کشمیر کے تاریخ ساز ولی کامل حضرت میاں محمد شفیع جھاگوی کا تین روزہ سالانہ رعرس

98

ڈاہیلاگ / ڈاکٹر سردار محمد طاہر تبسم
کشمیر کو اولیائے کرام کی سرزمین کہا جاتا ہے اولیاء کرام اور مشائخ عظام نے لوگوں کے دلوں کو مسخر کر کے دین اسلام کی تبلیغ و اشاعت میں ایسی جدت پیدا کی کہ زمانہ معترف ہوگیا۔ تاریخ گواہ ہے کہ حضرت عبدالرحمان بلبل شاہ، حضرت شاہ ہمدان، حضرت مخدوم حمزہ اور حضرت نورالدین ریشی، حضرت سائیں سخی سہیلی سرکار، حضرت میاں محمد بخش اور حضرت میاں برکت اللہ جھاگوی اور ان کے روشن خیال فرزند حضرت میاں محمد شفیع باجی رحمتہ اللہ علیہ نے نہ صرف اس مشن کو جاری رکھا بلکہ اسے بے پناہ تقویت پہنچائی۔ ان نامور اور عظیم ہستیوں کا وجود بلاشبہ جنوبی ایشیاُ، ریاست جموں وکشمیر اور پاکستان کیلئے بہت بڑی نعمت سے کم نہیں ہے۔ حضرت میاں محمد شفیع جھاگوی ہمہ جہت علمی، روحانی، مذہبی اور سماجی شخصیت اور مرد کامل، جید عالم دین اور وقت کے غوث کے درجہ پر فائز انتہائی عاجز، مسکین، منکسرا لمزاج اور وسیع النظر وقلب درویش تھے۔ آپ نے ابتدائی تعلیم و تربیت اپنے عظیم والد ماجد غوث زمانہ حضرت سرکار جھاگوی کی آغوش ولایت میں پائی جو اپنے دور کے نامور عالم دین اور بحر ذخائر تھے اور اس صدی میں شرعی عدالتوں کے قیام کے بانی اور اصلا ح معاشرہ کے اہم سرخیل تھے۔ آپ کے فعال کردار، خدمات اور بیش بہا دینی علمی اور روحانی خدمات پر کئی کتب شائع ہو چکی ہیں بلاشبہ آپ کی معجزاتی شخصیت نے پوری ریاست جموں وکشمیر، پاکستان اور جنوبی ایشیاء کے ممالک میں ایسے طلمساتی نقوش اور اثرات چھوڑے ہیں جو رہتی دنیاتک آ پکی یاد دلاتے رہیں گے۔

حضرت میاں محمد شفیع جھاگوی ؒ ملک کے معروف دارالعلوم اسلامیہ رحمانیہ ہری پور ہزارہ سے فارغ التحصیل تھے۔دینی و دنیاوی تعلیم کے زیور سے آراستہ ہونے کے ساتھ ساتھ روحانی تربیت بھی والد ماجدحضرت سرکارجھاگوی سے نصیب رہی اور کئی نامور اولیاء کرام حضرت میاں الف دین باجی ریاں شریف، صاحبزادہ طیب الرحمان چھوہر شریف حضرت بابا سید تاج الدین ناگپوری انڈیا، حضرت خواجہ آل حبیب علی خان اجمیر شریف اور کئی نامور صوفیااور صاحب نظر کاملین کی خصوصی توجہ اور فیض سے مستفیض ہوئے۔ سب سے بڑھ کر ان کے اپنے دادا محترم میاں محمد حبیب اللہ اور والد عظیم حضرت میاں برکت اللہ کے فیوض و برکات کا فیضان کرم رہا۔حضرت میاں محمد شفیع جھاگوی نے فقیری میں بادشاہی کی عجزو انکساری، توکل اور درویشی میں لاکھوں افراد کے دلوں پر حکمرانی کی اور اپنی زندگی کو دوسروں کیلئے وقف کئے رکھا۔ دکھی انسانیت کی خدمت کو اپنی زندگی کا اوڑھنا، بچھونا بنایا۔ ایسی نابغہ روزگار ہستیوں کی وجہ سے معاشرے میں امن وآشتی، محبت و اخوت، رواداری، برداشت اور درگزر کرنے کی ترغیب و تعلیم ملتی ہے اور ظلمت کے اندھیروں میں ارتعاش پیدا ہوتا ہے۔اور کردار کی روشنی سے اندھیرے دلوں میں ایمان و ایقان کی شمعیں فروزاں ہوتیں ہیں – حضرت جھاگوی نے مساجد و مدارس کے قیام اور کئی قصبوں و دیہات میں اپنی مدد آپ سے ان کی تعمیر میں سرپرستی فرمائی۔

سماجی رشتوں، شادی بیاہ اور زمین وجائیداد کے تنازعات کو حکمت، خوش اسلوبی اور اثرو رسوخ کے ذریعے حل کراتے رہے۔نئی نسل میں توحید، رسالت کی حقانیت اور اتباع سنت، شریعت اور عشق رسول کو قلوب و اذہان میں ثبت کرنے میں ان کا کردار ہماری آنے والی نسلوں تک یاد رہے گا۔آپ نے کشمیر کے ہرکوچہ و بازار اور سنگلاخ بلند و بالا آبادیوں میں عشق رسول کی آبیاری کی۔ گزشتہ ایک دہائی سے آپ کی سرپرستی میں متحرک و فعال تنظیم انجمن محبان مصطفی نے اس پاکیزہ مشن کو بڑھانے میں زبردست کاوشیں کیں اور اس وقت بھی اسی صادق جذبےکے ساتھ متحرک ہے۔محافل میلاد کے انعقاد اور اسکی ترویج کا سہرہ انہی کے سرہے۔ سالانہ میلاد النبیﷺ کانفرنس کاہر پروگرام یادگار تاریخ کا مظہر ہے۔ آپ عشق مصطفی ﷺ اور میلاد النبیﷺ کے ہر پروگرام میں اپنی گوناگوں مصروفیات کو ترک کرکے تمام مریدین کے ہمراہ پہنچتے۔حضرت میاں محمد شفیع باجی کی زندگی کے شب روز روحانیت، معرفت، ذکر وفکر اور خدمت انسانیت سے عبادت رہے ہر لمحہ یاد الٰہی، وظائف و اذکار، عشق حقیقی اور معرفت رسول میں بسر کیا حضرت صاحب نے خدمت کےمشن کو ہمیشہ اہمیت دی لیکن اپنے روحانی مقام ومرتبے کو چھپائے رکھا۔ اس کے باوجود لوگ دیوانہ وار آپ سے چمٹے رہتے اور آپ کی عبادات کے معمولات بھی تہہ و بالا کرتے رہتے۔ زلزلہ اور سیلاب سے متاثرہ علاقوں کی آبادکاری اور متاثرین کی مدد کے لئے آپ نے بے پناہ کام کیا۔اور ہر متاثرہ خاندان تک پہنچے۔ بھارتی فوج کی فائرنگ سے شہید و زخمی افراد کے گھروں تک پہنچنا اپنی جان جوکھوں میں ڈالنے کے مترادف ہے.

لیکن آپ طویل و کٹھن پیدل سفر کرکے ان متاثرہ گھرانوں میں پہنچے۔ جامع مسجد لوات اور بازاربھارتی فائرنگ سے تباہ ہوا۔ یہ مسجد سرکار جھاگوی نے خود تعمیر کرائی تھی اور آپ کی دیرینہ خواہش تھی کہ جامع مسجد دوبارہ تعمیر ہو لیکن بھارتی فائرنگ کی شدت کے باعث ایسا نہ ہو سکا۔میاں شفیع باجی نے اسے دوبارہ تعمیر فرمایا۔ مقبوضہ کشمیر سے 1989میں آزادکشمیرہجرت کرکے آنے والے مہاجرین کی آبادکاری میں ہمہ وقت کوشاں رہے اور کیمپوں میں مساجد اور مدارس کے قیام میں بھرپور کردار ادا کیا۔آپ کی زندگی کے کئی پہلو ہیں اور ہر پہلو اپنے اندرجامعیت رکھتا ہے جس پر لکھنا تحقیق طلب ہے۔ آپ کا وصال 27فروری 2021کو صبح پانچ بجے ہوا۔ نماز جنازہ یونیورسٹی گراؤنڈ مظفرآبادمیں دوسرے روز ادا ہوئی۔ آپ کا جنازہ آزادکشمیر کی تاریخ کا بہت بڑاجنازہ قرار دیا گیا ہے۔ آخری آرام گاہ برلب ایبٹ آباد روڈ اپر گوجرہ کے بلند اور صحت افزاء مقام پر واقع ہے یہ اراضی ممتاز سیاسی رہنما اور عقیدت مند سردار مبارک حیدر نے وقف کی۔اپ کےسجادہ نشین حضرت میاں محمد رفیق جھاگوی دینی و دنیاوی علوم سے سند یافتہ اور ممتاز مذہبی و علمی اور روحانی شخصیت ہیں انہوں نے اپنے عظیم والد کے مشن کو پورے جذبے اور عزم واستقامت سے جاری رکھا ہوا ہے اور اس کے لئے شب و روز کام کر رہئے ہیں۔ انکے بھائی میاں شریف جھاگوی اہل سنت کا سرمایہ ہیں اور ہمہ تن سرگرم عمل رہتے ہیں میاں محمد شفیق اعلی تعلیم یافتہ سیاسی رہنما ہیں وزیر اعظم کے معاون خصوصی بھی رہ چکے ہیں۔ میاں محمد عتیق جھاگوی لاُ گریجویٹ اور متحرک مذہبی و علمی رہنما ہیں میاں محمد حلیم جھاگوی نے ساہیکالوجی میں اایم فل کیا ہے جب کہ چھوٹے بھائی میاں محمد دانیال نے دورہ حدیث و درس نظامی کی تعلیم کے بعد اسلامی علوم میں ایم فل کے طالب علم ہیں- اور اپنے والد محترم کے دینی و روحانی مشن کے لئے ہمیشہ مستعد نظر آتے ہیں۔

حضرت میاں شفیع جھاگوی رحمتہ اللہ علیہ کا پانچواں سالانہ تین روزہ سالانہ عرس مبارک دس اپریل سے حضرت میاں محمد رفیق جھاگوی سجادہ نشین جھاگ شریف کی سرپرستی و سربراہی اور اہل خاندان کی نگرانی میں تزک و احترام سے منعقد ہو رہا ہے جس میں ہر سال کی طرح اس عرس مبارک میں نامور مشائخ عظام حضرت دیوان سید آل حبیب علی خان سجادہ نشین اجمیر شریف، حضرت دیوان پیراحمد مسعود فاروقی سجادہ نشین پاکپتن شریف، حضرت پیر جمیل الدین احمد ناڑہ شریف، حضرت علامہ پیر محمد اجمل رضا قادری اور حضرت ڈاکٹرپیرمحمد سلیمان مصباحی تشریف لا رہے ہیں جبکہ ملک کے نامور ثنا خوان حضرات بھی شرکت کر رہے ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں