گیس کے بحران کے لیے ایک مشورہ

86

تحریر:ثمینہ عامر
پاکستان اور خاص طور پر بڑے شہروں میں کچرے کی مقدار اتنی ہے کہ اسے ضائع نہ کر کے بائیوگس ویسٹ ٹو انرجی منصوبوں میں استعمال کیا جائے تو گیس ہو توانائی کی کمی کو کافی حد تک کم کیا جا سکتا ہے۔کراچی روزانہ تقریبا 165 ٹن فضلہ پیدا کرتا ہے رپورٹوں کے مطابق کراچی کے فضلے میں نامیاتی اورگینک مواد کی خاصی تعداد ہے .

جو بائیو گیس پیدا کرنے کے قابل ہے بڑے فان اور گوشت کے کاروبار کا فضلہ بھی بائیوگس پلانٹ میں ڈالا جا سکتا ہے اس نے مستقل اور سستی گیس پیدا ہوتی ہے ہر شہر اور سند زون کچرے سے بائیوگس پلانٹس لگا سکتی ہے .

خدا کے لیے حکومت اس بات پر توجہ دے کہ جو عوام گیس کا بحران برداشت کر رہی ہے اور گیس کے بل بھی ادا کر رہی ہے اور جب کہ کچرے کی تعداد کراچی میں بے انتہا ہے تو کیوں نہ اس سے گیس بنا کر لوگوں کو تھوڑی سہولت دی جائے کہ عوام کا باہر ا کر شور کرنے کا انتظار ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں