ہم جذباتی لوگ

205

خامہ صبح، اُسامہ امتیاز عباسی
ہم جلد نتائج کے عادی لوگ ہیں۔ ہمیں معلوم نہیں ہوتا ہم کیا کہہ رہے ہیں۔ ہم ایک لمحہ میں جج بن جاتے ہیں اور اگلے ہی لمحے میں جلاد بن کر پھانسی کا فریضہ بھی انجام دیتے ہیں۔ ہم ایک لمحہ میں خارجہ امور پر دسترس حاصل کرلیتے ہیں۔ اور اپنے گھر اور محلے میں بیٹھے یورپ، امریکا اور وسطی ایشیاء کی بدلتی صورت کو ترتیب دے دیتے ہیں۔ ہم دورانِ سفر آرکیٹیکٹ بن کر گاڑی کے شیشے سے باہر نظر آنے والی عمارت میں نقص نکال دیتے ہیں، اور دل ہی دل میں ازسرنو تعمیر کی تجویز دے دیتے ہیں۔ ہم لمحہ بھر میں ڈاکٹر بن جاتے ہیں۔ لیکن بیماری کی تشخیص سے قبل ہی ٹیکہ لگالیتے ہیں۔ ہم برسوں کے سفر کو لمحوں میں سمیٹ کر نتائج نکال لیتے ہیں۔

پاکستان میں جس بہاؤ سے سوشل میڈیا کا استعمال ہورہا ہے۔ اِس رفتار سے شاہد ہی کسی دوسرے ملک میں اِس کا استعمال ہو۔ وہ کام جو تجزیہ نگاروں اور صحافیوں کے کرنے کا تھا۔ وہ ایک عام انسان اِس سوشل میڈیا کے ذریعے بغیر کسی ضروری تصدیق یا جانچ پڑتال کے تابڑ توڑ کررہا ہے۔ یہ سلسلہ اِس شدت سے چل پڑا کہ جب حکومتی سطح پر اِس طرح کے عناصر کی روک تھام کیلئے کوئی پالیسی یا قانون بنایا جاتا ہے تو ہم جذباتی لوگ اسے اظہارِ رائے پر پابندی قرار دیتے ہیں۔ہم اصل میں اظہارِ رائے کی حقیقت سے واقف ہی نہیں ہیں۔ ہم جس بات کا اظہار کررہے ہوتے ہیں، اُسے سو فیصد درست قرار دے چکے ہوتے ہیں۔ لیکن اِس پر مزید ظلم یہ کہ رائے سننے والا یا پڑھنے والا اگر اِس سے اتفاق نہیں کررہا تو ہم اُسے کِن کِن حدود سے باہر نکال دیتے ہیں۔ جنہیں یہاں لکھتے ہوئے بھی ہاتھ کانپ جاتے ہیں۔ عموماٙٙ ایسا ہوتا ہے کہ سننے والا یا دیکھنے والا کسی مختلف سمت سے اُس کا مشاہدہ کررہا ہوتا ہے۔

اِس وقت عالم اسلام کو سنگین جنگ کا سامنا ہے۔ لیکن پاکستان کو بےلگام سوشل ایکٹیویسٹ کا سامنا ہے۔ جو چاہتے ہیں لمحوں میں پاکستان کی سرحدوں کو واشنگٹن تک وسیع کیا جائے۔ یہ وہی ہیں جو گزشتہ مئی میں ہونے والی پاک بھارت جھڑپوں میں پاکستان کی مشرقی سرحد کو نئی دہلی تک دیکھنے کے خواہاں تھے۔ پاکستان کی تمام اطراف کی سرحدیں محفوظ ہیں لیکن اِن ایکٹیویسٹ کی کوئی سرحد نہیں ہے۔ یہ لمحوں میں ایک ایسا ملک بنانا چاہتے ہیں جس کی سرحد مشرق سے بھوٹان اور جنوب مغرب میں بحیرہ احمر سے ملتی ہو۔ اور اُس کا دارلحکومت اسلام آباد ہو۔

اِس وقت ایران اور اسرائیل/امریکا جنگ میں پاکستان نے اپنی طاقت اور بساط کے مطابق بھرپور انداز میں سفارتی محاذ پر اپنا کردار ادا کیا ہے۔ یہاں دو الفاظ “طاقت” اور “بساط” کا استعمال کیا گیا ہے۔ اِس کا مطلب یہ ہیکہ سوشل میڈیا کے بےدریغ استعمال کے دوران دور مار کرنے والے میزائل مارنے سے قبل ہمیں سے دیکھنا ضروری ہے کہ ہماری استطاعت کیا ہے۔ ہم دوستوں کو معلوم ہے پاکستان تمام اسلام دشمن قوتوں کی آنکھوں میں کھٹک رہا ہے، ہمیں یہ بھی معلوم ہے یہ جنگ تمام اسلامی ممالک کو اپنی لپیٹ میں لینے کے بعد پاکستان کی جنوب مغربی سرحد تک پہنچ چکی ہے۔ ہم خارجی اُمور میں اِس سطح تک پہنچ چکے ہیں جو شاہد ہماری سیاسی قیادتوں، دفتر خارجہ کے متعلقہ افسران اور درجنوں کورسیز اور ڈگریاں کرنے والے اعلیٰ فوجی افسران کے نصیب میں نہیں ہے۔ یہ ایک قومی المیہ ہے جس پر نظر ثانی کی ضرورت ہے۔

احباب! ایک بات ذہن نشین کرلیں کہ خارجی امور میں سب باتیں بتانے والی نہیں ہوتی اور کچھ کام کرنے کے باوجود یہ کہنا لازمی ہوتا ہے کہ “ہم نے تو کچھ کیا ہی نہیں ہے۔”اِس سے قبل پچھلے برس جون میں ایران اور اسرائیل کے مابین ہونے والا تنازعہ میں پاکستان نے اِس حد تک ایران کی مدد کی کہ ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے ایرانی پارلیمنٹ میں دوران تقریر پاکستان کی خوب تعریف کی اور اُس ہی لمحہ ایرانی پارلیمنٹ “شکریہ پاکستان” کے نعروں سے گونج اُٹھا۔ بعد ازاں اگست میں ایرانی صدر نے خصوصی طور پر پاکستان کا دو روزہ دورہ بھی کیا تھا۔ جہاں وزیراعظم پاکستان شہباز شریف نے ایرانی صدر کے ہمراہ دو ٹوک اعلان کیا تھا کہ “پاکستان ایران کے پُرامن جوہری پروگرام کی مکمل حمایت کرتا ہے۔” حالیہ تنازعہ کے دوران بھی اقوام متحدہ میں ایرانی مندوب نے پاکستان کا خصوصی شکریہ ادا کیا۔

ہم اپنے تمام طرز کے مسائل(معاشی، سفارتی) کے باوجود ہر لحاظ سے مسلم ممالک کے ساتھ کھڑے رہے ہیں۔ اور بعض اوقات بولنے سے زیادہ بہتر خاموشی سے کھیلا جاتا ہے۔ پاکستان کے مسلم ممالک اور بلخصوص خلیجی ممالک کے حوالے سے کردار پر میں دوستوں سے عموماٙٙ طنز و مزاح میں کہا کرتا ہوں “ایک گھر میں رہنے والے چند بھائیوں میں پاکستان وہ بھائی ہے جس کے پاس اپنے سگریٹ/نسوار کیلئے دس روپے نہیں لیکن جب کوئی اِس کے بھائی کی طرف میلی آنکھ سے دیکھے گا تو سامنے کھڑا ہوجائے گا”

پاکستان دنیا بھر میں ایک نمایاں مقام رکھتا ہے۔ جسے عالم اسلام میں واحد ایٹمی طاقت کی حیثیت حاصل ہے۔ اِس حوالے سے بحیثیت قوم ہماری بھی کچھ ذمہ داریاں ہیں۔ ہمارا سوشل میڈیا کا غیر ذمہ دارانہ استعمال معاشرے اور ملک کیلئے سنگین مسئلہ ہے۔ ہم اِس پلیٹ فارم سے اپنی سیاسی و نظریاتی رائے دوسروں پر اِس انداز میں تھوپنا چارہے ہوتے ہیں جو لمحوں میں ذاتی اختلاف کا باعث بن جاتی ہے۔ ہم سیاسی قیادت اور بٙسا اوقات اداروں کے افسران کو پاکستان سے بھی مقدم سمجھنے لگتے ہیں حالانکہ ایسا نہیں ہونا چائیے۔ پاکستان کی بقا و سلامتی میں ہی سیاستدانوں، افسران اور عام لوگوں کی سلامتی ہے ہمیں اِس ہجوم سے نکل کر قوم بننا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں