تحریر: راجہ عمر فاروق
سرزمین پاکستان کا قیام ایک جستجو اور لگن کا نام ہے، اس مملکت خدادادپاکستان کو معرض وجود میں لانے کے لیے ہزاروں ماؤں نے اپنے بچوں کو قربان کیا، ہزاروں اولادیں یتیم ہوئیں، لاکھوں مسلمانوں کے لیے یہ ملک ہی نہیں ایک خواب اور حقیقت تھی، وہ سر اٹھایا کر اور فخر سے اپنی پاک سرزمین میں جینا چاہتے تھے، وہ عقیدت اور محبت میں سرشار ہوکر سینہ تان کر اس سرزمین کے لیے جانیں قربان کرنے کے لیے تیار تھے، یہ اس مملکت کی زمین کو دنیا کے نقشے میں ایک خودمختار ریاست کے طور پر لانے کے لیے عظیم رہنماؤں نے برصغیر کے مسلمانوں میں ایک جوش و ولولہ بیدار کیا، ہر طرف پاکستان زندہ باد کے نعرے گونجنے گے، پاک سرزمین کے نام پر لوگوں کو رقت طاری ہو جاتا تھا، جوانوں کا لہو گرم رکھا جاتا، علم اور اقدام سے اس مملکت کو سرفروشوں نے سر کٹا کر بھی پیچھے نہ ہٹنے کا عہد وفا کر رکھا تھا، اس ملک کو قیام ایک ناگزیر اور ضروری تھا۔
پاکستان سے محبت اور عقیدت ہر پاکستانی و کشمیری کے ایمان کا حصہ ہے، پاکستان ایک ملک ہی نہیں بلکہ دنیا کے نقشے میں پہلی اسلامی فلاحی ریاست تھی جس کو کلمہ طیبہ اور اسلام کے نام پر قائم کیا گیا، اس سرزمین کے قیام میں ہزاروں لاشے شہداء کے مقام پر فائز ہیں، ان لاشوں کے لہو سے وطن عزیز سے محبت کی خوشبو محسوس ہوتی ہے۔ اس خوشبو کو محسوس کرنے کے لیے ہر پاکستانی اپنے اپنے طور پر ملک سے محبت کا اظہار کرتا ہے، ہر سیاسی قوت اور سیاسی جماعت ایک نظریہ اور سچ کے مطابق ملک سے محبت کا اظہار کرتی ہے۔ آج کا دن آزاد کشمیر اور پاکستان کے عوام سے محبت وہ عملی دن ہوگا جس کو مدتوں یاد رکھا جائے گا۔ آج کا کالم مسلم کانفرنس کی طرف سے پاکستان اور افواج پاکستان سے محبت اور خلوص کے حوالہ سے اہمیت کا حامل دن ہے۔ آج 25مئی کے روز مسلم کانفرنس کی کال پر پورے آزاد کشمیر اور پاکستان کے مختلف اضلاع سے قافلے کوہالہ پل پہنچیں گے پھر وہاں سے کشمیر بنے گا پاکستان ریلی مظفراباد کی طرف روانہ ہوگی راولاکوٹ/باغ کے قافلے مجاہد اول سردار عبدالقیوم خان مرحوم کے مزار پر پہنچیں گے جہاں سے پاکستان زندہ باد اور افواج پاکستان پائندہ باد کے نعروں کی گونج میں ایک عظیم الشان ریلی کشمیر بنے گا پاکستان نکالی جائے گی.
اس ریلی کا بنیاد مقصد پاکستان سے اپنی محبت کا اظہار ہے مسلم کانفرنس نے ہمیشہ پاکستان زندہ باد کا نعرہ لگا کر پاکستان کے اندر استحکام اور معاشی خوشحالی کے لیے اپنا کردار ادا کیا ہے، مسلم کانفرنس کے مرحومین قائدین نے کشمیر بنے گا پاکستان کا نعرہ لگا کر یہ ثابت کیا تھا کہ مسلم کانفرنس اپنے قیام سے لیکر اس وقت اپنے اس نعرے سے پیچھے نہیں ہٹے گی جب تک عرض کشمیر پاکستان نہیں بن جاتا اس وقت مسلم کانفرنس اپنے اس نعرے پر عمل پیرا رہے گی۔ یہ مسلم کانفرنس کا منشور اور نظریہ ہے کہ مسلم کانفرنس کا ہر کارکن پاکستان اور افواج پاکستان کے ساتھ کھڑا ہے، پاکستان سے محبت اور عقیدت کے لیے رئیس الاحرار چودھری غلام عباس مرحوم سے لیکر مجاہد اول سردار عبدالقیوم خان تک نے اپنے اس مقصد کے لیے ایک طویل جدوجہد کی اور اس پار کی کشمیریوں کے حق خودارادیت اور آزادی کی تحریک جو ہمیشہ زندہ رکھنے میں دنیا کے ہر فورم پر اس کا جواب دیا، یہ مسلم کانفرنس کی سیاسی قوت ہی ہے کہ آج اس پار کی کشمیری قوم پاکستان زندہ باد اور کشمیر بنے گا پاکستان کا نعرہ لگا کر اپنی محبت کا اظہار کرتی ہے.
مسلم کانفرنس نے دنیا کے ہر فورم پر کشمیریوں کے حقوق کا دفاع کرنے کے ساتھ ساتھ ان کے حق خودارادیت سمیت بھارتی افواج کے مظالم کے لیے اپنی توانا آواز کو بلند کیا۔ یہی نہیں افواج پاکستان کو ہر محاذ ہر کامیاب و کامران دیکھنے کے لیے مسلم کانفرنس اپنی اس عظیم فوج کی بھرپور طریقہ سے ترجمانی کی افواج پاکستان کی قربانیوں اور لائن آف کنٹرول پر کشیدگی سمیت اپنے جوانوں کی شہادت اور ان سے عقیدت کے لیے مسلم کانفرنس نے ہر موقع پر ایک مضبوط چٹان کی طرح اپنی افواج کے ساتھ کھڑے ہونے کا ثبوت دیا، افواج پاکستان کی قربانیوں اور شہیدوں و غازیوں کے جسد خاکی کو چوم کر اور ان کے کفن کو آنکھوں سے لگا کر پاکستان افواج سے اپنی لازوال اور نہ ختم ہونے والی محبت کا عملی طور پر اظہار کیا۔ 25مئی کی ریلی اس بات کی غمازی ہوگی کہ مسلم کانفرنس اپنی افواج اور مملکت خدادادپاکستان سے وہی محبت اور عقیدت رکھتی ہے جو 1947ء سے قبل برصغیر کے مسلمان روحانی طور پر اپنے اس سرزمین سے محبت و عشق کرتے تھے۔ یہ ریلی ایک منظم اور پرامن ریلی ہوگی اور ہر یونین کونسل اپنے الگ الگ قافلوں کے ساتھ سفر کرتی ہوئی منزل کی جانب رواں دواں رہے گی، یونین کونسل کے صدور قافلے کو منظم کرنے اور اکٹھا رکھنے کے پابند ہونگے اور آرگنائزنگ کمیٹی تشکیل دیں گے جو اس قافلے جو منظم کرئے گی، اس کمیٹی کے ذمہ دار کا فون مرکزی دفتر اور میجر نصر اللہ خان کے ساتھ شئیر کیا جائے گا۔ اس کمیٹی کا ایک فرد قافلے کے شروع میں اور ایک آخر میں ہوگا، آرگنائزنگ کمیٹی اس بات کو یقینی بنائے گی کہ کوئی گاڑی آگے نہ نکلے۔ اگلی گاڑی پچھلی گاڑی کو ساتھ لیکر چلے گی۔
اس ریلی میں صدر مسلم کانفرنس سابق وزیراعظم آزاد کشمیر سردار عتیق احمد خان اس ریلی سے خطاب کرینگے یہ ریلی مظفر آباد سے ہوتی ہوئی واپس اپنے اپنے علاقوں کی طرف اسی منظم اور ترتیب کے ساتھ روانہ ہوگی جس انداز کے ساتھ یہ ریلی چلی تھی۔ اس ریلی میں قائد مسلم کانفرنس سردار عتیق احمد خان کا خطاب انتہائی اہمیت کا حامل ہوگا جس میں پاکستان اور افواج پاکستان سے محبت اور کشمیر بنے گا پاکستان کے نعرے کا عملی طور پر مظاہرہ کیا جائے گا۔سردار عتیق خان اپنے خطاب میں ایک مکمل روڈ میپ اور مسئلہ کشمیر کے حل کے ساتھ ساتھ افواج پاکستان کی کشمیریوں کے لیے لازوال قربانیوں کی ایک طویل داستان بیان کی جائے گی۔ اس ریلی سے ان عناصر کو واضع پیغام پہنچایا جائے گا جو پاکستان کے کمزور کرنا چاہتے ہیں کشمیری قوم کی طرف سے یہ واضع طور پر بتا دیا جائے گا کہ دونوں اطراف کی کشمیری قوم و کشمیری قیادت کشمیر بنے گا پاکستان کے نعرے ہر متفق ہے اور دنیا کی کوئی بھی طاقت کشمیریوں کو ان کے حق خودارادیت اور کشمیر بنے گا پاکستان کے اس نعرے سے دستبردار نہیں کروا سکتی۔ کیونکہ کشمیر اس وقت تک مکمل کشمیر نہیں ہو سکتا جب تک وہ پاکستان کا حصہ بن جائے اور وہ وقت دور نہیں ہے جب کشمیر کا ایک ایک انچ انچ پاکستان کے ساتھ ہوگا.