے گا اور اب تقریباً دو اڑھائی برس سے قلعہ کی تزائین و آرائشں کا کام بھی حکومت آزاد جموں و کشمیر ایک کمپنی سے کروا رہی ہے جو تاحال جاری ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں