معاشرے کی تعمیر میں عورت کا کردار

245

تحریر: اویس مغل
کسی بھی معاشرے کی ترقی اور استحکام کا دارومدار اس کی بنیادوں پر ہوتا ہے، اور ان بنیادوں میں سب سے مضبوط ستون عورت ہے۔ اگر عورت کو معاشرے کی معمار کہا جائے تو بے جا نہ ہوگا، کیونکہ وہ نسلوں کی تربیت کرتی ہے، اقدار منتقل کرتی ہے اور اخلاقی ڈھانچے کو مضبوط بناتی ہے۔

عورت سب سے پہلے ماں کے روپ میں معاشرے کی تعمیر کا آغاز کرتی ہے۔ ایک بچہ جو کچھ سیکھتا ہے، اس کی پہلی درسگاہ ماں کی گود ہوتی ہے۔ وہی اسے سچ اور جھوٹ کا فرق سکھاتی ہے، احترام، برداشت اور محبت کا سبق دیتی ہے۔ ایک باکردار ماں دراصل ایک باکردار نسل کی بنیاد رکھتی ہے۔ یوں کہا جا سکتا ہے کہ ایک اچھی ماں پورے معاشرے کی اصلاح کا ذریعہ بنتی ہے۔

بیٹی کی صورت میں عورت گھر کی رونق اور والدین کی امید ہوتی ہے۔ وہ تعلیم حاصل کر کے نہ صرف اپنی ذات کو سنوارتی ہے بلکہ خاندان کی سوچ کو بھی وسعت دیتی ہے۔ آج کی تعلیم یافتہ بیٹی کل کی باشعور ماں اور ذمہ دار شہری بنتی ہے، جو ملک کی ترقی میں اپنا مثبت کردار ادا کرتی ہے۔

بطورِ بیوی عورت گھر کے نظام کو سنبھالتی ہے۔ وہ شوہر کی رفیقِ حیات، مشیر اور حوصلہ افزا ساتھی ہوتی ہے۔ معاشی مسائل ہوں یا گھریلو چیلنجز، عورت صبر اور حکمت کے ساتھ معاملات کو سنبھالتی ہے۔ ایک پُرامن اور متوازن گھر ہی ایک صحت مند معاشرے کی بنیاد ہوتا ہے، اور اس توازن میں عورت کا کردار مرکزی حیثیت رکھتا ہے۔

آج کی عورت گھر کی چار دیواری تک محدود نہیں رہی۔ وہ تعلیم، طب، صحافت، سیاست، کاروبار اور دیگر شعبہ جات میں نمایاں خدمات انجام دے رہی ہے۔ وہ ڈاکٹر بن کر جانیں بچا رہی ہے، استاد بن کر علم بانٹ رہی ہے، افسر بن کر ادارے چلا رہی ہے اور سیاستدان بن کر قومی فیصلوں میں حصہ لے رہی ہے۔ اس کی صلاحیتوں کا اعتراف کیے بغیر معاشرے کی مکمل ترقی ممکن نہیں۔

تاہم، اس سب کے باوجود عورت کو اب بھی کئی سماجی رکاوٹوں کا سامنا ہے۔ اسے اپنی صلاحیتیں منوانے کے لیے مرد کے مقابلے میں زیادہ محنت کرنا پڑتی ہے۔ بعض اوقات اس کی رائے کو نظر انداز کیا جاتا ہے یا اس کی کامیابی کو معمولی سمجھ لیا جاتا ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم عورت کو محض ہمدردی کا نہیں بلکہ برابری اور احترام کا حق دیں۔

ایک مضبوط معاشرہ وہی ہوتا ہے جہاں عورت محفوظ، باعزت اور بااختیار ہو۔ جب عورت کو تعلیم، روزگار اور فیصلہ سازی میں مساوی مواقع ملتے ہیں تو پورا معاشرہ ترقی کی راہ پر گامزن ہوتا ہے۔ اگر ہم واقعی ایک مہذب اور ترقی یافتہ قوم بننا چاہتے ہیں تو ہمیں عورت کو اس کا جائز مقام دینا ہوگا۔

آخر میں یہی کہا جا سکتا ہے کہعورت صرف گھر کی زینت نہیں، بلکہ معاشرے کی معمار ہے۔اس کی عزت، تعلیم اور خودمختاری دراصل ہمارے روشن مستقبل کی ضمانت ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں