پاکستان کی خارجہ پالیسی، کتنی آزاد کتنی غلام؟

392

تحریر:سید سلیم گردیزی
*کیا پاکستان کی خارجہ پالیسی امریکی مفادات کی زنجیروں میں جکڑی رہی ہے؟
*کیا پاکستان اپنے مفادات کی بجائے مغربی مفادات کا آلہ کار رہا ہے؟
*کیا پاکستانی خارجہ پالیسی کی کوئی کل سیدھی بھی ہے؟
یہ وو سوالات ہیں جو پاکستان کی خارجہ پالیسی کے حوالے سے اس تواتر سے اٹھائے جاتے رہے ہیں کہ انہیں اب عوامی بیانیے کی حیثیت حاصل ہو گئی ہے- سوشل میڈیا کے آنے کے بعد اس تاثر پر مزید مہر تصدیق ثبت ہو گئی ہے اور اس معاملے کی فنی پیچیدگیوں اور تیکنیکی نزاکتوں میں جائے بغیر اسے امر واقعہ کے طور پر تسلیم کر لیا گیا ہے-
آئیے اس تاثر کی حقیقت کا ذرا پوسٹ مارٹم کر کے دیکھتے ہیں-آگے بڑھنے سے پہلے خارجہ پالیسی کے حوالے سے دو بنیادی اصولوں کو پیش نظر رکھنا ضروری ہے
اولا” یہ کہ خارجہ پالیسی خلا میں نہیں بنتی اور نہ اس کی بنیاد جذبات اور خواہشات پر رکھی جا سکتی ہے- یہ ٹھوس زمینی حقائق کی بنیاد پر وجود میں آتی ہے- کسی بھی ملک کی خارجہ پالیسی اس ملک کے حجم، اثرونفوذ، معاشی، سیاسی اور نظریاتی استحکام، دفاع اور ورلڈ ویو سمیت مختلف فیکٹرز کا حاصل ضرب ہوتی ہے- ایک ایسا ملک جسے اپنی پیدائش کے ساتھ ہی اپنے سے سات گنا بڑے اور مکار دشمن سے نمٹنے کا چیلنج درپیش ہو- معاشی بحران، سیاسی عدم استحکام اور نظریاتی عدم یکسوئی کے عارض جس کی پیدائش سے ہی اس کی ذات کو لاحق ہوں اور جس کا حال بقول شاعر
جہاں بھونچال بنیاد فصیل و در میں رہتے ہیں
ہمارا حوصلہ دیکھیے، ہم ایسے گھر میں رہتے ہیں

والا ہو، ایسے ملک سے مکمل آزاد و خودمختار خارجہ پالیسی کی توقع کرنا بھی احمقوں کی جنت میں رہنے کے مترادف ہے.ثانیا” خارجہ پالیسی اتنا سادہ اور عام فہم معاملہ نہیں کہ ہر شخص جس کے ہاتھ میں کاغذ پنسل یا آئی فون، کی پیڈ، مائیک اور کیمرا آ گیا ہو، اس پر “ماہرانہ” اظہار خیال فرمانا شروع کر دے اور خود ہی “امریکی غلام” کی پھبتی کس کر چلتا بنے- خارجہ پالیسی ایک انتہائی پیچیدہ، حساس اور نازک عمل ہے. یہ بسا اوقات یہ “رگ گل سے بلبل کے پر باندھنے” جیسا حساس کام ہوتا ہے اور کہیں یہ غزل کہنے جیسا ہے جہاں ایک بات بتانی اور ایک بات چھپانی ہوتی ہے- الغرض خارجہ پالیسی کوئی بلیک اینڈ وائٹ فلم نہیں ہوتی بلکہ یہ ہفت رنگ کہکشاں کی مرصع کاری ہوتی ہے جس میں الٹرا وائلٹ اور انفرا ریڈ رنگوں کی بھی حاشیہ آرائی ہوتی ہے.ان حالات میں کسی سفارتی موو یا بیان کی بنیاد پر سفارتکاری کی جہت کا اندازہ کرنا بسا اوقات بلکہ اکثر اوقات مغالطہ انگیز ہوتا ہے. تاثر اور حقیقت میں زمین آسمان کا فرق ہوتا ہے. جو آپ کو نظر آ رہا ہوتا ہے وہ ہوتا نہیں اور جو ہوتا ہے وہ نظر نہیں آ رہا ہوتا. کامیاب خارجہ پالیسی اسی ابہام سے جنم لیتی اور آگے بڑھتی ہے. اس فضا میں “بلیک اینڈ وائٹ خارجہ پالیسی” والے ٹازن اکثر مات کھا جاتے ہیں جیسا کہ بڑے بڑے بڑھک باز طرم خان ممالک کی مثالیں ہمارے سامنے ہیں.

ان تمہیدی گزارشات کے بعد اب آتے ہیں پاکستان کی خارجہ پالیسی کی طرف
پاکستان کی خارجہ پالیسی کی بنیادی خدوخال بذیل ہیں جو بانی پاکستان قائداعظم محمد علی جناح نے خود اپنی زندگی میں تشکیل دے دیے تھے:
الف) پاکستان کی اسلامی نظریاتی شناخت، قومی وقار اور خودمختاری کا تحفظ
ب) مسئلہ کشمیر
ج) اتحاد عالم اسلامی اور مسلمان ممالک کے باہمی تنازعات کا پرامن اور منصفانہ حل
د) مسلم مقبوضات (فلسطین، قبرص وغیرہ کی آزادی)
ر) دنیا بھر میں آزادی اور حق خودارادیت کی تحریکوں کی حمایت

بعد میں چین کے ساتھ دوستی و شراکت داری اور پاکستان کا ایٹمی پروگرام بھی پاکستان کی خارجہ پالیسی میں بنیادی عنصر کے طور پر شامل ہو گئے-قیام پاکستان کے فوری بعد اس وقت کی عالمی بلاکس پالیٹکس کے تناظر میں پاکستان کو بھارت کی طرف سے اپنی سالمیت کو درپیش سنگین خطرات کے سدباب کے لیے امریکہ کی قیادت میں مغربی بلاک کا حصہ بننا پڑا لیکن اس کے باوجود اس نے اپنی خارجہ پالیسی کے بنیادی اصولوں پر کبھی کمپرومائز نہیں کیا. اس وقت باقی ممالک کی طرح مسلم ممالک بھی امریکی اور سوویٹ یونین کے بلاکس میں منقسم تھے. سوویٹ بلاک سے وابستہ مسلم ممالک مثلا” شام، لیبیا، مصر، عراق، یاسر عرفات کی قیادت میں فلسطینی پی ایل او پاکستان کے ازلی دشمن بھارت کی گود میں جا بیٹھے تھے اور ہر عالمی فورم پر پاکستان کی مخالفت کرتے تھے لیکن پاکستان نے ان ممالک کو بھی ساتھ لے کر چلنے کی کوشش کی اور ان کی دشمنی کا جواب اسلامی بھائی چاتے سے دیا.

1967 اور 74 میں دو عرب اسرائیل جنگیگیں ہوئیں. امریکہ جس طرح آج اسرائیل کے ساتھ ہے، تب اس سے بھی زیادہ قوت اور شدت سے اسرائیل کی پشت پر کھڑا تھا.نہ صرف اسرائیل بلکہ پورا مغربی بلاک- لیکن پاکستان نے امریکی ناراضگی کی پروا کیے بغیر اسرائیل کے مقابلے میں عرب مسلم ممالک کا نہ صرف کھل کر ساتھ دیا بلکہ پاکستانی ہوابازوں نے اسرائیلی فضائیہ کا غرور خاک میں ملا دیا.رضا شاہ پہلوی کا ایران اس خطے میں امریکہ کا سب سے بڑا تزویراتی اڈہ تھا. 1979 میں امام خمینی کی قیادت میں ایران کا اسلامی انقلاب آیا جس نے امریکی استعمار کی تمام نشانیوں کو حرف غلط کی طرح مٹا دیا. پاکستان نے امریکہ کا اتحادی ہونے کے باوجود انقلاب ایران کا ساتھ دیا اور امام خمینی کی اسلامی انقلابی حکومت کو سب سے پہلے تسلیم کیا.اسرائیل پاکستانی خارجہ پالیسی کا ہمیسہ ایک ٹیسٹ کیس رہا ہے. امریکی بلاک کا حصہ ہونے کی وجہ سے پاکستان پر ہمیشہ اسرائیل کو تسلیم کرنے کے لیے ہمیشہ دباو رہا ہے. پاکستانی اشرافیہ میں بھی ایک لابی اسرائیل کو تسلیم کرنے کے لیے کام کرتی رہی ہے. پھر ان حالات میں جب کلیدی عرب مسلم ممالک مثلا” مصر، متحدہ عرب امارات وغیرہ نے اسلامی حمیت کا لبادہ تار تار کرتے ہوئے اسرائیل کو تسلیم کر رکھا ہے، ان حالات میں پاکستان پر عالمی دباو اور بھی بڑھ جاتا ہے. اس حوالے سے ہماری بعض حکومتیں ڈگمگا بھی جاتی رہی ہیں لیکن پاکستان بحیثیت مجموعی قائد اعظم محمد علی جناح کی وضع کردہ پالیسی پر ڈٹ کر کھڑا ہے اور اسرائیل کو تسلیم کرنا تو درکنار، اس کے حوالے سے “ہاتھ ہولا رکھنے” کا بھی روادار نہیں ہے.

اس طرح پاکستان نے اپنے مغربی اتحادیوں کی پروا کئے بغیر مسلم مقبوضات مثلا” فلسطین، قبرص، اریٹیریا، اراکان، نگورنوکاراباخ سمیت دنیا بھر میں آزادی اور حق خود
ارادیت کی تحریکوں کا ساتھ دیا- حتی کہ غیر مسلم قوموں کی آزادی کی تحریکوں کا انسانیت کے ناطے ساتھ دیا مثلا” نمیبیا کی تحریک آزادی اور جنوبی افریقہ کی نسل پرست حکومت کے خلاف وہاں کے سیاہ فام عوام کی جدوجہد آزادی. رہی بات جموں و کشمیر کی تحریک آزادی کی تو جس طرح پاکستان نے ہرقسم کے سرد و گرم میں ایٹمی پروگرام کو اپنی پالیسیوں کا بنیادی اصول بنائے رکھا اس طرح کشمیر کا مسئلہ بھی پاکستان کے وجود سے وابستہ ہے جس سے پاکستان کبھی غافل نہیں ہو سکتا.اسرائیل، ایٹمی پروگرام، کشمیر کی طرح چین بھی ہمیشہ پاکستان کی خارجہ پالیسی کا ایک ٹیسٹ کیس رہا ہے جس پر پاکستان نے کبھی کمپرومائز نہیں کیا کیونکہ اس پر کمپرومائز اپنے وجود پر کمپرومائز کرنے کے مترادف ہے لیکن یہ بھی پاکستان کی خارجہ پالیسی کا ایک اعزاز ہے کہ اس نے چین کے ساتھ دوستی نبھاتے ہوئے اپنے مغربی اتحادیوں سے بھی تعلقات برقرار رکھے ہیں اور چین اور امریکہ کے مابین تعلقات میں ایک نازک سا توازن بھی قائم رکھا ہے.

یہی آزاد اور ذمہ دارانہ خارجہ پالیسی کا عملی ثبوت ہے ورنہ ہم بھی عراق، ایران، شام، لیبیا کی طرح ٹارزن بن کر امریکہ کو للکار سکتے تھے اور عوام میں وقتی مقبولیت حاصل کر سکتے تھے (مثلا” ٹلی ناٹ) لیکن انجام کار بھی انہی جیسا ہونا تھا- الحمدللہ ہماری قیادت نے مجموعی طور پر ایٹمی طاقت کے شایان شان ذمہ دارانہ طرز عمل کا مظاہرہ کیا ہے.
سعودی عرب اور ایران کے مابین تعلقات میں توازن پاکستان کی خارجہ پالیسی کا ایک اور ٹیسٹ کیس ہے- تاریخ کے ہر دور میں ان دونوں برادر مسلم ممالک کے تعلقات ایک دوسرے کے کھچے کھچے رہے ہیں لیکن پاکستان نے دونوں کے ساتھ تعلقات میں توازن برقرار رکھا ہے. توازن کا یہ پلڑا کسی ایک کی طرف بھی جھکنا پاکستان کے لیے سنگین داخلی و خارجی مضمرات کا باعث ہو سکتا تھا لیکن الحمدللہ پاکستان نے یہ توازن بھی بحسن و خوبی نبھایا ہے.گو کہ پاکستان اپنی مختصر سی تاریخ میں داخلی بحرانوں، سیاسی و معاشی عدم استحکام اور دیگر مشکلات کا شکار رہا ہے.حکومتوں کی کمزوریاں بھی اپنی جگہ لیکن اس نے اپنے دفاع اور خارجہ لالیسی پر کبھی کمپرومائز نہیں کیا. یہی اس کی کامیاب خارجہ پالیسی کی دلیل ہے.

پاکستان نے کہیں بلاک پالیٹکس کھیل کر، کہیں عالمی تنازعات میں گاہے الجھ کر گاہے دامن بچا کر، کہیں ابہام کی سموک سکرین بنا کر، دائیں بائیں کر کے ایٹمی صلاحیت حاصل کر لی ورنہ ایٹمی پروگرام تو اور بھی ملکوں نے شروع کیا تھا جو بڑے پھنے خان بنے پھرتے تھے، آج تاریخ کے گرداب میں ان کا دھنواں بھی نہیں لیکن پاکستان آج بھی سرخرا ہے ، سربلند ہے. الحمدللہ پاکستان کی خارجہ پالیسی اپنی آزادی و خود مختاری اور قومی وقار سے ہم آہنگ ہونے میں دنیا کے کسی بھی دوسرے ملک کی خارجہ پالیسی سے پیچھے نہیں رہی.جو لونڈے لپاڑے فیس بک پر “امریکی غلام” “امریکی غلام” کی پھبتیاں کس رہے ہیں وہ دشمن کےوہ سہولتکار ہیں جو پاکستانیوں سے ان کا فخر چھین کر انہیں احساس کمتری میں مبتلا کرنا چاہتے ہیں. دشمن جب باہر سے آپ پر فتح پانے میں ناکام ہو جاتا ہے تو وہ آپ کو اندر سے شکست و ریخت کا شکار کرنا چاہتا ہے.خدا را دشمن کی چالوں میں نہ آئیں. مثبت تنقید صحتمندانہ عمل ہے جس سے حکومت اور ریاست کو اپنی پالیسیوں کی سمت درست رکھنے میں مدد ملتی ہے جبکہ احساس کمتری کے زہر سے آلودہ پروپیگنڈہ دشمن کا ہتھیار ہے جس سے وہ آپ کی فتح کو شکست میں تبدیل کرنا چاہتا ہے دشمن کے ان “سائبرسولجرز” سے بچ کر رہیں.

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں