تحریر: سردار عبدالخالق وصی
مشرقِ وسطیٰ ایک بار پھر عالمی سیاست کے دھماکہ خیز موڑ پر کھڑا ہے جہاں امریکہ، اسرائیل اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی نے نہ صرف خطے بلکہ پوری دنیا کے امن اور معیشتوں کو داؤ پر لگا دیا ہے۔ ایسے نازک اور غیر یقینی حالات میں جب بڑی طاقتیں اپنی عسکری برتری اور سیاسی مفادات کے تحفظ میں مصروف ہیں، پاکستان نے امریکہ، اسرائیل اور ایران کے درمیان ممکنہ سیز فائر اور امن مذاکرات کی میزبانی کا کردار ادا کرنے کی پیشکش کرتے ہوئے خود کو ایک ذمہ دار، متوازن اور قابلِ اعتماد ثالث کے طور پر منوانے کی کوشش کی ہے۔ یہ کردار نہ محض وقتی ردِعمل ہے بلکہ ایک سوچے سمجھے تزویراتی وژن کا عکاس ہے جس کے ذریعے پاکستان نے عالمی برادری کو یہ پیغام دیا ہے کہ وہ نہ صرف خطے کا اہم فریق ہے بلکہ امن کے قیام میں ایک فعال، مؤثر اور اہم شراکت دار بھی بن سکتا ہے۔
حالیہ پیش رفت سے یہ حقیقت روزِ روشن کی طرح عیاں ہو چکی ہے کہ پاکستان اس بحران میں محض ایک خاموش تماشائی نہیں بلکہ ایک متحرک سفارتی پل کے طور پر ابھرا ہے۔ ایک طرف اس کے امریکہ کے ساتھ دیرینہ تزویراتی اور سکیورٹی تعلقات موجود ہیں تو دوسری طرف ایران کے ساتھ جغرافیائی قربت، مذہبی و ثقافتی روابط اور ہمسائیگی کا رشتہ اسے ایک منفرد حیثیت عطا کرتا ہے۔ یہی وہ توازن ہے جس نے پاکستان کو اس قابل بنایا کہ وہ پس پردہ سفارتکاری کے ذریعے مختلف فریقین کے درمیان رابطے استوار کرے، پیغامات کی ترسیل کو ممکن بنائے اور کشیدگی میں کمی کے لیے عملی اقدامات کرے۔ اطلاعات کے مطابق پاکستان نے نہ صرف بیک چینل رابطوں کو فعال رکھا بلکہ ممکنہ سیز فائر اور امن مذاکرات کے لیے خود کو ایک میزبان کے طور پر بھی پیش کیا ہے، جو اس کے بڑھتے ہوئے سفارتی اعتماد اور اہمیت کا واضح مظہر ہے۔
اس کے لیے ضرورت اس امر کی ہے کہ پاکستان کے اندر مختلف مکاتبِ فکر، سیاسی جماعتوں، مذہبی حلقوں، میڈیا اور سول سوسائٹی میں بھی مکمل یکجہتی اور اتحاد موجود ہو۔ کیونکہ خارجی سطح پر مضبوط اور قابلِ اعتماد سفارتی کردار ادا کرنے کے لیے داخلی محاذ پر ہم آہنگی ناگزیر ہے۔ موجودہ حالات میں پاکستان کے اندر جو سیاسی و عسکری ہم آہنگی نظر آتی ہے، وہ اس کی سفارتی کامیابیوں کی بنیاد بن رہی ہے۔ اس ہم آہنگی کے پس منظر میں میاں محمد نواز شریف کا دیرینہ وژن نمایاں ہے، جس میں علاقائی استحکام، معاشی ترقی اور متوازن خارجہ پالیسی کو مرکزی حیثیت حاصل رہی ہے۔ اسی وژن کو عملی شکل دینے میں شہباز شریف کی قیادت میں حکومت نے ایک متحرک کردار ادا کیا ہے، جس نے داخلی استحکام کو خارجی اعتماد میں بدلنے کی کوشش کی ہے۔
مزید برآں سینیٹر اسحاق ڈار بطور نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ نہایت فعال سفارتکاری کے ذریعے عالمی سطح پر پاکستان کا مؤقف پیش کر رہے ہیں اور مختلف دارالحکومتوں کے ساتھ مسلسل رابطوں میں ہیں۔ان تمام کوششوں کے ساتھ ساتھ عسکری قیادت کا کردار بھی غیر معمولی اہمیت کا حامل ہے۔ خصوصاً چیف آف ڈیفینس فورسز فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی قیادت میں مسلح افواج نے نہ صرف قومی سلامتی کو یقینی بنایا بلکہ سفارتی محاذ پر بھی ریاستی مؤقف کو تقویت دی ہے۔ ان کی حکمت عملی میں داخلی استحکام، سرحدی سلامتی اور علاقائی امن کے درمیان ایک مربوط توازن واضح نظر آتا ہے، جو پاکستان کی مجموعی پالیسی کو ایک مضبوط بنیاد فراہم کرتا ہے۔ سیاسی و عسکری قیادت کے درمیان یہ ہم آہنگی دراصل وہ عنصر ہے جس نے پاکستان کو موجودہ پیچیدہ عالمی بحران میں ایک مؤثر اور قابلِ اعتماد کردار ادا کرنے کے قابل بنایا ہے۔
پاکستان کی خارجہ پالیسی کا یہ متوازن انداز دراصل “فعال غیر جانبداری” کی ایک عملی تصویر ہے، جس میں نہ تو کسی ایک فریق کی اندھی حمایت شامل ہے اور نہ ہی لاتعلقی۔ بلکہ اس کے برعکس ایک ذمہ دار ریاست کے طور پر کشیدگی میں کمی، مذاکرات کے فروغ اور امن کے قیام کو ترجیح دی گئی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستان نہ صرف امریکہ اور ایران کے درمیان رابطوں میں ایک ممکنہ سہولت کار کے طور پر دیکھا جا رہا ہے بلکہ مسلم دنیا میں بھی اس کی آواز کو سنجیدگی سے لیا جا رہا ہے۔پاکستان کا ایٹمی پروگرام خطے میں خطرے کی بجائے امن کی مضبوط ضمانت سمجھا جاتا ہے۔ پوری دنیا، بالخصوص بڑی طاقتیں یہ حقیقت تسلیم کرتی ہیں کہ پاکستان کا ایٹمی ہتھیاروں کا پروگرام کسی بالادستی یا توسیع پسندانہ عزائم کا اظہار نہیں بلکہ خالصتاً دفاعی نوعیت کا ہے۔
یہ ایک موثر ڈیٹرنس (Deterrence) ہے جو علاقائی توازن قائم رکھنے اور بڑے پیمانے پر جنگ کو روکنے میں اہم کردار ادا کر رہا ہے۔ عالمی برادری پاکستان پر اس اعتماد کا اظہار کرتی ہے کہ اس کا ایٹمی پروگرام ذمہ دارانہ طور پر سنبھالا جا رہا ہے اور یہ خطے میں استحکام کا عنصر بن چکا ہے، نہ کہ عدم استحکام کا باعث۔ جغرافیائی اور تزویراتی لحاظ سے پاکستان کی یہ حیثیت اسے اس قابل بناتی ہے کہ وہ کسی بھی ممکنہ تصادم کے اثرات سے نہ صرف خود کو بچائے بلکہ خطے میں امن کی ضمانت بھی فراہم کرے۔جغرافیائی اور تزویراتی لحاظ سے بھی پاکستان کی اہمیت کسی سے پوشیدہ نہیں۔ ایران کے ساتھ طویل سرحد، بلوچستان کی حساس صورتحال، اور خطے میں جاری معاشی منصوبے اس بات کے متقاضی ہیں کہ پاکستان کسی بھی ممکنہ تصادم کے اثرات سے خود کو محفوظ رکھنے کے لیے فعال کردار ادا کرے۔
اس کے ساتھ ساتھ داخلی سطح پر عوامی جذبات اور مذہبی وابستگیاں بھی حکومت کے لیے ایک اہم عنصر ہیں، جنہیں نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔ یہی وہ پیچیدہ حقیقتیں ہیں جن کے درمیان پاکستان اپنی پالیسی کو متوازن رکھے ہوئے ہے۔
یہ کہا جا سکتا ہے کہ امریکہ، اسرائیل اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی نے پاکستان کو ایک نئے امتحان سے دوچار کیا ہے، مگر یہ امتحان ایک موقع بھی ہے۔ اگر پاکستان اپنی سفارتی مہارت، سیاسی بصیرت، عسکری استحکام، داخلی یکجہتی اور ذمہ دارانہ ایٹمی پوزیشن کو بروئے کار لاتے ہوئے اس بحران میں مثبت کردار ادا کرنے میں کامیاب ہو جاتا ہے تو نہ صرف اس کا عالمی وقار بلند ہوگا بلکہ وہ مسلم اُمہ کے درمیان اتحاد اور ہم آہنگی کے فروغ میں بھی ایک نمایاں مقام حاصل کر لے گا۔ یوں پاکستان ایک بار پھر تاریخ کے اس اہم موڑ پر ایک ایسے کردار میں سامنے آ رہا ہے جو محض علاقائی نہیں بلکہ عالمی امن کے لیے بھی ناگزیر حیثیت اختیار کر سکتا ہے۔