تحریر: سردار عبدالخالق وصی
میرپور کے عوام نے منگلا ڈیم کی تعمیر کے لیے قربانیوں کی ایک ایسی لازوال تاریخ رقم کی جس کی مثال کم ہی ملتی ہے۔ انہوں نے نہ صرف اپنی سونے سے زیادہ قیمتی زرعی زمینیں وطنِ عزیز کی ترقی کی خاطر قربان کیں بلکہ اپنے آباواجداد کی قبروں تک کو اس عظیم منصوبے کی نذر کر دیا۔ انہی قربانیوں کے نتیجے میں پاکستان کو بجلی، آبپاشی اور توانائی کے بے پناہ وسائل میسر آئے، جنہوں نے قومی معیشت کو استحکام بخشا۔ بعد ازاں جب منگلا ڈیم ریزنگ پراجیکٹ کے تحت ڈیم کی سطح مزید بلند کی گئی تو ایک بار پھر میرپور کے عوام کو مشکلات اور نقل مکانی کا سامنا کرنا پڑا۔ اسی تناظر میں رابطہ کاری کے مسائل کے حل کے لیے رٹھوعہ ہریام پل کا تصور پیش کیا گیا، جو اُس وقت کے وزیراعظم آزاد جموں و کشمیر سردار سکندر حیات خان نے واپڈا کے سامنے رکھا، تاکہ متاثرہ علاقوں کے درمیان دوبارہ ربط قائم کیا جا سکے اور عوام کو درپیش سفری مشکلات کا ازالہ ممکن ہو سکے۔
منگلا ڈیم کے وسیع و عریض ذخیرۂ آب پر تعمیر ہونے والا رٹھوعہ ہریام پل، جسے میرپور اسلام گڑھ پل بھی کہا جاتا ہے، بالآخر دو دہائیوں سے زائد عرصے کی تاخیر، تعطل اور ادھورے وعدوں کے بعد پایۂ تکمیل کو پہنچ گیا ہے۔ تقریباً تین کلومیٹر طویل یہ عظیم الشان منصوبہ محض کنکریٹ اور سریے کا ڈھانچہ نہیں بلکہ اس امر کی جیتی جاگتی مثال ہے کہ جب سیاسی عزم، بیوروکریسی کی سستی پر غالب آ جائے تو ناممکن بھی ممکن بن جاتا ہے۔ یہ پل نہ صرف میرپور شہر کو اسلام گڑھ، چکسواری اور دیگر علاقوں سے جوڑے گا بلکہ ان بچھڑی ہوئی انسانی رشتوں کو بھی بحال کرے گا جو ترقی کے نام پر منقطع ہو گئے تھے۔اس منصوبے کی بنیاد منگلا ڈیم ریزنگ پراجیکٹ کے ساتھ جڑی ہوئی ہے، جو 2000ء کی دہائی کے وسط میں پانی ذخیرہ کرنے اور بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت بڑھانے کے لیے شروع کیا گیا۔
اگرچہ اس منصوبے نے قومی سطح پر بے شمار فوائد دیے، مگر اس کے نتیجے میں سڑکوں کا وسیع نیٹ ورک زیرِ آب آ گیا اور ہزاروں خاندان نقل مکانی پر مجبور ہوئے۔ اسی تناظر میں وفاقی حکومت، حکومتِ آزاد جموں و کشمیر اور واپڈا کے درمیان ایک سہ فریقی معاہدہ طے پایا، جس کے تحت متبادل انفراسٹرکچر کی تعمیر کا وعدہ کیا گیا، جس میں اس پل کو کلیدی حیثیت حاصل تھی۔ابتدائی طور پر دو ہزار گیارہ کے قریب اس منصوبے پر کام شروع ہوا، جس کی لاگت کا تخمینہ تقریباً ایک اعشاریہ تین سے ایک اعشاریہ چار ارب روپے لگایا گیا تھا۔ دو ہزار پندرہ تک پل کا تقریباً اسی فیصد حصہ مکمل ہو چکا تھا، مگر سب سے اہم اور تکنیکی طور پر پیچیدہ حصہ، یعنی گہرے پانی کے اوپر مرکزی سپین، نامکمل رہ گیا۔ یوں یہ منصوبہ ایک طویل عرصے تک تعطل کا شکار رہا اور بالآخر “سفید ہاتھی” کی علامت بن گیا، جو بدانتظامی، مالی مشکلات اور بدلتی ترجیحات کا مظہر تھا۔
اس تاخیر کا سب سے بڑا بوجھ عوام نے اٹھایا۔ میرپور ڈویژن کے مکینوں کو ستر کلومیٹر سے زائد کے طویل چکر لگانے پڑتے، جس سے تیس منٹ کا سفر کئی گھنٹوں پر محیط ہو جاتا۔ ایمرجنسی خدمات متاثر ہوئیں، طلبہ کی تعلیمی سرگرمیاں متاثر ہوئیں، کاروباری لاگت میں اضافہ ہوا، اور خاندان ایک دوسرے سے دور ہو گئے۔ پہلے ہی بے دخلی کے مسائل سے دوچار اس خطے کے لیے یہ صورتحال مزید مایوسی کا باعث بنی۔تاہم اس جمود کو توڑنے کا سہرا وفاقی وزیر منصوبہ بندی، پروفیسر احسن اقبال کے سر جاتا ہے، جنہوں نے اس منصوبے کو ذاتی حیثیت میں سنبھالا اور اسے مکمل کرنے کا عزم کیا۔ وزیر اعظم شہباز شریف کی قیادت میں، جو انفراسٹرکچر کی ترقی کو اپنی حکومت کا محور سمجھتے ہیں، اس منصوبے کے لیے ضروری منظوری اور فنڈز فراہم کیے گئے۔
ای سی این ای سی سے نظرثانی شدہ لاگت کی منظوری لی گئی جبکہ ایف ڈبلیو او کو اس منصوبے کی تکمیل کی ذمہ داری سونپی گئی۔ جدید جرمن مشینری کے ذریعے، کم پانی کی سطح کے دوران دلدلی زمین میں ستون نصب کیے گئے۔ اب اس منصوبے کی لاگت بڑھ کر نو سے دس ارب روپے تک جا پہنچی ہے، جو کہ مہنگائی، تکنیکی تبدیلیوں اور تاخیر کا نتیجہ ہے، مگر اس کے ثمرات اس لاگت کو مکمل طور پر جواز فراہم کرتے ہیں۔یہ پل محض ایک سڑک نہیں بلکہ ایک معاشی و سماجی انقلاب کا پیش خیمہ ہے۔ اس سے سفر کا وقت کم ہوگا، میرپور، جسے اوورسیز کشمیریوں کی بڑی تعداد کے باعث “منی لندن” کہا جاتا ہے، کو کوٹلی اور دیگر علاقوں سے بہتر طور پر جوڑا جا سکے گا۔ زمیندار، تاجر، طلبہ اور سیاح سب اس سے مستفید ہوں گے۔ منگلا جھیل کے حسین مناظر اس پل کو ایک سیاحتی مرکز بھی بنا دیں گے، جس سے مقامی معیشت کو فروغ ملے گا۔
بیرونِ ملک مقیم پاکستانیوں کے لیے بھی یہ منصوبہ خصوصی اہمیت رکھتا ہے، کیونکہ یہ ان کے اپنے وطن سے تعلق کو مزید مضبوط بنائے گا۔ ترسیلات زر کے ذریعے ملکی معیشت کو سہارا دینے والے یہ افراد اب زیادہ سہولت کے ساتھ اپنے علاقوں تک رسائی حاصل کر سکیں گے۔یہ منصوبہ پاکستان مسلم لیگ (ن) کی حکومت کے اس وژن کی عکاسی کرتا ہے جس میں ترقی کو عوامی فلاح کے ساتھ جوڑا جاتا ہے۔ وزیر اعظم شہباز شریف کی جانب سے آزاد کشمیر کے لیے اربوں روپے کے ترقیاتی پیکجز اس بات کا ثبوت ہیں کہ یہ حکومت خطے کی خوشحالی کے لیے سنجیدہ ہے۔بالخصوص پروفیسر احسن اقبال کی کاوشیں قابلِ تحسین ہیں، جنہوں نے نہ صرف اس مشکل منصوبے کو مکمل کیا بلکہ یہ ثابت کیا کہ مستقل مزاجی، وژن اور عوامی خدمت کا جذبہ اگر یکجا ہو جائیں تو برسوں سے رکے ہوئے خواب بھی تعبیر پا لیتے ہیں۔
اہلِ میرپور اور آزاد جموں و کشمیر کے لیے یہ پل صرف ایک سڑک نہیں بلکہ ایک عہدِ نو کی نوید ہے.ایک ایسا عہد جہاں فاصلے سمٹتے ہیں، رشتے جڑتے ہیں اور ترقی کا سفر نئی رفتار اختیار کرتا ہے۔ جیسے ہی وزیر اعظم شہباز شریف اس تاریخی منصوبے کا افتتاح کریں گے، یہ محض ایک پل کا افتتاح نہیں ہوگا بلکہ یہ اس عزمِ نو کی تجدید ہوگی کہ ریاست کے دور افتادہ خطے بھی قومی ترقی کے دھارے میں برابر کے شریک ہیں۔ رٹھوعہ ہریام پل درحقیقت اس بات کا اعلان ہے کہ محرومیوں کے اندھیرے اب چھٹنے کو ہیں اور ایک مربوط، مستحکم اور خوشحال آزاد کشمیر کا خواب حقیقت کا روپ دھار رہا ہے۔