آزاد کشمیر خوابوں کی تعبیر یا حقیقت کا فسانہ(قسط 2)

168

تحریر: نعیم الحسن نعیم
78 سال بیت گئے مگر آزاد ریاست کی تعبیر آج بھی ادھوری ہے۔ دنیا چاند پر پرچم گاڑ چکی ہے مصنوعی ذہانت سے نئی دنیائیں بنا رہی ہے اور ہم آج بھی ٹوٹی کھمبے نالی کالے پائپ کچی پکی سڑک اور پکی گلیوں اور پکے راستوں کے وعدوں میں الجھے ہوئے ہیں۔ریاستی عوام کو ہر دور میں خواب دکھائے گئے امید کے چراغ جلائے گئے اور ہر بار ٹرک کی وہی بتی تھمائی گئی جس کے پیچھے چلتے چلتے آج نسلیں تھک چکی ہیں۔ کبھی گھوڑے کو نجات دہندہ بنایا گیا کبھی تیر کے مقدر گائے گئے کبھی شیر کے غرور میں نعرے لگے اور کبھی بلے نشان کو خوشحالی کا ذریعہ سمجھا گیا مگر حاصل؟ صرف محرومی صرف خاموشی صرف اندھی تقلید۔یہاں سیاست عبادت نہیں مفاد کا کھیل ہے۔ اقتدار کے سوداگر ہر پانچ سال بعد نیا لباس پہنتے ہیں نئی وفاداری نبھاتے ہیں اور پرانے وعدے کسی گلی کی دیوار پر مٹی میں دفن ہو جاتے ہیں۔ عوام؟ وہ آج بھی جلسوں میں جھنڈے لہرا کر نعرے لگاتی ہے گویا خوشحالی نعرے لگانے سے آتی ہو۔ہمارے سکولوں میں بچے آج بھی ٹوٹی لکڑی کے بینچوں مٹی سے اٹے فرش اور کھڑکیوں سے محروم کمروں میں بیٹھ کر مستقبل کے خواب دیکھتے ہیں۔ نہ چھت محفوظ ہے نہ سہولت میسر لیکن ان معصوم آنکھوں میں امید آج بھی زندہ ہے کہ شاید کبھی یہ ریاست تعلیم کو سیاست سے نکال کر سنجیدگی سے لے۔ کئی دیہات آج بھی سکول کی سہولت سے محروم ہیں۔ ہمارے ہسپتال محض عمارتیں ہیں جہاں دوا نہیں سہولت نہیں بس کاغذی دعوے ہیں۔تعلیم، صحت روزگار سب سیاست کی بھینٹ چڑھ چکے ہیں اور عوام کو صرف خاموشی کا سبق یاد کروایا گیا ہے۔

ہمارے نوجوانوں کے ہاتھوں میں ڈگریاں ہیں مگر ان ڈگریوں کی حیثیت کاغذ کے ایک بوجھ سے زیادہ نہیں۔ تعلیم مکمل کرتے ہی ان کے خواب نوکری کی تلاش میں دربدر ہو جاتے ہیں۔ سسٹم ایسا ہے کہ میرٹ صرف کتابوں میں رہ گیا ہے اور عملی زندگی میں صرف سفارش تعلق اور کرسیوں کے نیچے رکھی ہوئی فائلیں بولتی ہیں۔ جس کے پاس سفارش ہے اسے دفتر بلا لیا جاتا ہے جس کے پاس نہیں وہ لائنوں میں ذلیل ہوتا ہے۔ ذہانت محنت اور قابلیت کی کوئی قیمت نہیں یہاں نوکری کا معیار صرف “کس کے بندے ہو” ہے۔ ریاستی دعوے ہر سال نوجوانوں کے لیے مواقع پیدا کرنے کے وعدے کرتے ہیں مگر حقیقت میں نوجوان صرف تقریروں کا ایندھن بن کر رہ گئے ہیں۔ یہ وہ ریاست ہے جہاں پڑھا لکھا نوجوان مایوسی کے اندھیروں میں گم ہو رہا ہے اور پھر پوچھا جاتا ہے کہ بے چینی کیوں ہے جرم کیوں بڑھ رہا ہے ہنر کیوں ضائع ہو رہا ہے؟ جو معاشرہ اپنے نوجوان کو روزگار نہیں دیتا وہ صرف غربت نہیں بڑھاتا وہ مستقبل کا جنازہ خود اپنے ہاتھوں سے تیار کرتا ہے۔

78 سال ایک طویل عرصہ ہزاروں وعدے اور لاکھوں خواب۔ مگر آج جب ہم آزاد کشمیر کی زمینی حقیقت پر نظر دوڑاتے ہیں تو صرف سوال دکھائی دیتے ہیں جواب نہیں۔عوام نے ہر حکومت کو موقع دیا ہر لیڈر کو عزت دی ہر نعرے پر یقین کیا۔ مگر بدلے میں ملا تو صرف اعلانات اخباری بیانات تختیاں فیتے افتتاح اور تصویریں۔ حقیقی ترقی کہیں نظر نہیں آئی۔ آج بھی آزاد کشمیر کا نوجوان روزگار کی تلاش میں دربدر ہے۔ یہاں کوئی صنعت نہیں کوئی فیکٹری نہیں کوئی ایسا معاشی منصوبہ نہیں جو عام انسان کے لیے روزی کا در کھولے۔قیمتی جنگلات کو بےرحمی سے کاٹ دیا گیا۔ پہاڑوں کا حسن کرپشن کی بھینٹ چڑھ گیا۔ مٹی تک نیلام کر دی گئی۔ ماحول برباد ہوا وسائل لوٹے گئے مگر بدلے میں عام شہری کے ہاتھ کچھ نہ آیا۔ترقی کے نام پر جو کچھ کیا گیا وہ یا تو کرسیوں کی سیاست کے لیے تھا یا پھر جیبیں بھرنے کے لیے۔ تعلیمی ادارے ہیں مگر معیار صفر ہسپتال ہیں مگر سہولیات ناپید سڑکیں ہیں مگر خستہ حال۔ عوام نے بار بار قربانیاں دیں، مگر بدلے میں صرف محرومیاں ہی ملیں۔

78 سال بعد بھی اگر ہم اپنے نوجوان کو باعزت روزگار نہیں دے سکے، اپنی زمینوں کی حفاظت نہیں کر سکے اور اپنے وسائل کو محفوظ نہیں بنا سکے تو یہ جشن نہیں شرمندگی کا مقام ہے۔آزاد کشمیر میں گذشتہ 78 سالوں کا المیہ یہ ہے کہ نہ تو کوئی ایسی فیکٹری یا صنعتی منصوبہ قائم کیا جا سکا جو ایک غریب باپ کے بیٹے کو روزگار کی راہ دکھائے نہ کوئی ایسا معاشی منصوبہ سامنے آیا جو ہماری بیٹیوں کو باعزت اور خودمختار روزگار فراہم کر سکے۔ بے روزگاری نے ہماری نوجوان نسل کی تقدیر پر ایک کالی چھاپ لگا دی ہے اور ہر وعدہ ہر دعویٰ صرف دکھاوے کا مظہر بنا رہا۔ یہاں کی حکمران اشرافیہ اپنی ذات کی آسائش میں غرق ہے جبکہ نوجوان طبقہ محنت کی روٹی سے محروم بے سہارا اور مایوس گھوم رہا ہے۔ ہماری بیٹیاں اور بیٹے جو اپنے ہاتھوں میں روشن مستقبل کے چراغ تھامے ہوئے تھے آج بھی اندھیروں میں ڈوبے ہوئے ہیں۔ یہ ظلم اور ناانصافی صرف ہمارے خوابوں کی جیت نہیں بلکہ ہماری نسلوں کی تباہی کا سبب ہے۔ ہم نے ترقی کے دعوے تو بہت سنے مگر ان دعووں کے پیچھے کوئی عمل نہ تھا کوئی حقیقت نہیں تھی۔ وقت آ گیا ہے کہ ہم ان زنجیروں کو توڑیں اپنی زمین کی تپتی ہوئی حقیقتوں کا سامنا کریں اور ایک ایسا نظام قائم کریں جو محنت کی قدر کرے نوجوانوں کے خوابوں کو حقیقت کا رنگ دے اور ہماری قوم کو عزت اور وقار کے ساتھ جینے کا حق دے۔ ورنہ یہ زمین ہمیشہ محرومی اور بے روزگاری کی بھٹی میں جلتی رہے گی۔

ان 78 سالوں میں ترقی کا وہ منظر جو عوام کے لیے کبھی نہیں آیا صرف حکمرانوں کی اولاد کے لیے تھا۔ اشرافیہ کے بچے بیرون ممالک کی بڑی بڑی یونیورسٹیوں میں تعلیم حاصل کرتے ہیں دنیا کی بہترین سہولیات ان کے حصے میں آئیں۔ ان کی جیبیں بھر گئیں بڑے بڑے پلازے محلات اور عیش و آرام کی زندگی ان کا مقدر بنی۔ جبکہ ریاستی عوام ہر دور میں کہیں لاڑکانہ کہیں ماڈل ٹاؤن اور کہیں بنی گالہ کی طرف امید کی نظر سے دیکھتے رہے کبھی سچائی کی کوئی کرن دکھائی نہ دی۔ ان کی محنت ان کے خواب ان کی زندگیوں کا سودا حکمرانوں کی خوش حالی کے سامنے روند دیا گیا۔ یہی ہے آزاد کشمیر کی وہ تلخ حقیقت جسے چھپانا ممکن نہیں جہاں ترقی صرف چند مخصوص خاندانوں اور طبقوں کی خصوصی سہولت بن کر رہ گئی ہے اور عام آدمی کی زندگی مسائل محرومیوں اور بے روزگاری کے سوا کچھ نہیں۔
یہ وقت ہے کہ ہم اس ناانصافی کو پہچانیں ورنہ یہ خواب ہمیشہ خواب ہی رہیں گے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں