تحریر : ملک اخترشہباز
تحریر:محمد شہباز ملک
وہ ظلم نہیں بھولے، تیری شہادت نہیں بھولے
سکول کی دیوار پر خون کے چھینٹے نہیں بھولے
رستے ہوئے زخموں سے بہتا لہو اور تڑپتے ہو ئے بچے
ابراہیم و منتہا کی آج تلک وہ سسکیاں نہیں بھولے۔
ہم لوگ ابھی تک وہ قیامت نہیں بھولے۔
9 دسمبر 2024 کو میرے بھائی محمد عاطف کو پی ڈبلیو ڈی اسلام آباد میں بے دردی سے شہید کیاگیا۔ جس بابت تھانہ لوہی بھیر اسلام آباد میں ایف آئی آر نمبری 831/24 درج ہے۔ اور عاطف شہید کے اہل خانہ تاحال انصاف کے منتظر ہیں۔ بھائی کی جدائی کا زخم اتنا گہرا ہے جس کو لفظوں کی زبان دینا مشکل ہے۔ عاطف دنیا سے تو چلا گیا لیکن اپنے تازہ لہو سے جرات وبہادری اور خلوص و وفا کی عظیم داستاں رقم کرگیا۔ عاطف کہنے کو تو ہمارا چھوٹا بھائی تھا لیکن وہ ایک بڑے کردار کا مالک تھا ۔ہم پانچ بھائیوں اور دوبہنوں میں وہ سب سے چھوٹا تھا لیکن ہم نے کبھی اسے چھوٹا نہیں سمجھا کہ اس میں بڑا پن تھا فہم و فراست تھی اس کی شخصیت میں سنجیدگی متانت اور ٹھہراو تھا اپنائیت تھی خلوص ووفا تھی وہ حوصلے کا کوہِ گراں تھا وہ اپنوں پہ تن من دھن نچھاور کر نے والا تھا بہن بھائی چھوٹے ہوتے ہیں تو ایک دوسرے سے پیار کرتے ہیں بڑے ہوتے ہیں تو عموما بچپن کی محبتیں باقی نہیں رہتیں لیکن ہم سب بھائی آج تک بچپن کے خواب بچپن کا پیار بچپن کی سانجھ ساتھ ساتھ لے کے چل رہے تھے ۔

آج بچپن کا وہ پیار کھو گیا دل کتنا خالی خالی ہو گیا ہے ہماری آنکھیں وہ موسم تلاش کرتی ہیں کہ جن کا تعلق ہمارے بچپن سے ہے بچپن سے لے کر تا دم حیات عاطف کا سر میرے سامنے ہمیشہ جھکا رہا میری ہر بات اس کے لئے حرفِ آخر تھی جو کہہ دیا اس نے سرِ تسلیم خم کیا وجہ یہ کہ بچپن کی یتیمی نے عاطف کو وقت سے پہلے میچور بنادیا ۔ زندگی کے کٹھن سفر میں عاطف نے آگے بڑھنے کا مصمم عہد کیا تو اس پہ کاربند رہا ۔ تعلیمی سفر میں نہ صرف ہنگامہ خیز سال گزارے بلکہ تعلیمی اداروں میں نمایاں پوزیشن حاصل کرکے ممتاز و منفرد مقام حاصل کیا۔ اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوایا۔ خوب صورت مخلص دوستوں کا گلدستہ بنایا ۔جو زندگی بھر ایک دوسرے پہ محبتیں لٹا تے رہے آج بھی عاطف کے جانے پہ سوگوار ہیں ۔ تعلیم مکمل کی تو کوئی نوکری کرنے کی بجائے عاطف نے اپنا بزنس شروع کیا بہت کم وقت میں کامیابی کے زینے چڑھتا گیا اللہ پاک کے خصوصی فضل وکرم سے اس کا بزنس بہت کامیاب ہوگیا ۔
اس نے اپنے بے پایاں خلوص محبت مروت سے وسیع حلقہ احباب تشکیل دیا ۔ فلاح وبہبود اور عوامی و سماجی خدمت کا کام شروع کیا۔ حیاتِ مستعار کے آخری سانس تک بے کس ناداروں اور بے سہارا غریب لوگوں کے خدمت میں مصروف عمل رہا۔ جس کا اندازہ عاطف کے اس دنیا سے چلے جانے کے بعد ہوا۔ متعدد لوگوں نے بزبان حال اس بات کا تذکرہ کیا کہ کس طرح عاطف مستحق لوگوں کی مدد کرتا تھا ۔اور جس عقیدت جس محبت سے لوگ جنازے میں اور جنازے کے بعد امڈے چلے آئے اس سے احباب کے دلوں میں اس کے پیار کا ثبوت ملتا ہے ۔اسے سب کو جوڑنے کا فن آتا تھا توڑنے کا نہیں ۔وہ محبتیں بانٹتا تھا کہ خود سراپا محبت تھا ۔وہ روتوں کو ہنسانے والا تھا اپنی جیب خالی بھی ہو تو دوسروں کی جیب بھرنے والا تھا ۔عاطف ایک فرمانبردار بیٹا بہترین بھائی مثالی باپ ، وفادار خاوند اور مخلص دوست تھا۔ اس کی زندگی کی اتنی جہتیں تھیں کہ سوچیں تو انسان ورطہ حیرت میں پڑ جاتا ہے کہ کوئی انسان اتنا multidimensional بھی ہو سکتا ہے ۔ کوئی اپنا چلا جائے تو ہم آنسو بہاتے ہیں عاطف کے جانے پہ ہم نے ہر کسی کو دھاڑیں مار مار کے روتے دیکھا ہے ۔
موت اس کی ہے کرے جس کا زمانہ افسوس
یوں تو دنیا میں سبھی آتے ہیں مرنے کے لئے ۔
اللہ پاک عاطف شہید کو غریق رحمت کرے اور اس کے قاتلوں کو دنیا و آخرت میں ذلیل ورسوا کرے۔ آمین ۔