محترمہ شنیلہ عمار‘مقصد ِ حیات اور علم کی دُنیا!

248

تحریر: مریم ناز عباسی
سوشل میڈیا پر محترمہ شنیلہ عمار کا عابد ضمیر ہاشمی کی معروف کتاب مقصد ِحیات پر ویڈیو تبصرہ سننے کا موقع ملا۔ یوں تو اس کتاب نے شہرت کی بلندیوں کو چھوا ہے بہت ہی کم کتب کو یہ اعزاز حاصل ہوتا ہے۔لیکن شنیلہ عمار صاحبہ نے جس انفرادیت سے تبصرہ کیا ہے‘اس سے اس کتاب کو مزید پذیرائی ملی ہے۔ اس کے بعد میڈم کے سوشل میڈیا پیج پر دیکھا تو تقریباً ہر ہفتے وہ ایک کتاب پر اپنا تبصرہ فرماتی ہیں۔ یہ معمولی بات نہیں۔ یہ کتاب اور اہلِ کتاب کی حوصلہ افزائی ہے جو کہ کتاب کے ساتھ نسلِ نو کا کتاب سے ساتھ مضبوط تعلق قائم کرنے کی رہنمائی ہے۔ایسے افراد اب کم ہی ہیں جو کتاب کی حوصلہ افزائی کریں‘ ہم اکثر کسی کی محنت کم، اسے غلطیاں نکالنے کی عادی ہو چکے ہیں‘ تب ہی ہمارا کتاب سے رشتہ ٹوٹتا جا رہا ہے۔مصنفین دلبراشتہ ہوتے جا رہے ہیں۔ شنیلہ عمار کا کتب سے لگاؤ دیکھ کر جب ان کا تعارف معلوم کیا تو پتہ چلا کہ یہ علمی گھرانے کی چشم و چراغ ہیں۔

شنیلہ عمار عصرِ حاضر کی ایک ابھرتی ہوئی لکھاری‘ اینکر پرسن‘ تبصرہ نگار اور براڈکاسٹر ہیں‘ جو ادب‘معاشرت اور سماجی شعور سے گہرا شغف رکھتی ہیں۔ خاندانی پس منظر: وہ معروف کالم نگار اور تجزیہ کار عمار مسعود کی اہلیہ اور اردو کے نامور مزاحیہ شاعر انور مسعود کی بہو ہیں۔ ایک ایسے علمی و ادبی ماحول میں پروان چڑھی ہیں جہاں فکر، تخلیق اور مطالعے کی روایت مضبوط بنیادوں پر قائم ہے۔ یہ ادبی فضا ان کی فکری تربیت اور تخلیقی شعور کی تشکیل میں نمایاں کردار ادا کرتی ہے۔پیشہ ورانہ زندگی: وہ ایک معروف کالم نگار ہیں جن کے کالم نوائے وقت‘م سب اور The Thursday Times جیسے پلیٹ فارمز پر شائع ہوتے ہیں۔شنیلہ عمار کی تحریروں میں سماجی شعور‘ گھریلو اقدار‘خاندانی نظام اور عصری معاشرتی مسائل کی گہری اور حساس عکاسی ملتی ہے۔ وہ روزمرہ زندگی کے معمولی دکھائی دینے والے پہلوؤں کو فکری گہرائی کے ساتھ پیش کرتی ہیں اور قاری کو سوچنے پر آمادہ کرتی ہیں۔ ان کا اسلوبِ بیان سادہ، رواں اور پُراثر ہے‘جس میں تصنع کے بجائے سچائی اور احساس کی حرارت پائی جاتی ہے۔

میڈیا وابستگی: انہوں نے ڈان نیوز، ایکسپریس نیوز اور آج ٹی وی جیسے بڑے ٹی وی چینلز میں بطور کرنٹ افیئرز پروڈیوسر کام کیا ہے۔بطور اینکر پرسن اور براڈکاسٹر ان کی گفتگو میں شائستگی، توازن اور فکری سنجیگی نمایاں ہے۔ وہ موضوع کو واضح انداز میں پیش کرنے کی صلاحیت رکھتی ہیں اور اپنی بات دلیل اور شعور کے ساتھ آگے بڑھاتی ہیں۔ یہی اوصاف ان کی تحریروں میں بھی جھلکتے ہیں‘ جس کی بدولت وہ قاری کے دل و دماغ پر دیرپا اثر چھوڑتی ہیں۔سرگرمیاں: وہ سوشل میڈیا اور ٹی وی پروگراموں میں سیاسی اور حالاتِ حاضرہ کے موضوعات پر بطور تجزیہ کار حصہ لیتی ہیں۔شنیلہ عمار کا شمار ان نئی آوازوں میں کیا جا سکتا ہے جو روایت سے جڑی رہتے ہوئے جدید حسیت اور سماجی آگہی کو فروغ دے رہی ہیں۔ ان کی ادبی کاوشیں اس امر کی غماز ہیں کہ وہ مستقبل میں ادب اور ابلاغ دونوں میدانوں میں ایک مؤثر اور معتبر شناخت قائم کرنے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔سماجی خدمات: وہ ”سچ فاؤنڈیشن“کی ڈائریکٹر کے طور پر بھی خدمات انجام دے رہی ہیں۔

ان کے کتب پر تبصرے کتب کی افادیت کو فروغ دینا ہے کتاب کوئی معمولی کام نہیں۔ایک وقت تھا جب کتاب صرف علم کا ذریعہ نہیں بلکہ تہذیب کا استعارہ سمجھی جاتی تھی۔ گھروں میں الماریاں کتابوں سے سجی ہوتیں‘لائبریریاں آباد رہتیں اور مطالعہ روزمرہ زندگی کا حصہ ہوتا۔ آج منظرنامہ بدل چکا ہے۔ اسمارٹ فون کی اسکرین نے کتاب کے اوراق کی جگہ لے لی ہے اور نسلِ نو تیزی سے مطالعے کی عادت سے دور ہوتی جا رہی ہے۔یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ ٹیکنالوجی نے جہاں سہولتیں پیدا کیں وہیں توجہ کی یکسوئی چھین لی۔ سوشل میڈیا کی برق رفتاری نے نوجوان ذہن کو مختصر اور فوری مواد کا عادی بنا دیا ہے۔ گہرائی، تحقیق اور تفکر جیسے اوصاف بتدریج کمزور پڑتے جا رہے ہیں۔ ایک مختصر ویڈیو یا چند سطری پوسٹ وہ کام نہیں کر سکتی جو ایک معیاری کتاب برسوں تک کرتی ہے—یعنی سوچ کو جلا بخشنا اور شخصیت کو نکھارنا۔

ہماری ادبی روایت گواہ ہے کہ قوموں کی فکری تعمیر کتاب ہی کے ذریعے ہوتی ہے۔ علامہ اقبالؒ نے نوجوانوں کو شاہین سے تعبیر کرتے ہوئے بلند پروازی کا درس دیا، جبکہ مولانا ابوالکلام آزاد نے علم کو آزادی کی بنیاد قرار دیا۔ ان بزرگ ہستیوں کی فکر تک رسائی بھی ہمیں کتابوں ہی کے وسیلے سے ملتی ہے۔ اگر نئی نسل کتاب سے ناتا توڑ لے گی تو اپنی فکری جڑوں سے بھی کٹ جائے گی۔تعلیمی نظام بھی اس زوال کا ایک سبب ہے۔ نصابی کتب تک محدود تعلیم، امتحان میں نمبر لینے کی دوڑ اور تخلیقی مطالعے کی کمی نے طلبہ کو کتاب سے محبت سکھانے کے بجائے اسے بوجھ بنا دیا ہے۔ جب مطالعہ صرف امتحان تک محدود ہو جائے تو اس کی لذت اور افادیت دونوں ماند پڑ جاتی ہیں۔علم کی دنیا میں کتاب ایک روشن چراغ کی مانند ہے جو اندھیروں میں راستہ دکھاتی ہے‘ اور مصنف وہ محنتی مسافر ہے جو اپنی سوچ‘ مشاہدے اور تجربے کو لفظوں کی صورت ہمارے سامنے پیش کرتا ہے۔ کتاب محض کاغذ کے چند اوراق کا نام نہیں بلکہ یہ فکر و شعور‘تہذیب و ثقافت اور انسان کے باطن کی عکاس ہوتی ہے۔

ہر مصنف اپنی تحریر میں اپنی روح کا عکس شامل کرتا ہے۔ وہ راتوں کی نیند قربان کر کے‘ تحقیق اور غور و فکر کے مراحل سے گزر کر ایک ایسی تخلیق پیش کرتا ہے جو قاری کے دل و دماغ پر اثر انداز ہو۔ جب ہم کسی کتاب کو سراہتے ہیں تو دراصل ہم اس محنت، لگن اور خلوص کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہیں جو اس کے پس منظر میں کارفرما ہوتا ہے۔بدقسمتی سے ہمارے معاشرے میں مطالعے کا رجحان کم ہوتا جا رہا ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم نہ صرف کتابیں خریدیں اور پڑھیں بلکہ مصنفین کی حوصلہ افزائی بھی کریں۔ ایک تعریفی جملہ، ایک مثبت تبصرہ یا کتاب کی سفارش بھی مصنف کے لیے نئی توانائی کا باعث بنتی ہے۔ جب ادیب اور قلمکار کو یہ احساس ہو کہ اس کی محنت کو قدر کی نگاہ سے دیکھا جا رہا ہے تو وہ مزید بہتر اور معیاری تخلیقات پیش کرنے کے لیے پُرعزم ہوتا ہے۔
کتاب انسان کی بہترین دوست ہے اور مصنف معاشرے کا محسن۔ ہمیں چاہیے کہ ہم علمی اور ادبی سرمائے کی قدر کریں، نئی کتابوں کو خوش آمدید کہیں اور اپنے لکھنے والوں کی دل کھول کر حوصلہ افزائی کریں۔ یہی رویہ ایک باشعور، مہذب اور ترقی یافتہ معاشرے کی بنیاد رکھتا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں