جنگلوں کی چیختی خاموشی

114

تحریر: نعیم الحسن نعیم
کبھی لمحہ بھر کو تصور کیجیے وہ گھنے جنگل جہاں ٹھنڈی ہوائیں چلتی ہیں، سبز پتوں سے روشنی چھن کر زمین پر پڑتی ہے، درختوں پر بیٹھے پرندے چہچہاتے ہیں، زمین پر چھوٹے چھوٹے کیڑے، چیونٹیاں اور بے شمار مخلوق اپنے معمولاتِ زندگی میں مصروف ہے زندگی رواں دواں ہے۔ لیکن پھر انسان آتا ہے، ایک دیا سلائی جلاتا ہے، ایک سگریٹ پھینکتا ہے، یا صرف مزے کے لیے آگ لگا دیتا ہے۔ لمحوں میں ساری کائنات آگ کی لپیٹ میں آ جاتی ہے۔ چیخیں، سسکیاں، جلا ہوا گوشت، خاکستر تنفس، اور خاموش موت. یہ کوئی فلمی منظر نہیں، یہ وہ بھیانک حقیقت ہے جو ہر سال ہمارے جنگلات میں دہراتی ہے۔جنگلات میں آگ لگانا صرف ماحول دشمنی نہیں، انسانیت کا جنازہ ہے۔ہم بھول جاتے ہیں کہ ان درختوں میں ہماری سانسیں ہیں، ان پتے جھڑتے ہیں تو آکسیجن گھٹتی ہے، اور جب پرندے، کیڑے، چیونٹیاں، اور جنگلی جانور جلتے ہیں، تو وہ رحمتیں بھی رخصت ہو جاتی ہیں جن کا وعدہ رب نے اس مخلوق کے ذریعے ہم سے کیا ہے۔یہ چیونٹیاں، جنہیں ہم حقیر سمجھتے ہیں، ان کے بارے میں حضرت سلیمانؑ کا واقعہ قرآن میں مذکور ہے ایک چیونٹی نے پوری قوم کو بچا لیا، اور نبی نے اُس کے احترام میں مسکرا دیا۔ اور آج ہم انہی چیونٹیوں کو زندہ جلا کر راکھ بنا دیتے ہیں۔یہ پرندے، جو صبح اللہ کی تسبیح کرتے ہیں، جن کی موجودگی اللہ کی رحمت کی علامت ہے، ہم ان کی پناہ گاہوں کو شعلوں کے سپرد کر دیتے ہیں۔یہ جرم صرف قدرت سے نہیں، ربّ العالمین سے دشمنی ہے جنگل میں لگنے والی آگ نہ صرف لاکھوں جانیں نگلتی ہے، بلکہ ماحولیاتی توازن کو برباد کر دیتی ہے۔ زمینی درجہ حرارت میں اضافہ، بارشوں میں کمی، آلودگی میں اضافہ،سانس کی بیماریاں سب اسی ایک جرم کی سزا ہیں۔

جنگلات کسی قوم کا فطری اثاثہ ہوتے ہیں۔ یہ صرف درختوں کا مجموعہ نہیں بلکہ ایک مکمل، زندہ ماحولیاتی نظام (Ecosystem) ہیں۔ ان میں بستے ہزاروں جانور، پرندے، کیڑے مکوڑے، اور نہ دکھائی دینے والی لاکھوں اقسام کی مخلوق ربّ تعالیٰ کی قدرت کی خاموش تسبیح ہیں. مگر جب انسان اپنی نادانی، غفلت یا جان بوجھ کر صرف تفریح، انتقام یا غفلت میں آگ لگا دیتا ہے تو یہ ایک لمحاتی عمل نہیں رہتا، بلکہ یہ زمین پر ایک ایسا داغ چھوڑ جاتا ہے جسے قدرت برسوں بھگتتی ہے۔

جنگل کی آگ کے اثرات (1) بے زبان مخلوق کی نسل کشی:
پرندے جو اپنے گھونسلوں میں بچوں کو چھوڑ کر واپس آتے ہیں، چیونٹیاں جو اپنی بلوں میں خوراک جمع کر رہی ہوتی ہیں، جنگلی بکریاں، ہرن، لومڑیاں، بندر سب اپنی ہی پناہ گاہ میں زندہ جل جاتے ہیں۔ یہ وہ آوازیں ہیں جو سنائی نہیں دیتیں، مگر عرش ہلا دیتی ہیں۔
2. ماحولیاتی توازن کی تباہی
جنگل زمین کو نمی فراہم کرتے ہیں، فضا کو صاف کرتے ہیں، بارشوں کو متوازن رکھتے ہیں۔ جب جنگلات جلتے ہیں، زمین بنجر ہو جاتی ہے، درجہ حرارت بڑھتا ہے، اور بارشیں رک جاتی ہیں۔ یہ آگ صرف ان علاقوں کو نہیں، پوری انسانیت کو متاثر کرتی ہے۔
3. گناہِ کبیرہ:
اسلام میں بلاوجہ کسی جانور یا مخلوق کو تکلیف دینا گناہ کبیرہ ہے۔ جنگل کی آگ لاکھوں جانوں کو ایک ہی وقت میں ختم کرتی ہے یہ قتلِ عام ہے۔ حضرت علی کرم اللہ وجہہ کا قول ہے”جانوروں کے ساتھ وہی سلوک کرو جو تم اپنے لیے چاہتے ہو۔”کیا یہ صرف حکومت کی ذمہ داری ہے؟نہیں یہ ہم سب کی اجتماعی ذمہ داری ہے جب آپ جنگل میں جائیں، کوئی ایسا عمل نہ کریں جس سے آگ لگنے کا امکان ہو: جیسے کہ جلتی ماچس، سگریٹ، یا کوئلہ چھوڑنا۔اگر کسی کو جنگل میں آگ لگاتے دیکھیں، فوری اطلاع دیں۔بچوں اور نوجوانوں کو جنگلات کی اہمیت، اور آگ کے نقصانات کے بارے میں آگاہ کریں۔ایک لمحہ تفریح، صدیوں کا نقصان یہ آگ جسے آپ کھیل سمجھ کر لگاتے ہیں، یہ صرف شعلے نہیں، یہ پرندوں کے گھروں کی تباہی، کیڑوں کی نسلوں کا خاتمہ، اور انسانیت کے منہ پر ایک طمانچہ ہے۔اللّٰہ رب العزت فرماتے ہیں:
“زمین میں فساد نہ پھیلاؤ جبکہ اسے درست کر دیا گیا ہے…” (الاعراف: 56)
جنگلات، صرف سبزہ نہیں یہ زندگی کا تسلسل ہیں۔یہ وہ خاموش محافظ ہیں جو زمین کو سانس دیتے ہیں، فضا کو پاکیزگی بخشتے ہیں، اور مخلوق خدا کے لیے پناہ گاہ بنتے ہیں۔لیکن جب کوئی شخص نادانی، غفلت یا ذاتی مفاد کے تحت جنگلات میں آگ لگاتا ہے، تو وہ صرف درخت نہیں جلاتا وہ زمین کے سینے کو چیرتا ہے، فضا کو زہر آلود کرتا ہے، معصوم جانوروں کی زندگیاں سلب کرتا ہے، اور آنے والی نسلوں کی سانسیں چھین لیتا ہے۔یاد رکھو ہر درخت ایک سانس ہے ہر پتا ایک دعا ہے
یہ صرف شعلے نہیں، یہ ایک خاموش نسل کشی ہے.
جنگلات میں آگ لگانے والا صرف ایک مجرم نہیں، بلکہ قدرت کا قاتل ہے، انسانیت کا دشمن ہے، اور اپنی نسلوں کے مستقبل کا قبر کھودنے والا ہے۔
جنگل میں آگ نہ لگائیں کیونکہ ایک چنگاری ایک گھر چھین سکتی ہے سینکڑوں زندگیاں ختم ہوسکتی ہیں درخت جلیں تو فضا روئے، پرندے جلیں تو فطرت خاموش ہو جاتی ہے۔ علماء کرام سے گزارش
لوگوں کو خطباتِ جمعہ میں آگ لگانے کے نقصانات سے آگاہ کریں یہ فعل شرعاً گناہِ کبیرہ اور قوم و فطرت سے خیانت ہے۔
طلبہ کو پیغام
جنگلوں کو بچائیں، ماحول کی حفاظت کا پیغام دوسروں تک پہنچائیں۔جنگل ہمارے ماحول کا نگہبان ہے۔ جب ہم جنگل میں آگ لگاتے ہیں تو صرف درخت نہیں جلتے ننھے پرندے، ان کے بچے اور جنگلی حیات بھی جل کر ختم ہو جاتے ہیں۔ آئیں ہم وعدہ کریں: جنگل میں آگ نہیں لگائیں گے، اور جو دیکھیں فوراً اطلاع دیں گے۔ اپنی آنے والی نسل کے لیے قدرت کو بچائیں۔”
“چنگاری سے پہلے سوچیں کیونکہ درخت اور پرندے سوچ نہیں پاتے۔”
آگ لگائیں نہیں، آگ بجھائیں۔
درخت جلے تو سب کچھ جلے جنگل بچائیں، زندگی بچائیں۔ عوام سے درخواست
جنگل میں آگ لگانا جرم ہے یاد رکھیں ایک چنگاری سینکڑوں درختوں، پرندوں اور جانوروں کی زندگی ختم کر دیتی ہے۔
جنگل میں سگریٹ یا جلتی چیزیں نہ پھینکیں۔کچرے کو جلانے سے گریز کریں۔اگر کیمپ فائر جلائی ہو تو مکمل طور پر بجھا کر ہی چھوڑیں۔ آگ دیکھتے ہی پر محکمہ جنگلات کے ذمہ دار، سپاہی ، چوکیدار کو بتائیں۔
تنبیہ
جو شخص جنگل میں آگ لگاتا ہے، وہ صرف درخت نہیں جلاتا اپنی آنے والی نسل کی سانسیں بھی جلا دیتا ہے آگ بجھائیں، جان بچائیں درخت لگائیں، رحمت پائیں۔آگ لگانے والے کو نظرانداز نہ کریں اسے قانون کے حوالےکریں.
خدارا آگ مت لگاؤ یہ صرف شعلے نہیں، ہمارے مستقبل کے جنازے ہیں..

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں